بند کریں
خواتین مضامینمضامینخواتین کا عالمی دن

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
خواتین کا عالمی دن
ہر سال مارچ کے مہینے میں خواتین کا عالمی دن زور و شور سے منایا جاتا ہے۔ خواتین کے حقوق کی بات کی جاتی ہے اور ان کی حیثیت کو ایک دن کے لیے تسلیم بھی کر لیا جاتا ہے۔
صدف ایمان:
ہر سال مارچ کے مہینے میں خواتین کا عالمی دن زور و شور سے منایا جاتا ہے۔ خواتین کے حقوق کی بات کی جاتی ہے اور ان کی حیثیت کو ایک دن کے لیے تسلیم بھی کر لیا جاتا ہے۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا ہمیں ہمارے حقوق ایک مسلم گھرانے میں آنکھ کھولتے ہی مل جاتے ہیں۔ قبل از اسلام عورت کے حقوق پامال تھے نہ ان کی عزت تھی اور نہ ہی ان کی عظمت کی حفاظت۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو مغربی تہذیب ہمیں آج یعنی صنف نازک کے حقوق کی بات آج کر رہی ہے اور ہم لوگ یہ دن عالمی طور پر اسکولز، کالجز اور دیگر جگہوں پر تقریبات کر کے مناے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں ”خواتین کے حقوق“ وہی بات اگر ہم اپنے اسلام اور مذہب پر غور کریں تو معلوم ہو گا کہ اسلام وہ واحد مذہب ہے جس میں عورت کو جتنی عزت دی گئی کسی اور مذہب میں حاصل نہیں ہے۔
اسلام ہی وہ روشن مشعل ہے جس کی کرنوں نے ایک مسلم عورت کو مان، شان ، عزت، عصمت ، عافیت ، تحفظ، تسکین سے جاوداں کر دیا۔ یہاں تک کہ جنت کا مالک بنا دیا۔ مغربی اور مشرقی تہذیب دو الگ الگ چیزیں ہیں دونوں تہذیبوں کا نقطہ نگاہ کلی طور پر الگ الگ ہے اور اگر دیکھا جائے تو دونوں کی سمت بھی جدا جدا ہیں پھر بھی ہماری آنکھیں مغربی تہذیب کی چکا چوند سے خیرہ ہیں وہاں کی عورت جو لباس زیب تن کر لے اس میں عزت سمجھی جاتی ہے لیکن اس بات پر غور نہیں کرتی کہ ہمارے مذہب اسلام میں عورت کو جتنے حقوق دئیے گئے ہیں اور جو مقام دیا گیا کیا کسی اور مذہب میں اس کی مثال ملتی ہے؟ مذہب اسلام میں عورت کو ”اچھوت“ نیچ نہیں کہا گیا۔ اسلام سے قبل عورت کا جائیداد میں کوئی حصہ نہیں تھا اور نہ عورت کو اس قابل سمجھا کہ وہ کسی حصہ کی دعویدار ہوتی۔ مگر مذہب اسلام نے عورت کا جائیداد میں حصہ مقرر کیا۔ سوتیلی بیٹی، سوتیلی ماں تک کو احترام دیا گیا۔ اس مقدس کتاب قرآن جو تمام کتابوں سے افضل ہے، عورت سے متعلق واضح احکامات صادر فرمائے گئے اور یہاں تک کہ ایک پوری سورت (سورہٴ نساء ) عورت پر اتاری گئی۔ عورت کی مالی حالت کو بھی مستحکم کیا۔ شادی کے لیے مہر مقرر کیا گیا ، مہر پر اسے اختیار دیا گیا۔ مردوں کا پابند کیا گیا کہ وہ خوش دلی سے مہر ادا کریں۔
عورت کو چھوڑنے جیسے طلاق، ملع کے قوانین و اصول بیان کئے گئے۔ ان سب کے باوجود مسلم عورتیں مغرب سے متاثر نظر آتی ہیں۔ تف ہے ہم پر کہ اس تہذیب سے جس میں شادی کرنے سے پہلے سالوں انڈر سٹینڈنگ کے نام پر ساتھ گزارے جانے میں فیصلہ کیا جاتا ہے۔ جہاں کی عورت لمحہ لمحہ چوراہوں پرکھڑی نظر آتی ہے۔ جہاں جب چاہا عورت کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اور جب چاہا اپنا لیا جاتا ہے۔ جہاں کی عورت کپڑے پہننے کے نام پر کترنیں پہنتی ہے۔ کھلا نظارہ، کھلی آزادی کے نام پر بے حیائی کی زینت ہے ، عورت کو مقدس بنا دیا۔ چار دیواری میں اس کے تحفظ کے حقوق مقرر کر دئیے گئے۔ماں کا رتبہ عطا کر جنت کا مالک بنا دیا۔ اگر بیٹی بنایا تو گھر میں نازل ہونے والی رحمت قرار دیا۔ اس شخص کو جنت کی ضمانت دے دی۔خود دو جہاں کے محبوب حضور نے فرما دیا کہ جس نے بیٹیوں کی اچھی پرورشن کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔ بہن کی صورت میں بھائی کا مان بنا دیا اور بیوی کی صورت میں مکمل گھر ہستی عطا کر کے سکون بنا دیا۔ تو کیا پھر یہ ہماری کم نصیبی نہیں ہے کہ ہم نے نہ ہی اچھی ماں بن کر اسلامی خطوط پر اولاد کی پرورش کی۔ نہ اچھی بیٹی بن کر اپنی رحمت کو ثابت کر سکیں۔ نہ اچھی بہن کر بھائیوں کے مان کو برکت دے سکیں۔ اور نہ ہی ااچھی بیوی بن کر شوہر کی تسکین کا باعظ بن سکیں اس کی جگہ تلخی و عذاب بن گئیں۔ بالکل ہے ہماری کم نصیبی کہ جب ہمارے مذہب نے اتنے حقوق عطا کر دئیے۔ اتنا احترام ، اتنا مان ، اتنی عزت و عرفت عطا کردی تو ہم کسی اور کیوں متاثر ہوں۔ بات خواتین کے عالمی دن کی نہیں ہے ، بات یہ ہے کہ جو تہذیب جو قانون ہیں ایک دن کے لیے حقوق دیتی ہے وہی حقوق ہمارے اسلام نے ، ہمارے مذہب نے ہمیں مستقل طور پر عطا کر دئیے تو ہم عارضی طور اپنے حقوق کیوں لیں؟جب ہمیں دائمی حقوق ملے ہوئے ہیں ، اسلام نے حقوق اور ذمہ داریوں کا دائرہ الگ کر کے مردو عورت کے مقام کا واضح طور پر تعین کیا ہے۔ اور اس وقت اسی مغربی تہذیب جو حقوق نسواں کے علمبردار بنے ہوئے ہیں اور اسکا اقرار بھی کیا ہوا ہے جبکہ اسی تہذیب نے نسوانی حرمت کی توہیں بھی سب سے زیادہ کی ہے۔ اور یہی تہذیب عورتوں کے حقوق کی بات کرتی ہے اور ہماری مسلم خواتین ان کی قید میں ظلم س ستم سہتی ہیں۔
اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ مغربی تہذیب عافیہ صدیقی جیسی کتنی خواتین کی بے حرمتی کر چکی ہے اور کر رہی ہے لیکن ہم صرف ان کی زبان دیکھتے ہیں ان کا عمل نہیں۔ ہمیں ان کی وہ سازشیں نظر نہیں آتیں جو وہ مسلم اقتدار کی پامالی کے لیے کرتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم مغربی تہذیب کے لیے کھلونے بنے ہوئے ہیں اور انہیں مکمل اجازت دی ہوئی کہ وہ ہم سے جس طرح چاہیں فائدہ اْٹھائیں۔ میرا مقصد صرف اتنا ہے کہ ہمیں اپنے حقوق کا ادراک ضرور ہونا چاہیے انہیں لینے کے لیے کوشش بھی کرنی چاہیے لیکن حقوق بھی وہ جو دائرہ اسلام میں ہو۔ بے راہ روی میں داخل ہوتے ہوئے نہ ہوں۔ وہ حقوق جن میں ہماری عزت ہو نہ کہ توہین ہو۔
صرف اتنا کہوں گی کہ اموت المومنین رضی اللہ عنہا ہمارے لیے مثال ہیں۔ انہوں نے بھی ماں، بیٹی ، بہن ، بیوی کے منصب نبھائے اور ایسے نبھائے کہ دنیا انگشت دندان رہ گئی۔ نہ ہی انہوں نے آزادی کے نعرے لگائے اور نہ ہی بے پردگی اپنائی۔پھر ذرا سوچیں ہم ان کے بارے میں ایک غلط لفظ بولنا تو درکنار، سوچ بھی نہیں سکتے۔ آخر ایسا کیوں؟ بہت آسان جواب ہے کہ انہوں نے اسلامی تعلیمات سے رو گردانی نہیں کی تھی۔ اسی طرح ہماری بقاء بھی ہمارے مذہب میں ہے۔ ہمارے اسلامی اور شرعی حقوق میں ہے۔ دوسری جانب مرودوں کو چاہیے کہ جب عورتیں ان کے حقوق کا خیال رکھتی ہیں تو وہ بھی ہر صورت میں ان کے حقوق کی پاسداری کریں۔ چاہے وہ ماں کے حقوق ہوں یا پھر بہن ، بیوی ، بیٹی کے حقوق۔ اور صرف اتنی نصیحت کہ اسلام نے عورت کو تقدس بخشا ہے۔ اسکے چلنے ، پھرنے ، اٹھنے اور بیٹھنے سے لے کر اسکے سجنے، سنورنے تک ہر ہر چیز پر ایک مقدس عطا کر کے اسے نکھار دیا ہے۔ اسلام نے عورت کے قدم کو تقدس دیا کہ وہ آہستہ چلے کہ اسکی طرف اٹھنے والی نگاہ میں احترام ہو جائے۔ اسلام نے عورت کے چہرے کو تقدس دیا کہ وہ گندی اور بھوکی نظروں سے محفوظ رہے۔ اسلام نے عورت کو تقدس دیا ہے کہ وہ ہر گندگی اور غلط بات سے محفوظ رہے۔ صرف اسلام سمجھنے کی بات ہے۔ کاش ہر مسلمان عورت اپنی شان، تقدس اور مقام پہچان لے۔ رب تبارک و تعالیٰ ہر مسلم عورت کی روا کی حفاظت فرمائے اور اس کو عافیت و تحفظ میں رکھے۔
آمین!

(0) ووٹ وصول ہوئے