Mashriqi Riwayat Ki Ameen Chorriyaan

مشرقی روایات کی امین چوڑیاں

جمعہ مئی

Mashriqi Riwayat Ki Ameen Chorriyaan
رابعہ گل
چوڑیاں سہاگ کی نشانی، مشرق کی روایات کی امین، ایک شادی شدہ خاتون کا سب سے قیمتی اور اچھوتا زیور ایک عورت کی تمام وفاداریاں اور محبت اپنے شوہر کے لئے وقف، چوڑیوں کو سہاگ کی نشانی آج سے نہیں صدیوں سے کہا جاتاہے اور ترقی یافتہ اور جدید دور میں اس کی اہمیت جوں کی توں برقرار ہے اور آج بھی مشرق کی خواتین انہیں پہن کر فخر محسوس کرتی ہیں۔


یہ اب ایسا احساس ہے جس میں محبت اور الفت کی چاشنی ہے اس کی کھنک میں جادو ہے اور اس کی رنگینیاں دلوں میں ارتعاش پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں۔
آج کل تو چوڑیاں پہننا فیشن میں شامل ہو گیا ہے آج کی ماڈرن”مس“ نہ صرف پورے ہاتھ میں چوڑیاں پہنتی ہیں بلکہ اپنے کپڑوں سے انہیں میچ بھی کرتی ہیں البتہ ان خواتین پر کچھ پابندیاں عائد ہیں جو اسکول یا کالج میں پڑھتی یا پڑھاتی ہیں یا دفاتر میں کام کرتی ہیں،کیونکہ خواتین جب اپنے ہاتھ کو حرکت دیتی ہیں یہ چوڑیاں آپس میں ٹکڑا کر کھنکھاہٹ پیدا کر دیتی ہیں جن کی مسحور کن موسیقی سے دوسرے لوگ ڈسٹرب ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)


ان پابندیوں کے باوجود لڑکیاں اور خواتین کسی نہ کسی بہانے انہیں اپنے ہاتھوں کی زینت بنا لیتی ہیں چوڑیوں کا استعمال موقع محل کے لحاظ سے بھی ہوتاہے عام حالت میں تو یہ ہر خاتون کے ہاتھوں میں موجود ہوتی ہی ہیں۔
چوڑیوں میں اس قدر نسوانی کشش ہوتی ہے کہ عورتیں نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی دکانوں میں گھس جاتی ہیں چوڑیوں کی دکانیں سارا سال کھلی رہتی ہیں رمضان کے مہینہ میں بھی تمام دکانیں کھلی ہوتی ہیں بلکہ عید قریب ہونے کی وجہ سے کچھ ”عارضی“ دکانیں بھی کھل جاتی ہیں خواتین کے پاس چوڑیاں خریدنے کا اچھا خاصا موقع ہوتاہے مگر خواتین گھر میں اطمینان سے بیٹھی ہوتی ہیں اور چاند رات کا انتظار کرتی ہیں اور جیسے ہی عید کے چاند نکلنے کا اعلان ہوتاہے ہر گلی سے جھنڈ کے جھنڈ خواتین کی ٹولی بازار کا رخ کرتی ہے چوڑیاں تو جب چاہیں خریدی جا سکتی ہیں مگر چاند رات میں خریداری کا لطف ہی کچھ اور ہے۔


چاند رات کو چوڑیوں کی دکانیں صبح تک کھلی رہتی ہیں چوڑیوں کی اس قدر ورائٹی ہوتی ہے کہ خواتین کے لئے ان کا انتخاب ایک مسئلہ ہوتاہے، عموماً بوڑھی اور عمر دراز خواتین چوڑیاں نہیں پہنتی ہیں یا پھر ایک دو چوڑیاں یونہی کلائی میں پھنسا دیتی ہیں مگر عید کے موقع پر انہیں بھی شوق چراتا ہے ،اور یہ خواتین بھی ہاتھ بھر بھر کر چوڑیاں پہنتی ہیں اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ ان چوڑیوں میں ایک رومانی ”ٹچ“ ہوتاہے اور زندگی اپنے سفر کی جس منزل میں ہو ارمان کی ضرورت بہر حال باقی رہتی ہے۔
آج کل ایسی چوڑیاں بھی بازار میں عام دستیاب ہیں جن پر سنہرا کام ہوتا ہے کچھ ایسی بھی ہیں جن پر نقش کندہ ہوتے ہیں یہ گلاس (شیشے) کے علاوہ پلاسٹک اور دھات سے بھی تیار کی جاتی ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2020-05-01

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Mashriqi Riwayat Ki Ameen Chorriyaan" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.