Khawateen Ke Paas Kitni Doulat Hai

خواتین کےپاس کتنی دولت ہے

جمعرات مئی

Khawateen Ke Paas Kitni Doulat Hai

ایک امریکی میگزین میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق دنیا بھرکے ارب پتی افراد کی فہرست میں 286 خواتین بھی شامل ہیں جو کل ارب پتی افراد کا 12.3 فیصد بنتا ہے۔ یہ ارب پتی خواتین 114.6 ارب ڈالر کی مالک ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ عمر کی ارب پتی خاتون92برس جبکہ کم عمرترین ارب پتی خاتون کی عمر 42 برس ہے۔ میگزین کے مطابق ان خواتین میں سے صرف 17 فیصد ایسی ہیں جنہوں نے اپنی محنت سے دولت کمائی جبکہ باقی ماندہ کو یہ دولت وراثت میں ملی ہے۔

زیادہ تر ارب پتی خواتین کا امریکہ سے تعلق ہے۔ کاروبار میں خواتین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی سے اس بات کابھی امکان ہے کہ 2015 کے آخرتک ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گا۔

جینا رائن ہاٹ آسٹریلیا کی امیر ترین خاتون ہیں
خام لوہے کے کانوں کی آسٹریلین مالکن 61 سالہ جینا رائن ہاٹ (Gina Rinehart)آسٹریلیا کی امیر ترین خاتون ہیں۔

(جاری ہے)

جینامعدنیات نکالنے اورکانوں کی کھدائی کے بزنس سے متعلقہ آسٹریلیا کی ایک بڑی کمپنی ہین کوک پراسپیکٹنگ (Hancock Prospecting)کی چیئرپرسن اورفیئر فیکس میڈیا لمیٹڈ(Fairfax Media Limited) کی سب سے بڑی شیئر ہولڈر ہیں۔

1954میں ہوپ مارگریٹ نکولس (Hope Margaret Nicholas)اور لینگ ہین کوک(Lang Hancock) کے گھر آنکھ کھولنے والی جینا نے 1992 میں اپنے والد لینگ ہین کوک کے انتقال کے بعد ہین کوک پراسپیکٹنگ کا کنٹرول سنبھالا اور اسے کامیابی سے آگے بڑھایا۔ فوربز کے مطابق ان کی مجموعی دولت تقریباً11.7 ارب ڈالرہے۔آسٹریلیا کی امیر ترین خاتون ہونے کے باوجود انہیں گلہ ہے کہ ان کے 5بچوں کوان کی دولت اور محنت کی بالکل قدر نہیں ۔

والدین کے ترکے کے معاملے پر انہیں اپنے خاندان میں مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا اسی وجہ سے 2014میں وہ اپنے سگے بیٹے کی شادی میں بھی شریک نہ ہوئیں۔آسٹریلیا کی امیر ترین خاتون ہونے کے باوجودانہیں گلہ ہے کہ ان کے 5بچوں کوان کی دولت اورمحنت کی بالکل قدر نہیں

45سالہ ژوقوفی چین کی مالدار ترین خاتون ہیں
انتہائی غربت اور مفلسی میں پیدا ہونے والی ژوقوفی(Zhou Qunfei) اس وقت8.1ارب ڈالر اثاثوں کے ساتھ چین کی امیر ترین خاتون قرار دی جاتی ہیں۔

ایک وقت تھا جب انہیں فیس نہ ہونے کے باعث سکول سے نکال دیا گیا تھا۔اس وقت ژو لینز ٹیکنالوجی(Lens Technology) نامی بڑی کمپنی کی چیف ایگزیکٹو ہیں۔ان کی کمپنی دنیا بھر کے موبائل فونز کے لئے ٹچ سکرین بناتی ہے ،ایپل اور سام سنگ بھی ان کے کسٹمرز میں شامل ہیں۔1970میں چین کے ایک دور افتادہ گاؤں میں پیدا ہونے والی ژوکو5سال کی عمر میں والدہ کے انتقال کا صدمہ اٹھانا پڑا کچھ ہی عرصے بعد فیکٹری میں کام کے دوران ژو کے والد بھی ایک حادثہ میں اپنی بینائی کھو بیٹھے ۔

16برس کی عمر میں جب فیس نہ ہونے کی بنا پرانہیں سکول سے نکالا گیا تو مجبوراً انہوں نے ایک فیکٹری میں کام شروع کردیاجہاں گھڑیوں کے لینز تیار کئے جاتے تھے۔تب ژو کی یومیہ اجرت ایک ڈالر سے بھی کم تھی لیکن وہ16,16گھنٹے کام کرکے ترقی کی منازل طے کرتی رہیں۔اپنی کئی برسوں کی جمع پونچی یعنی تین ہزار ڈالرز کے ساتھ ژو نے جب ذاتی کاروبار کا آغاز کیاتو ایک موقعہ ایسا بھی آیا کہ ا نہیں اپنا گھر بیچ کر ملازمین کی تنخواہیں دینی پڑیں لیکن ژو نے پھر بھی ہمت نہ ہاری۔

2003میں جب دنیا بھر میں سمارٹ فونز کو مقبولیت حاصل ہوئی تو جیسے ژو کی سوئی ہوئی قسمت بھی جاگ اٹھی۔ انہوں نے سمارٹ فونز کے ٹچ سکرین بنانے شروع کردئیے اورپھر ترقی کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔ آج وہ دنیا کی مضبوط ترین معیشتوں میں شمار کئے جانے والے ملک چین کی امیر ترین خاتون قرار دی جاتی ہیں۔ان کی کمپنی دنیا بھر کے موبائل فونز کے لئے ٹچ سکرین بناتی ہے ، ایپل اور سام سنگ بھی ان کے کسٹمرز میں شامل ہیں
باپ کھرب پتی … بیٹیاں ارب پتی
لبنانی نژاد کھرب پتی میکسیکن تاجر کارلوس سلم(Carlos Slim) میکسیکو کی مواصلات کی دنیا پر حکومت کرتے ہیں۔

کارلوس سلم کی تینوں صاحبزادیوں وینیسا (Vanessa) سومایا(Soumaya) اور جوہانا (Johanna) میں سے ہر ایک کو ان کی دولت سے 6.3 ارب ڈالراپنے حصے کے طور پر ملے ہیں ۔اس طرح ان کاشمار لاطینی امریکہ کی دولت مند ترین خواتین میں ہوتا ہے۔مجموعی طور پر دنیا کی امیر ترین خواتین میں تینوں بہنوں کو چوتھے نمبر پر رکھا جاتا ہے۔ کارلوس سلم فوربزکی دولت مند افراد کی فہرست میں 2010سے 2013تک دنیا کے امیر ترین شخص قراردیئے جاچکے ہیں۔

کارلوس سلم کی تینوں صاحبزادیوں وینیسا (Vanessa) سومایا (Soumaya) اور جوہانا (Johanna) میں سے ہر ایک کو ان کی دولت سے 6.3 ارب ڈالراپنے حصے کے طور پر ملے ہیں
بھارت کی امیر ترین خاتون ساوتری کا لائف سٹائل انتہائی سادہ ہے
64سالہ ساوتری جندال(Savitri Jindal) کھربوں روپے کی صنعتی سلطنت جندال گروپ کی مالک اور9بچوں کی ماں ہیں جن میں مشہور کارپوریٹ شخصیت و سیاست دان نوین جندال بھی شامل ہیں۔

اس کے باوجود جب وہ ریاست ہریانہ میں اپنے حلقہ کی سڑکوں اور گلیوں میں گھومتی ہیں تو ایک عام سی خاتون معلوم ہوتی ہیں۔ ساوتری عام طور پر معمولی پرنٹڈ ساڑھی زیب تن کرتی ہیں اورایسا صرف وہ انتخابی مہم چلانے کے لئے ہی نہیں کرتیں۔ حکومت ہریانہ میں وزیر کے عہدہ پر فائز ہونے کے باوجود وہ سادہ اور گمنام زندگی گزارنا پسند کرتی ہے۔ فوربز نے2008میں پہلی مرتبہ انہیں بھارت کی امیر ترین خاتون قرار دیا تھاجبکہ2015میں مجموعی طور پر بھارت کے امیر ترین افراد کی فہرست میں انہیں12واں مقام دیا گیا ہے،ان کی خاندانی دولت کا تخمینہ6.4 ارب ڈالرلگایا گیا ہے۔

حکومت ہریانہ میں وزیر کے عہدہ پر فائز ہونے کے باوجود وہ سادہ اور گمنام زندگی گزارنا پسند کرتی ہے

58سالہ شاری اریسن مشرقِ وسطیٰ کی امیر ترین خاتون ہیں
شاری اریسن (Shari Arison) امریکی نژاد یہودی تاجر ٹیڈ اریسن اور مینا اریسن کے ہاں1957میں نیویارک(امریکہ) میں پیدا ہوئیں۔ 1999میں والد کی وفات کے بعدانہیں ترکہ میں کمپنی کے 35 فیصد حصص منتقل ہوئے اورآج وہ ایک اسرائیلی کاروباری کمپنی ’’اریسن انویسٹمنٹ‘‘ کی مالک ہیں۔

ان کے اثاثوں کی کل مالیت کا اندازا 4.5 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔شاری نے تین شادیاں کیں جو ناکام رہیں چنانچہ کاروباری معاملات دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس وقت وہ تنہا اپنے چار بچوں کو بھی پال رہی ہیں۔شاری اریسون بزنس کے ساتھ ساتھ خیراتی کاموں میں بھی حصہ لیتی ہیں۔2009میں انہوں نے اسرائیل کے تیسرے سالانہ گڈ ڈیڈ ڈیز(Good Deeds Day)کی تقریبات کو سپانسر کیا جنہیں عالمی میڈیا پر بھی کوریج دی گئی۔

شاری نے تین شادیاں کیں جو ناکام رہیں چنانچہ کاروباری معاملات دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس وقت وہ تنہا اپنے چار بچوں کو بھی پال رہی ہیں

الیکشن کمیشن کے گوشواروں کے مطابق پاکستان کی دولت مند خواتین…
اگرچہ پاکستانی خواتین کے مال ودولت کے حوالے سے کوئی دستاویزات تو موجود نہیں لیکن خواتین سیاستدانوں کی جانب سے الیکشن کمیشن کو جمع کروائے جانے والے گوشواروں کے مطابق پاکستان مسلم لیگ(ن) سے تعلق رکھنے والی سینیٹر نزہت صدیق ایک ارب پچاس کروڑ روپے کے اثاثہ جات رکھتی ہیں۔

اس اعتبار سے وہ خواتین سیاست دانوں میں سب سے زیادہ دولت مند ہیں۔ ان کے بعد پیپلز پارٹی کی عاصمہ ارباب عالمگیر51 کروڑ روپے کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔بیگم عشرت اشرف جن کاتعلق جنوبی پنجاب کے آخری ضلع رحیم یار خان کے مضافاتی گاؤں سے ہے،وراثتی اثاثوں کی ملکیت کی وجہ سے پاکستان کی امیر ترین خواتین میں شمار ہوتی ہیں۔اسی طرح سابق وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر کی مجموعی دولت سے متعلق کوئی تصدیق شدہ دستاویز تو موجود نہیں تاہم ان کے پاس کھرغربی میں 387 کنال اراضی، کوٹ ادو میں 800 کنال، اسلام آباد میں پلاٹ اور کوٹ ادو میں 78 ایکڑ اراضی موجودہے۔

کہا جاتا ہے کہ وہ 30 لاکھ روپے کی جیولری کی بھی مالک ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ رکن قومی اسمبلی فریال تالپور کی ٹنڈو الٰہ یار میں 52 ایکڑ اراضی، ڈسٹرکٹ حیدر آباد میں 153 ایکڑ، ڈسٹرکٹ سانگھڑ میں 43ا یکڑ، ڈی ایچ اے کراچی میں 90 لاکھ روپے کا گھر، گوادر میں پلاٹ، کلفٹن کراچی میں ایک کروڑ 20 لاکھ روپے کا گھر، 22 لاکھ روپے کا کاروبار، 62 لاکھ کی سرمایہ کاری، 3 گاڑیاں، 3 کروڑ 73 لاکھ روپے کا بینک بیلنس ہے۔

آصف زرداری ہی کی دوسری ہمشیرہ رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کے اثاثہ جات میں ڈی ایچ اے میں دو کروڑ روپے کا گھر، گوادر میں 5 لاکھ روپے کا پلاٹ، سانگھڑ میں 24 لاکھ روپے کی زرعی اراضی، اسلام آباد میں پلاٹ ، ڈی ایچ اے ویلی اسلام آباد اور ڈی ایچ اے ہومز اسلام آباد میں پلاٹس سمیت ڈی ایچ اے سٹی کراچی میں بھی کمرشل اور رہائشی پلاٹس ہیں۔

تاریخ اشاعت: 2018-05-10

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Khawateen Ke Paas Kitni Doulat Hai" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.