Lambay Baal Khubsurti Be Misaal

لمبے بال خوُ بصُورتی بے مثال

پیر اکتوبر

Lambay Baal Khubsurti Be Misaal

انعم شہزاد
آج کی خواتین اپنے بالوں کو لے کر بہت پر جوش رہتی ہیں کوئی بھی تقریب ہو لڑکیاں اپنے بالوں کو بنا سنوار کے رکھتی ہیں مختلف ہئیر سٹائل بناتی ہیں کیونکہ ہےئر اسٹائل خواتین کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں ۔کچھ خواتین چھوٹے بال پسند کرتی ہیں جبکہ کچھ کو لمبے بال پسند ہوتے ہیں آج اس آرٹیکل میں ہم آپکو ایک ایسے گاؤں کے بارے میں تفصیل سے بتائیں گے جنکی خواتین بال نہیں کاٹتی ہیں ۔

دراصل یہ لوگ اپنی نسلوں کو آگاہی دیتے ہیں کہ دنیا کتنی بھی آگے چلی جائے وہ اپنا کلچر اور رسم ورواج نہیں بھو لیں گے ۔
یہ افراد چین کے ”یاؤ(Yao)“نسلی گروپ میں شامل ہیں ۔جو آج بھی اپنی دو ہزار سالہ روایات پر قائم ہے ۔آج چین ترقی یا فتہ ممالک میں شامل ہوتا ہے ۔

(جاری ہے)

لیکن انہوں نے اپنے قدیم رسم ورواج کو زندہ رکھا ہوا ہے ۔چین کے صوبے میں کو انگری قصبے میں ”ہوا نگ لو“میں رہائش پذیر خواتین عجیب وغریب رسم کو زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔

یہ خواتین اپنی پوری زندگی میں صرف ایک بار بال کاٹتی ہیں ۔
وہ شادی سے قبل بال کٹواتی ہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں کی خواتین کے بال نہایت لمبے ہوتے ہیں ہر عورت کے بال پاؤں تک جارہے ہوتے ہیں کسی کو بھی بال کٹوانے کی اجازت نہیں ہوتی شاید ہی کوئی عورت ایسی ہوجس کے تین فٹ سے کم بال ہو۔کئی خواتین کے بال تو چھ فٹ یا سات فٹ سے بھی زیادہ لمبے ہیں ۔

وہ ان کو سنبھالنے کیلئے بہت محنت کرتی ہیں ۔بالوں کو صاف ستھرا رکھنے کیلئے مختلف طریقے اپناتی ہیں ۔
یہ خواتین اپنے بالوں کو انتہائی خوبصورتی اور نفاست کے ساتھ اپنے سروں پر یوں باندھتی ہیں جیسے پگڑی باندھی گئی ہو۔اچانک نظر پڑنے سے یوں لگتا ہے جیسے انہوں نے سیاہ رنگ کی کوئی ٹوپی پہن رکھی ہے۔لیکن دیکھا جائے تو انہوں نے اپنے بالوں کو بہت اچھے طریقے سے نہایت خوبصورت انداز میں باندھا ہوتا ہے اپنے بالوں کے مختلف ہےئر سٹائل بھی بنائے ہوتے ہیں تا کہ بال اچھے انداز میں سمیٹے رہیں اور خوبصورت نظر آئیں بالوں سے ہٹ کریہ خواتین اپنے رسم ورواج کو قائم رکھتے ہوئے لباس کی رسومات کا بھی خیال رکھتی ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک خاص لباس انکی پہچان ہے ۔


یہ خواتین اپنے لباس کے رنگ سے اپنی روایات کا مظاہرہ بھی کرتی ہیں ۔ان کا مخصوص لباس جو کہ سیاہ اور سرخ رنگ کی آمیزش پر مشتمل ہوتا ہے ۔اس پر کشیدہ کاری کی گئی ہوتی ہے ۔ان کی مردم شماری رپورٹ کے مطابق اس قبیلے کے 78خاندان ہیں اور ان کے افراد کی مجموعی تعداد سے 6سو سے زائد ہیں ۔اس قبیلے کی اکیاون سالہ خاتون پین ڈی فینگ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتا یا کہ ”میں نے بھی زندگی میں ایک بار بال کٹوائے تھے۔


اس کا کہناتھا بالوں کے حوالے سے نسل درنسل ہمیں یہ بات سکھائی جاتی ے کہ بال نہیں کٹوانے یہی وجہ ہے کہ ہم بچپن سے ہی بال نہیں کٹواتیں جب ہماری عمر اٹھارہ سال ہوتی ہے تو زندگی میں پہلی بار ہمارے بال کاٹے جاتے ہیں ۔یہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ لڑکی بالغ ہو گئی ہے اور وہ شادی کر سکتی ہے ۔کوئی لڑکی جب اٹھارہ سال کی ہوتی ہے تو اس کی بال کٹوانے کے لئے ایک تقریب کا اہتمام کیاجا تا ہے جس میں پورے قصبے کے لوگ شرکت کرتے ہیں ۔


یہ کٹے ہوئے بال سنبھال کر رکھ لیتے ہیں اور جب انکی شادی ہوتی یہ تو وہ یہ کٹے ہوئے بال اپنے سر پر موجود بالوں کو سنبھالنے کے لئے بطور کلپ استعمال کرتی ہیں ۔یہاں کٹے ہوئے بال ہی لڑکی کے شادی شدہ ہونے کی علامت ہیں ۔دنیا میں سب سے زیادہ لمبے بال رکھنے کا آغاز بھی چینی خاتون کے پاس ہے جس کا نام ڈی کیوپنگ ہے اس کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہے۔مئی2004ء میں اس کے بالوں کی لمبائی 18فٹ 554انچ تھی ڈی کیوبنگ نے 1973ء سے اپنے بال بڑھانے شروع کئے تھے اب تک کوئی خاتون اس سے زیادہ بال بڑھانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

تاریخ اشاعت: 2018-10-15

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Lambay Baal Khubsurti Be Misaal" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.