Khawateen Ka Aalmi Din Aik Lamha Fikria

خواتین کا عالمی دن․․․اک لمحہ فکریہ

پیر مارچ

Khawateen Ka Aalmi Din Aik Lamha Fikria

ہر گھر میں بیمار شخص یا بچے کی دیکھ بھال خواتین کے ذمے ہوتی ہے ۔اس لئے بھی انہیں صحت سے متعلق تمام ضروری معلومات کا ہونا ضروری ہے ۔اگر وہ تعلیم یا فتہ ہوں گی تو اپنی اور کنبے کی صحت کا تحفظ کر سکیں گی۔بچے کی دیکھ بھال ،دودھ پلانا،صحیح پرورش کرنا ،بیماریوں کے خلاف انہیں حفاظتی ٹیکوں کا کورس کروانا اور عمر بڑھنے کے ساتھ ان کا مناسب خیال رکھناان کے اہم کاموں میں شامل ہیں ۔

ہماری خواتین بے لوث کام کرتی ہیں وہ اکثر کم تعلیم اور ناکافی سہولتوں کے باوجود خاندان اور معاشرے کو بحال رکھنے میں اہم کردارا دا کررہی ہیں۔
گھریلو کام کاج بوجھ ہر گز نہیں
اکثر حالات مختلف ہوتے ہیں گھر یلو کام کاج صحیح منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث بوجھ لگنے لگتے ہیں ۔خاص کر زچگی کے دوران ذمہ داریوں کی تقسیم نہ ہونے کے سبب اس کی صحت متاثر ہوتی ہے اگر وہ ملازمت کرتی ہے تو کام پر بھی اثر پڑتا ہے ۔

(جاری ہے)


اگر خدانخواستہ زچگی میں مناسب دیکھ بھال یا علاج معالجہ نہ ہونے کی وجہ سے انتقال کر جائے یااس کا بچہ مر جائے تب بھی پورا خاندان متاثر ہوتا ہے ۔
صنفی امتیاز،معاشرے کا ناسور
دنیا کے کئی ممالک میں لڑکی کو لڑکے کے مقابلے میں بہت کم اہمیت دی جاتی ہے ۔لڑکی کی پیدائش پر اس کے نصیب اچھے ہونے کی دعا کی جاتی ہے دعا کی حد تک تو صنفی تعصب نظر نہیں آتا کہ لڑکے کی پیدائش پر بھی اس کے نیک اور صالح فر ما نبردار اور خدمت گزارہونے کی دعا مانگی جاتی ہے تاہم ایک تجزےئے کے مطابق5برس تک کے بچوں میں لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں کو 16فیصد زیادہ کیلوریز والی غذا دی گئی جس سے 14فیصد لڑکیاں غذا کی کمی کا شکار ہوئیں جبکہ لڑکوں میں یہ شرح 5فیصد تھی۔


بچوں کی پیدائش کے دوران ماؤں کی اموات
ترقی پذیر ممالک میں بچوں کی پیدائش کے دوران ماؤں میں اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے ،لیکن اس مسئلہ کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی اور بہت سے ممالک میں نہ ہی اس کا ریکارڈرکھاجاتا ہے ۔
عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق 164ممالک میں صرف 75ملکوں میں اموات کی شرح کا تعین کیا گیا ہے باقی 117ممالک میں سے 73ملکوں میں اس شرح کو اہمیت نہیں دی جاتی اور کچھ ملکوں میں اعداد وشمار فرضی طور پر بتائے جاتے ہیں ظاہر ہے کہ ان پر بھی صحت کا شبہ ہونا یقینی امر ہے ۔


عالمی ادارہ صحت دنیا بھر کے کوائف جمع کرتا ہے اور اس رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 50ہزار خواتین زچگی کے دوران اور بعد میں انتقال کر جاتی ہیں ۔ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شرح غریب ممالک میں اکثریت پر مشتمل ہے۔
ماؤں کی اموات کی بنیادی وجہ
بنیادی مسائل میں خون کی کمی ،زائد خون بہہ جانے اور بروقت کسی انفیکشن کا علاج نہ ہونا شامل ہے ۔


بچے کی پیدائش کے دوران مناسب دیکھ بھال اورمحفوظ ترین طبی سہولتوں کی کمی سے ماں اور بچے دونوں کی صحت متاثر ہوتی ہے ۔حتیٰ کہ موت بھی مواقع ہو سکتی ہے ۔آئندہ کے لئے Urineکی نالیوں کی بیماریوں اور دیگر نسوانی بیماریوں کی وجہ سے بھی زندگی متاثر ہوتی ہے ۔
ناقص غذا اور آلودہ پانی بھی خراب صحت کی ایک اہم وجہ ہے۔ایسی ماں بچے کو قدرتی دودھ نہیں پلاسکتی۔

وہ خون کی کمی کا شکار ہو جاتی ہیں۔
مناسب وقفے کے بغیر بچوں کا جنم بھی عورت کی صحت کو بری طرح متاثر کرتا ہے ۔
ڈائریا اور ملیریا وہ جائے تو کم وزن کے بچے پیدا ہونے کی شکایات آتی ہیں ۔
غیر ضروری طور پر اضافی خوراک موٹاپے کا شکار بنا سکتی ہے اور دستیاب ہونے والی یکساں خوراک بھی خرابی صحت کا باعث بن سکتی ہے اس لئے متوازن غذا کا تصور عمر کے ہر دور میں ضروری قرار دیا جاتا ہے۔


ماں بننے کے عرصے میں جو خواتین زیادہ جسمانی قوت والے کام کرتی ہیں ،آرام کا خیال نہیں رکھ پاتیں وہ بھی مسائل میں گھر جاتی ہیں ۔ان خواتین کا وزن معمول کے مطابق نہیں بڑھ پاتا جو زچگی میں طبی وسائنسی پہلوؤں سے درست خیال کیا جاتا ہے ۔
غربت کے ہاتھوں مجبور ایسی خواتین جو ماں بننے کے دوران صنعتی و کیمیائی اشیاء بنانے والے اداروں میں کام کرتی ہیں ان کی اور ہونے والے بچے کی صحت خاص کر پھیپھڑوں اور سانس کے امراض لاحق ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ۔


شادی کی عمر،بچے کی پیدائش
ماں کی عمر بہت اہمیت اس لئے رکھتی ہے کہ کم عمر مائیں جسمانی طور پر طاقتور نہیں ہوتیں ۔ترقی پذیر ملکوں میں شادی کی عمر میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ غریب ملکوں میں روایتی تصور کی مطابق سترہ یا اٹھارہ برس کی بچی کو بھی بیاہ دیا جاتا ہے ۔چھوٹی عمر کی شادی کو روایتاً پسندیدہ قرار دیا جاتا ہے جبکہ یہ عمر جسمانی کمزوریوں پر قابو پانے کے لئے آئیڈل ہوتی ہے ۔


مان لیجئے کہ عورت ہونا بڑی سعادت ہے مگر اس سعادت کو زحمت میں بدلنے میں عورت کی Biologyسے زیادہ معاشرے کی زینت کا دخل ہے ۔

آئین پاکستان کی سفارشات پر غور کیجئے تو آئین مرد اور عورت کی کہیں تخصیص نہیں کرتا۔وہ اسے آزاد شہری اور ذمہ دار شخصیت کے طور پر زندگی گزارنے کا حق دار قرار دیتا ہے ۔آرٹیکل 25اور37میں مرد اور عورت دونوں کو بلا تفریق حقوق دےئے گئے ہیں جبکہ آرٹیکل 14میں انہیں گھر بنانے اور اسے خوشگوار طریقے سے چلانے کی ذمہ داری میں فریق کی حیثیت سے ذمہ دار قرار دیا گیا ہے ۔قائد اعظم نے مسلم یونیورسٹی یونین علی گڑھ کے جلسے میں کہا تھا”کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک کہ اس کی خواتین مردوں کے ساتھ کام نہ کررہی ہوں۔“

تاریخ اشاعت: 2019-03-25

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Khawateen Ka Aalmi Din Aik Lamha Fikria" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.