بند کریں
خواتین مضامینمضامینمائیں اشکوں کے ہار پروتی رہیں

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مائیں اشکوں کے ہار پروتی رہیں
یوں توہرمذہب اور معاشرہ میں منفرداورعظیم ہے لیکن دین فطرت اسلام میں ماں کے اس رشتہ کوعزت واحترام کا وہ مقام دیا گیاہے کہ ماں کے قدموں میں جنت رکھ دی گئی ہے
کاشف احمد:
ماں محض ایک مقدس رشتہ نہیں بلکہ اللہ تعالی نے اس رشتہ کوتخلیق کاذریعہ بننے کادرجہ دیاہے جس کی عظمت اورتقدس یوں توہرمذہب اور معاشرہ میں منفرداورعظیم ہے لیکن دین فطرت اسلام میں ماں کے اس رشتہ کوعزت واحترام کا وہ مقام دیا گیاہے کہ ماں کے قدموں میں جنت رکھ دی گئی ہے کہ یہ ماں ہی ہے جوکوکھ میں جنم دینے سے لے کرنوزائیدگی،بچپن اور پھرجوانی سے لے کربچے کی زندگی کے تمام مراحل پرپر ورش ودیکھ بھال سے لے کرتربیت تک کی ذمہ داری سرانجام دیتی ہے اوریہ محض ذمہ داری کی انجام دہی ہی نہیں بلکہ اس میں محبت، پیار اورشفقت کے جذبات کی آمیزش ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی انسان اپنی تمام زندگی اپنی ماں اس کی شخصیت اورتربیت کے اس کوساتھ لے کرجیتاہے ماں کاذکرجب آیاہے تو عموماروزمرہ زندگی یاعام حالات میں بچے کی پرورش اوراس میں ماں کی محبت،محنت، شفقت اورپیارجیسے جذبات و احساسات کابیان ہوتاہے لیکن آج ماؤں کے عالمی دن یا”مدرزڈے“کے موقع پران ماؤں کویاد کیاجارہا ہے جنہوں نے 16 دسمبر 2014 کوپشاورکے آرمی پبلک سکول پردہشت گردحملہ میں اپنے پیاروں کوکھویایہ سانحہ محض دہشت گردی کی واردات نہیں بلکہ ایک طرف یہ معصوم بچوں پرظلم وبربریت کادل دہلادینے والاانسانیت سوزواقعہ تھاجس میں سب سے زیادہ متاثروہ مائیں تھیں جنہوں نے16دسمبرکی صبح اپنے جگرکے ٹکڑوں کوتیارکراکے ان کے ماتھے چھوم کراس امیداورمعمول کے ساتھ سکول روانہ کیاکہ وہ اس درس گاہ میں دن گزارکرسہ پہرمیں گھروں کوپہنچیں گے بچوں کی سکول روانگی کے بعدیہ مائیں گھرکے دوسرے کام کاج کے ساتھ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق ان کے پسندیدہ کھانوں کے بارے میں بھی سوچتی رہی ہوں گی لیکن گھنٹہ ڈیڑھ ہی میں یہ خبران پرقیامت کی طرح ٹوٹ پڑی کہ سکول جانے والے ان کے معصوم پھول بارودکی آگ میں جھلس رہے ہیں اورپھریہ مائیں سب کچھ چھوڑکرپشاورکے ورسک روڈکی جانب دیوانہ واردوڑپڑیں جہاں واقع آرمی پبلک سکول میں گھس آنے والے حملہ آورمعصوم بچوں کونشانہ بنارہے تھے آج کے”مدرزڈے“پران عظیم ماؤں کوتحسین کاخراج پیش کیاجارہاہے بچوں کے ساتھ ساتھ ان کی کئی بہادراستانیاں بھی اس بے رحمانہ حملہ میں شہیدہوئیں جن میں آرمی پبلک سکول کی کلاس ہشتم کی ٹیچر سحرافشاں بھی شامل تھیں سحرافشاں کی والدہ شمیم اخترنے اپنی شہیدبیٹی کاذکر شروع کیاتوان کی آنکھیں پرنم ہوئیں انہوں نے بتایاکہ اپنے شوہرکی وفات کے بعدانہوں نے اپنے بچوں کی بہترین پرورش اورتربیت کی حتی المقدور کوششیں کیں اوراپنے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے پرخصوصی توجہ دی یہی وجہ تھی کہ ماسٹرزکرنے کے بعدان کی صاحبزادی سحرافشاں نے بحیثیت ٹیچر آرمی پبلک سکول سے وابستگی اختیارکی کیونکہ وہ حصول تعلیم اورعلم پھیلانے سے خصوصی شغف رکھتی تھیں اوراس کااندازہ سے امرسے لگایاجاسکتاہے کہ وہ آرمی پبلک سکول میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیمی قابلیت کومزیدبہتربنانے کیلئے ایم فل کررہی تھیں بچوں کوپڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کے اوربھی کئی ارمان تھے جن میں ایک فریضہ حج کی ادائیگی کاارمان بھی شامل تھالیکن قسمت نے انہیں مہلت نہ دی اوروہ اپنے یہ ارمان دل میں لے کردنیاسے رخصت ہوئیں16دسمبرکو اپنے معمول کے مطابق سحرافشاں علی الصبح بیدارہوئیں اورناشتہ کرکے ڈیوٹی کیلئے روانہ ہوئیں۔ تقریباڈیڑھ گھنٹہ بعدہی ان کے بھائی فوادگل نے ٹیلی فون کیاکہ دہشت گردوں نے آرمی پبلک سکول پرحملہ کردیاہے چونکہ سحرافشاں بھی وہاں پرموجودتھیں تواپنی بیٹی کیلئے ان کی پریشانی لازمی اورقابل فہم امرتھالیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ سکول میں موجود سینکڑوں بچوں اور دیگراساتذہ وتدریسی عملہ کی حفاظت وہ خیریت کیلئے بھی دعاگورہیں اورتقریبا7گھنٹے تک اپنی زندگی کی شدیدترین اذیت سے گزرنے کے بعدتقریباپانچ بجے انہیں اطلاع ملی کہ سحرافشاں شہیدکاجسدخاکی کمبائنڈملٹری ہسپتال پشاور پہنچا دیا گیا ہے جس کے بعدفوادگل ہسپتال جاکروہاں سے سحرافشاں کاجسدخاکی لے کر آئے پرنم آنکھوں کے ساتھ شمیم اخترنے کہاکہ جس پھول سی پیاری بیٹی کوانہوں نے صبح ڈیوٹی کیلئے رخصت کیاتھاانہیں بے جان حالت میں دیکھنے پران پر جو گزری وہ ان کیلئے ناقابل بیان ہے اپنی بیٹی کیلئے ان کے بہت سے ارمان تھے لیکن جس طرح سحرافشاں شہیدایم فل کرنے، فریضہ حج اداکرنے اوردیگرارمانوں کواپنے دل میں لئے دوسرے جہاں سدھارگئیں اسی طرح اپنی بیٹی کیلئے میرے یہ ارمان بھی میرے دل ہی میں رہ گئے ہیں سحرافشاں ان کیلئے پوری کائنات تھیں وہ بہت رحم دل ،ملنساراورہنس مکھ تھیں ضرورت مندوں کی مددکرنے سے دریغ نہیں کرتیں اسی طرح سکول میں دن بھرکی محنت کے بعدوہ ان کے ساتھ گھرکے کاموں میں ہاتھ بٹاتی، خصوصاسوداسلف خریدنے (شاپنگ کرنے)میں خاص دلچسپی لیتیں اور16دسمبرکوبھی انہوں نے ڈیوٹی سے واپس آنے پرمیرے ہمراہ بازارجاکرخریداری کرنے کاپروگرام بنایاتھالیکن قدرت نے ان کیلئے کوئی اورہی پروگرام سوچ رکھا تھا میری سحرافشاں 16 دسمبر کو سکول سے واپس آئیں لیکن اپنے پیروں کی بجائے تابوت میں لائی گئیں ان کی باتیںآ ج بھی انہیں یاد آتی ہیں پشاورکے معروف رہائشی علاقہ گل بہارکالونی کی باہمت فرح ناز16دسمبرکے سانحہ میں شہیدہونے والے آرمی پبلک سکول کی کلاس نہم کے طالبعلم 15سالہ عزیراحمدکی والدہ ہیں عزم اوراستقامت کی علامت فرح نازکے مطابق ان کالخت جگرعزیراحمدپہلی کلاس سے آرمی پبلک سکول میں داخل کرایاگیاتھاکیونکہ یہ سکول آرمی کے زیر انتظام چل رہا ہے اور یہاں سے پڑھنے والے والے تمام بچے دوسرے سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کی نسبت ذیادہ ذہین ہوتے ہیں یہاں سے میٹرک پاس کرکے عزیز احمد کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے امریکہ بھیجنا تھا لیکن دہشت گردوں نے عزیر اور اس کے والدین کے تمام خوابوں کو مٹی میں دفنا دیا شہید عزیز احمد پوزیشن ہولڈر تھا اور اسے اپنی کتابیں اور کاپیاں بہت پسند تھی وہ کسی کو بھی اپنی کتاب یا کاپی نہیں دیتا تھا 16دسمبر2014کو پیش آنے والے سانحہ کے بعد شہید عزیر احمد کی والدہ نے اپنے بیٹے کی کتابیں ، کاپیاں اور بستہ وغیرہ سکول سے لا کر اپنے گھر میں سنبھال کر رکھ دیا ہے کیونکہ وہ کہتی ہے کہ اس کا بیٹاکسی کو اپنی کتابیں نہیں دیتا تھا اسی سانحہ میں شہید ہونے والے والے جماعت نہم کے طالب علم احمد الہیٰ کی والدہ سمیرا صدیقی نے بتایا کہ وہ آرمی گرلز کالج میں ٹیچر ہے اور اس کے دو بیٹے ایک احمد الہیٰ جو 16دسمبر کو دہشت گردوں کے حملہ میں شہید ہوگیا جبکہ دوسرا اسی سکول میں اولیول میں پڑھتا ہے انہوں نے بتایا کہ وہ خود اسی سکول میں ٹیچر ہیں تو اس وجہ سے انہوں نے اپنے شہید بیٹے کو بھی آرمی پبلک سکول میں داخل کرایا کہ وہ میری آنکھوں کے سامنے رہے گا وہ بچپن ہی سے ذہین تھا اور خطاطی کرنے کا بے حدبہت شوق تھا جب بھی فارغ بیٹھتا تو قرآن کی آیات لکھتاتھااحمدالہی نے دوسپارے حفظ کئے ہوئے تھے جبکہ اسے اذان دینے کابھی بہت شوق تھاسمیراصدیقی کے مطابق ان کا بیٹاعصراورمغرب کی اذان بھی دیتاتھا16دسمبرکومیں ڈیوٹی دینے کیلئے اپنے دونوں بیٹوں کے ہمراہ گھرسے نکلی تھی احمدالہی کوسکول میں چھوڑنے کے بعدمیں اپنے سکول چلی گئی اورتقریبا10بجے کے قریب کورہیڈکوارٹرسے ہمارے کالج میں فون آیاکہ آرمی پبلک سکول پرحملہ ہواہے ہم سمجھے کہ شاہدچھوٹاساحملہ ہوگاہماری افواج اسے پسپا کردیں گی لیکن جب بعدمیں ہمیں اپنے رشتہ داروں کی جانب سے ٹیلی فون کالیں آنا شروع ہوئیں تو ہمیں معاملہ سنگین معلوم ہوااورمیں اپنے سکول سے نکل کر بیٹے کے سکول کی جانب جانے لگی توراستہ میں ڈیفنس پارک میں سینکڑوں زخمی بچوں کولٹایاگیا تھاوہاں دیکھاتومیرا بیٹا ان میں نہیں تھاجس کے بعدمیں سی ایم ایچ روانہ ہوگئی لیکن وہاں کسی کواندرنہیں چھوڑا جارہا تھاجہاں 3 گھنٹے انتظارکرنے کے بعد سپیکر پرآوازدی گئی کہ شہیداحمدالہی کے والدین نعش وصول کرنے آجائیں یہ اعلان سنتے ہی ہم پرآسمان ٹوٹ پڑا16دسمبر 2014 کوآرمی پبلک سکول ورسک روڈپشاورپرہونے والے دہشت گرد حملہ کے چندشہداء کی ماؤں پرگزرنے والے قیامت کی مختصر داستانیں ہیں وگرنہ اس روزپیش آنے والے سانحہ نے جہاں پشاور کے سینکڑوں گھروں میں صفت ماتم بچھاڈالی وہاں اس ظلم وبربریت کانشانہ بننے والے شہداء کے ماؤں کی عظیم قربانیوں کاہی نتیجہ اورثمرہے کہ ڈیڑھ دہائی سے پاکستان پرمسلط دہشت گردی کے آسیب جس نے 50ہزارسے زائدپاکستانیوں کی جانیں لیں، قومی معیشت کو100ارب ڈالرسے زائدکانقصان پہنچایااورتعلیم ،ثقافت سمیت ہرشعبہ زندگی میں تباہی و بربادی برپاکی اس آسیب کے بارے میں منتشرالخیال پاکستانی قوم پہلی مرتبہ یکسو،یک جان اوریک آوازہوگئی۔

(0) ووٹ وصول ہوئے