بند کریں
خواتین مضامینمضامین کیا آپ بچوں کو پیٹو بنا رہے ہیں

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کیا آپ بچوں کو پیٹو بنا رہے ہیں
سائنسدانوں کے مطابق بچے کے ابتدائی2ہزار دن ان کی غذائی عادات تشکیل دینے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔

کچھ عرصے پہلے تک بھی نوجوانوں اور متحرک افراد کے لیے ہارٹ اٹیک کوئی پریشانی کی بات نہیں تھی مگر اب وقت بدل گیا ہے اور8سال تک کے بچوں کو ہارٹ اٹیک ہونے لگا ہے ۔لہٰذا وقت آگیا ہے کہ اس حوالے سے آگا ہی پھیلائی جائے۔ایک صحت مند طرز زندگی جس میں روزانہ جسمانی سر گرمیاں ،صحت بخش غذائیں ،بھر پور نیند اور تمبا کو نوشی سے پرہیز شامل ہیں ،ہارٹ اٹیک کا خطرہ 80سال کی عمر تک کافی کم کر دیتی ہیں ۔
سائنسدانوں کے مطابق بچے کے ابتدائی2ہزار دن ان کی غذائی عادات تشکیل دینے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔اس عمر کے بچوں کا ہاضمہ تیز ہوتا ہے اور تیزی سے نشونما پارہا ہوتا ہے ۔اسی عمر میں بچوں میں چربی کے خلیے بھی پیدا ہونے لگتے ہیں ۔تو اگر آپ انہیں ان کی ضرورت سے زیادہ کھلائیں گے تو ان میں چربی جمع ہونے لگے گی اور یادرکھیں کہ ایک فربہ بچہ بالغ ہو کر بھی فربہ ہی رہے گا۔اس کے علاوہ چٹ پٹ،نمکین اور میٹھے کھانوں کے لیے حسِ ذائقہ بھی کم عمر میں ہی نشونما پاجاتی ہے اس لیے اگر آپ اس عمر میں بچوں کو جوس ،کولڈ ڈرنک ،جیم ،کیچپ اور ایسی ہی دیگر اشیاء کھلائیں گے تو وہ بعد میں اس سب کے عادی ہو جائیں گے اس لیے اس عمر میں بچوں کو قدرتی چیزیں ہی کھلانی چاہئیں۔
آٹھ گھنٹے کی بھرپور نیند
ہم نے دیکھا ہے کہ بچے اب بھر پور نیند نہیں لیتے ۔وہ دیر سے سوتے ہیں اور جلد ی اسکو ل چلے جاتے ہیں جس سے ان کی نیند پر سمجھوتہ ہوتا ہے ۔نیند کی کمی موٹا پے ،توجہ دینے میں مشکلات اور خراب ذہنی صحت کا شکار ہوجاتے ہیں ۔بچوں کی صحتمند نشونما کے لیے 8سے10گھنٹے کی نیند نہایت ضروری ہے ۔
دن میں 5سے7مرتبہ پھل اور سبزیاں کھلائیں اپنے بچوں کو پلانٹس (پودوں )پر اگنے والی چیزیں کھلائیں ،نہ کہ پلانٹس (فیکٹریوں )میں تیار ہونے والی ۔چنانچہ اگلی مرتبہ جب آپ کا بچہ کسی اسنیک کے لیے روئے تو انہیں چپس یالسکٹ کے پیکٹ کے بجائے پھل پکڑ ادیں۔
موبائل فون اور دیگر گیجٹس ،زیادہ سے زیادہ صرف 3گھنٹے موبائل فون بڑوں اور بچوں سبھی کے لیے مقناطیس بن چکے ہیں اور دونوں ہی کے لیے اسکرین کے سامنے گزاراگیا وقت 3گھنٹے سے زائد نہیں ہونا چاہیے۔چونکہ بچے والدین کی نقل کرتے ہیں اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ خود بھی گیجٹس سے دور رہیں تا کہ ان کے بچے بھی ان کی پیروی کریں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے