Mausaam E Sarma Aur Bachey - Special Articles For Women

موسم سرما اور بچے - خواتین کیلئے مضامین

جمعہ فروری

Mausaam E Sarma Aur Bachey
ہر موسم کے اپنے رنگ،اپنے مزے اور خاص امراض ہوتے ہیں۔گرمیوں میں لو،گرمی دانوں اور اسہال وغیرہ کی شکایات تنگ کرتی ہیں تو برسات میں پھوڑے پھنسی،ملیریا اور نظام ہضم کی خرابیاں ستاتی ہیں۔موسم سرما میں نزلہ زکام،بخار،کھانسی، جوڑوں کا درد،سانس کی شکایت اور نمونیے وغیرہ کا زور ہوتا ہے۔سردیوں کا موسم خاص طور پر بچوں اور کمزوروں کے لئے تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔

جسم کی قوت مدافعت میں کمی کی وجہ سے بچے اور کمزور لوگ نزلے زکام اور کھانسی کے بڑی آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں۔یہاں بالخصوص بچوں کے نظام تنفس کی شکایات زیر بحث ہیں۔ماہرین کے اندازوں کے مطابق بچوں میں عام امراض سے ہلاک ہونے والوں میں سے اکثر و بیشتر نظام تنفس کے امراض کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)

اس اعتبار سے والدین اور معالجین پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس موسم میں بچوں کی صحت کا خاص خیال رکھیں۔


تنفس کے امراض سے بچاؤ کے سلسلے میں بنیادی بات سردی سے بچوں کا تحفظ ہے۔سرد موسم کے شروع ہوتے ہی بچوں کو مناسب گرم کپڑے پہنانے چاہییں۔ان کے پاؤں اور سینہ گرم رہنے چاہییں۔ماہرین طب کے مطابق انسانی جسم کی چالیس فیصد حرارت سر کے راستے زائل ہو جاتی ہے۔عام طور پر یہی دیکھا جاتا ہے کہ مائیں بچوں کو مناسب لباس پہنانے کی زحمت نہیں کرتیں۔

بعض اس قدر محتاط ہوتی ہیں کہ انھیں بہت سارے گرم کپڑے پہنا دیتی ہیں،جس کی وجہ سے بچے بسا اوقات سخت پریشان ہوتے ہیں،بلکہ بعض اوقات ان کا درجہ حرارت معمول سے بڑھ جاتا ہے،جسے بالعموم بخار سمجھا جاتا ہے۔
اس کے برخلاف یہ بھی ہوتا ہے کہ بچوں کو گرم کپڑے نہیں پہنائے جاتے۔وہ سرد ہوا کے جھونکوں کی زد میں رہتے ہیں۔گھر میں پانی میں کھیلتے ہیں یا بارش میں بھیگتے ہیں۔

اس قسم کی بے احتیاطیوں کے نتیجے میں ان کی قوت مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے اور وہ نزلے زکام، شدید کھانسی،کالی کھانسی اور نمونیے کا شکار ہو جاتے ہیں۔نمونیے کی صورت میں ان کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوتے ہیں،ان میں ورم کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے ،جس کی وجہ سے ان کی پسلیاں چلنے لگتی ہیں۔تیز بخار ہو جاتا ہے اور بچہ سانس لینے میں دقت محسوس کرتا ہے۔

دونوں پھیپھڑوں کے متاثر ہونے کی صورت میں جان جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
نظام تنفس کے امراض کی وجہ سے ہر سال زیادہ اموات نمونیے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔بچوں کی اچھی خاصی تعداد کالی کھانسی اور خسرے کی وجہ سے بھی جان سے جاتی ہے۔واضح رہے کہ خسرے کی وجہ سے بھی پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں۔ان حقائق کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ بچوں کو سردی سے بچانے کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ انھیں خسرہ اور کالی کھانسی میں مبتلا بچوں سے دور رکھا جائے۔

عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ گھر کے بڑے بوڑھے اور بچے سب ایک ہی گلاس سے پانی پیتے اور ایک ہی برتن میں کھانا کھاتے ہیں۔اگر بچوں کو شروع ہی سے اپنے اپنے گلاس سے پانی پینے کا عادی بنا دیا جائے تو وہ بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
ناقص غذا۔ایک اہم سبب
اچھی صحت کے لئے مفید غذا کی اہمیت سب تسلیم کرتے ہیں۔مفید غذا جسم میں توانائی پیدا کرتی ہے اور امراض کی یلغار کو روکنے میں اہم ترین کردار ادا کرتی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ نمونیے میں مبتلا ہونے والے اکثر بچے بے احتیاطیوں کے علاوہ ناقص غذا کا شکار ہوتے ہیں۔نامناسب غذا کی وجہ سے چونکہ ان کی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے،اس لئے وہ سانس کی دیگر شکایتوں میں بھی مبتلا ہوتے رہتے ہیں ۔یہاں یہ بات بھی غور کرنے کے قابل ہے کہ ماں کا دودھ پینے والے بچے،بشرطے کہ وہ صحت مند پیدا ہوئے ہوں،ڈبے کا دودھ پینے والوں کے مقابلے میں امراض کے مقابلے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں،اس لئے شیرخوار بچوں کی ماؤں کو بوتل سے دودھ پلانے کے فیشن کو ترک کرکے اپنے بچوں کی پرورش اپنے دودھ پر کرنی چاہیے۔

اس طرح وہ نہ صرف پھیپھڑوں اور سانس کی شکایات سے محفوظ رہیں گے ،بلکہ بچوں کے دیگر امراض خصوصاً اسہال(ڈائریا)سے بھی بچے رہیں گے۔
شیرخواری کی عمر پوری کرنے والے بچوں کو مناسب غذاؤں کے ذریعے سے صحت مند رکھا جا سکتا ہے۔جو ماں باپ بازار کے تیار شدہ چپس ،فرنچ فرائز،ٹافیوں،چاکلیٹ اور مٹھائیوں وغیرہ کو بچوں کے لئے مفید سمجھتے ہیں،وہ اپنے بچوں کی خراب صحت کے ذمے دار ہوتے ہیں۔

دن بھر کھلائی جانے والی بازاری اشیاء کے پیسوں سے انھیں مٹھی بھر چنوں کا کھلانا بہت مفید ہوتا ہے۔اس سے ان کے جسم کو توانائی دینے والے اجزاء آسانی سے مل سکتے ہیں۔جاڑوں کے موسم میں شکر کی مٹھائیوں کے مقابلے میں گڑ اور تل ان کے لئے صحت بخش ثابت ہوتے ہیں۔
ان احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنے کے بعد بچوں کو سردی لگنے کے امکانات بہت کم ہو جاتے ہیں۔

اس کے باوجود وہ اگر سردی سے زکام، کھانسی اور بخار میں مبتلا ہوں تو انھیں فوراً مناسب گرم کپڑے پہنا کر معالج سے مشورہ کر لینا چاہیے۔نظام تنفس کی تکالیف کے سلسلے میں یہ بہت ضروری ہے کہ بچے کا پیٹ صاف رہے،یعنی وہ قبض میں مبتلا نہ ہو۔اسے دور کرنے کے لئے آٹھ دس دانے،منقے،ایک دو خشک انجیر وغیرہ کا کھلانا کافی ہوتاہے۔بچہ چھوٹا ہوتو اسے کیسٹر آئل یا زیتون کا تیل چائے کے ایک دو چمچے پلا دینے سے بھی آنتیں صاف ہو جاتی ہیں ۔

ہمدرد کی گھٹی بھی مفید رہتی ہے۔بچوں کے سینے کو گرم رکھا جائے،سینے پر ہمدرد بام مل کر سینکنے سے جلد فائدہ ہوتا ہے۔نمونیے کی صورت میں معالج سے فوری طور پر رجوع کرنا چاہیے۔ایسے بچے کو گرم کمرے میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ضرورت ہوتو کمرے میں انگیٹھی جلا لیں، لیکن کمرے میں ہوا کی آمد و رفت میں رکاوٹ پیدا نہیں ہونی چاہیے۔مناسب احتیاط اور تدابیر اختیار کرکے ہم اپنے بچوں کو سردی کے امراض اور تکالیف سے محفوظ رکھ سکتے ہیں،بلکہ انھیں صحت بخش غذا فراہم کرکے زیادہ صحت مند بنا سکتے ہیں،کیونکہ جاڑا جان بنانے کا موسم بھی ہوتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2021-02-12

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Mausaam E Sarma Aur Bachey" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.