بند کریں
خواتین مضامینمضامینمارتھا گراہم(1894ء تا1991ء)

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مارتھا گراہم(1894ء تا1991ء)
سوانح نگار ایگنس ڈی ملے نے ڈانسر، کو ریوگرافر اوراستاد مارتھا گراہم کو ایک ایسی عورت کے طور پر بیان کیا” جس نے اپنے فن میں کسی بھی اورواحد آرٹسٹ کی نسبت زیادہ بڑی تبدیلی پیدا کی۔
سوانح نگار ایگنس ڈی ملے نے ڈانسر، کو ریوگرافر اوراستاد مارتھا گراہم کو ایک ایسی عورت کے طور پر بیان کیا” جس نے اپنے فن میں کسی بھی اورواحد آرٹسٹ کی نسبت زیادہ بڑی تبدیلی پیدا کی۔گراہم نے آئساڈور اڈنکن اورروت سینٹ ڈینس جیسے جدید ڈانس کے بانیوں کی تاثراتی اورتشریحی حرکات کا مطالعہ کرنے سے آغاز کیا، اور آگے چل کربالکل نئے تاثراتی انداز تخلیق کیے۔ اُس نے تھیئٹر کو جدید ڈانس سے روشناس کروایا اور انسوانی جنسیت کو نسوانی نکتہ نظر سے اعلیٰ آرٹ کا درجہ دلوایا۔ ڈنکن اور سینٹ ڈینس نے ڈانس کا فن تبدیل کیا لیکن گراہم ایک قدم مزید آگے بڑھی اُس نے ہمارا دنیان کو دیکھنے کا اندازہی بدل دیا۔جدید ڈانس پراُس کے بے مثال اثر کی وجہ سے میں نے اسے فہرست میں نسبتاََ کافی اوپر رکھا ہے۔
مارتھاگراہم Alleghenyپنسلوانیا میں پیداہوئی اور تین بہنوں میں سب سے بڑی تھی۔ اُس کا باپ جارج گراہم ماہر نفسیات تھا۔ ماں کا نام جین بیئرزگراہم تھا۔ گھرانہ پٹسبرگ منتقل ہوا اور پھر کیلی فورنیا چلا آیا جب گراہم کی عمر چود ہ برس تھی۔ بچپن میں اُس کی آئرش نرس لزی نے اُسے تھیئٹر کی دنیا سے متعارف کروایا۔ وہ نوجوان مارتھا کے ڈانس کے لیے موسیقی دیاکرتی تھی۔
1911ء میں رُوت سینٹ ڈنیس کے ایک پروگرام میں شرکت کے بعد گراہم کے دل میں ڈانسر بننے کا شوق پیدا ہوا۔ جیسا کہ اُس نے بعد مین لکھا” مس روت نے میرے لیے ایک دروا کیااور میں نے زندگی کو دیکھا۔ 1916ء میں گراہم Denishawnسکول آف ڈانسنگ میں داخلہ لینے کی غرض سے لاس اینجلس چلی گئی۔یہ سکول سینٹ ڈینس اور اُس کا ڈانسر وکوریوگرافر شوہر ٹیڈ شان چلاتے تھے۔ شروع میں وہ بہت شرمیلی اور بے ڈھنگی تھی لیکن آہستہ آہستہ ڈانس میں پراعتماد ہوتی گئی۔ اس ترقی میں میوزیکل ڈائر یکٹرلوئس کا بڑا ہاتھ تھا ۔ ہارسٹ آئندہ تیس برس تک گراہم کے ساتھ بطور استاد اورساتھی ڈانسر کے کام کرتا رہا۔
1920ء میں گراہم نے Denishawnکمپنی میں پہلی بار فن کا مظاہرہ کیا۔ اُس نے آزٹک سے متاثر بیلے ڈانس پیش کیا تھا۔ وہ 1923ء تک کمپنی کے لیے ڈانس کرتی رہی اور پھر ہارسٹ کے مشورے پر Greenwich Village Folliesمیں شامل ہوگئی ۔ Foillesکے ساتھ سولوڈانسر کے طور پر اُس نے جدید ڈانس کی سٹینڈرڈ themesپر کام کیا۔ Foillesکے لیے دوسال تک کام کرنے کے بعد گراہم نے ایسٹ مین سکول آف میوزک “ (روچیسٹر، نیویارک) میں پڑھانے کاعہدہ قبول کرلیا۔ یہاں کام کے دوران اُس نے اپنے جسم کو کچھ انوکھنے انداز اور طریقے سے حرکت دینے کی تربیت حاصل کی۔اُس کے تخلیق کردہ نئے انداز میں اندرونی جذبات کو جسم کے ذریعہ پیش کرنا مشکل تھا۔ اُس نے کہا: آج ک زندگی تیکھی اور زگ زیگ ہے۔ یہ اکثر عین ہوا میں ٹھہر جاتی ہے۔ میں اپنے ڈانسر میں اسی چیز کوپیش کرنا چاہتی ہوں۔
1926ء میں گراہم نے نیویارک کے 48thسٹریٹ تھیئٹر“ میں پہلے خود مختار ڈانس کنسرٹ میں اپنانیا انداز پیش کیا۔ روایت پسندوں نے شدید تنقیدکی۔ تاہم، گراہم کے مداحوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ اُس کی نظر میں مداح ہی کامیابی کی اصل کسوٹی تھے۔ 1930ء میں لیوپولڈ سٹوکووسکی کی دعوت پروہ Right of Springمیں ڈانس کرنے گئی اور شہرت حاصل کی۔
1930ء کی دہائی کے دوران مارتھا گراہم نے ” مارتھا گراہم سکول آف Contemporaryڈانس اورمارتھا گراہم کمپنی آف ڈانسرز“ کی بنیاد رکھی۔ یہ دونوں ہی ادارے دنیابھر میں مشہور ہوئے۔ 1934ء میں اُس نے ورمونٹ کے بیننگٹن کالج میں موسم گرما کی ورکشاپس میں پڑھانا شروع کیا۔ یہیں پر اُس نے اپنا ایک شاہ کار Letter to the worldتخلیق کیا جوا یمیلی ڈکنسن کی شاعری اور داخلی زندگی پرمبنی تھا۔ امریکی themesاور ڈانسز میں گراہم کی دلچسپی کا نقطہ عروج مشہور ترین بیلے Appalachian Spring“ (1944ء ) تھا۔ تب وہ فرائیڈین اور ینگین موضوعات کی جانب آئی اور تاریخی کرداروں کو اپنے دانس میں پیش کیا۔ 1943ء میں Deaths and Entrancesمیں برونئے سسٹرزاور گراہم کے اپنے خاندان سے لیے گئے کردار شامل تھے۔ 1949ء میں گراہم نے ایرک ہاکنز سے شادی کرلی جواُس کا ڈانسنگ پارٹنر اور محبوب تھا۔ شادی کامیاب نہ رہی اور دوسال بعد ہی علیحدگی ہوگئی۔
گراہم کواپنے طویل کیرئیرکے دوران متعدد اعزازات اور انعامات ملے۔ 1957ء میں اُس پر بنائی گئی ٹیلی ویژن ڈاکومنٹری A Dacer s worldاور اس کے بیلے کی فلم Nigth Journeyکو کئی ایوارڈز اور ملے۔ 1981ء میں وہ Scrippsامریکن ڈانس فیسٹیول ایوارڈ کی مستحق قرار پائی۔ یہ ڈانس کے شعبے میں دیاگیا سب سے بڑا نقدانعام تھا ۔ گراہم نے اپنی عمرکے ساتویں عشرے میں پہنچنے تک ڈانس کرنا جاری رکھا۔1990ء میں اُس نے اپنی سوانح عمری Blood Memoryلکھی جو 1991ء میں شائع ہوئی۔ 1994ء میں پی بی ایس نے گراہم کی 100ویں سالگرہ کے موقعہ پر اُس کی زندگی پر مبنی ایک ڈاکو منٹری فلم نشر کی۔
گراہم نے اپنی زندگی کے دوران 160سے زائد ڈانسز کو ریوگرافی کی۔ ڈانسرز کی دو پشتوں پر اس کے اثرات پڑے۔ اس کے ڈانس کو” جسم کی روح کی مخفی زبان “ کہاجاتا ہے۔ بے شمارشاگردوں نے اُس کی وضع کردہ تیکنیکوں کو اپنایا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے