Meri Maa Ki Tarbiyat Ke Achootay Rang

میری ماں کی تربیت کے اچھوتے رنگ

جمعرات ستمبر

Meri Maa Ki Tarbiyat Ke Achootay Rang

(ڈاکٹر سیّد امجد علی جعفری ،کراچی)
میرا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے ،جن کی رگ رگ میں ماں کی محبت بسی ہوتی ہے ،بلاشبہ میری ہر بھلائی کا کریڈٹ میری ماں کو جاتا ہے کہ اگر ان کی دی ہوئی تعلیم وتربیت اور قدم قدم پر رہنمائی شاملِ حال نہ ہوتی ،تو شاید میں یہ سطور لکھنے کے قابل بھی نہ ہوتا۔میں نے مشرقی پنجاب کے شہر،کپورتھلہ کے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی،جہاں تعلیم صرف لڑکوں ہی کے لیے نہیں ،بلکہ لڑکیوں کے لیے بھی انتہائی ضروری سمجھی جاتی تھی۔

میرے خاندان کے بزرگوں نے علم کی ترویج کے لیے لڑکیوں کا ایک اسکول قائم کیا تھا،جہاں دینی ودنیا وی تعلیم کے ساتھ ساتھ مختلف زبانیں بھی سکھائی جاتی تھیں ۔میری والدہ نے انگریزی اور فارسی اپنے والد یعنی میرے نانا ،ڈاکٹر سرجن میجر صادق علی سے اور عربی اپنے سسر ،یعنی میرے دادا سے پڑھی ،جب کہ اردو ،پنجابی اور گرنتھی اسکول سے سیکھیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے ہومیو پیتھک کا باقاعدہ کورس کرکے طبیبہ کی سند بھی حاصل کی تھی ۔

قدرت نے انہیں بے پناہ ذہانت اور صلاحیتوں سے نوازا تھا۔

مزید برآں ،ان میں ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ گم شدہ افراد یا اشیاء کی بازیابی کے حوالے سے درست نشان دہی کردیتی تھیں ۔اس سلسلے میں لوگ دور دور سے ان کے پاس آتے تھے۔علاقے کی غریب خواتین کی فلاح وبہود کے لیے ایک انجمن بھی قائم کر رکھی تھی اور وہ علم کو ”رواں دریا“کہتی تھیں ۔

والدہ کو میری دادی سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور اپنی ساس ہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انہوں نے علم کو دلیل اور مستند حوالوں سے پھیلانے کا عمل جاری رکھا۔دادی کا یہ معمول تھا کہ عشاء کے گھر کے کام کاج سے فراغت کے بعد خاندان کی خواتین اور لڑکیوں کو حویلی میں جمع کرکے ان سے باری باری پوچھتیں کہ انہوں نے آج کون سی کتاب،مضمون یاکہانی پڑھی،پھر کسی سے کہتیں کہ اس کتاب یا مضمون کا خلاصہ سناؤ ،اس کے لکھنے والے کانام ،ناشرکانام بتاؤ اور یہ بھی کہ اس سے کیا سبق سیکھا ۔

غرض ،ہرروز تقریباََ ڈھائی تین گھنٹے کی نشست میں کوئی فضول بات نہیں ہوتی تھی۔برادری کے بچّے بھی آجاتے تھے،سب نہایت دل چسپی سے ان کی باتیں سنتے ۔ان دنوں قیام پاکستان کی تحریک زوروں پہ تھی اور ہم کپور تھلہ میں مقیم تھے۔ہمیں یہ یقین تھا کہ مشرقی پنجاب کی جن ریاستوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے،وہ پاکستان میں شامل ہوں گی۔مگر انگریز اور ہندوؤں کے گٹھ جوڑ سے ایسا نہیں ہو سکا اور ہم پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔

ہندوستانی فوج نے ہمیں زبردستی گھروں سے نکال کر جالندھر کے کیمپیوں میں پہنچا دیا،وہاں بھی اَن گنت مسائل کے باوجود میری والدہ نئی نسل کو درس وتدریس کے زیور سے آراستہ کرنے میں لگی رہیں ۔وہ آنے والے دَور کے بارے میں ہمارا ذہن تیار کرنے کا کام بہ حسن وخوبی سرانجام دے رہی تھیں ۔ان کا ایک جملہ مجھے آج بھی یا د ہے ۔

انہوں نے کہا تھا ”بچو! جب کوئی نیا گھر تعمیر ہوتا ہے ،تو اس کی تعمیر میں مٹی ،پانی ریت ،پتھر اور سیمنٹ استعما ل ہوتا ہے ،پھر جب یہ مکمل ہوجاتا ہے ،تو انسان اس کی آرائش کے لیے مختلف جتن کرنے لگتا ہے ۔

قالین ،فانوس اور فرنیچر سے اسے سجاتا ہے ۔پس ،تم لوگ یہ بات ذہن میں بٹھا لو کہ ہم جس جگہ جارہے ہیں ،وہی ہمارا گھر(پاکستان )ہے۔تمہیں اپنی محنت اور مشقت سے اس کی آرائش وزیبائش کرنی ہے ۔اپنے ماضی کو یاد رکھنا اور اس کی مدد سے مستقبل کو سنوارنا۔“یہ تھا میری والدہ کا پہلا سبق ،جوانہوں نے پاکستان میں قدم رکھنے سے قبل ہمیں ذہن نشین کروایا۔

ہم نے ان کی باتیں اچھی طرح گرہ میں باندھ لیں ،پاکستان کی سرحد میں داخل ہوتے ہی سب نے سجدہ شکر ادا کیا ۔پھر کچھ عرصے بعد ہم بہاول پور منتقل ہوگئے ۔وہاں میرے ابو نے اپنے ایک رشتے دار سے پانچ ہزار روپے ادھار لے کر نئے سرے سے زندگی کا آغاز کیا۔کچھ عرصے بعد جب ہمارے مالی حالات بہتر ہوئے ،تو ابو نے قرض کی پوری رقم لوٹادی۔یہ 1949ء کے شروع کی بات ہے ۔

ان دنوں کیمیکل ملی ایک نئی کھاد مارکیٹ میں آئی تھی ،جس کے بارے بتایا گیا کہ اس کے استعمال سے فصلیں بہت اچھی ہوجائیں گی ۔چچا نے کھاد خرید نے کے لیے سب سے مشورے مانگے ،تو والدہ نے کہا،”اگر تم کیمیکل زمین میں ڈالو گے ،تو لامحالہ اس کا اثر اناج پر بھی ہو گا۔مصنوعی چیز تو مصنوعی ہی ہوتی ہے ۔اگر چہ ،اس کھاد سے پیدا وار تو بڑھ جائے گی،مگر اس کے کیمیکلز سے حاصل ہونے والی اجناس کے استعمال سے انسانوں سمیت مویشیوں میں ایسی بیماریاں جنم لیں گی،جن کے بارے میں کبھی کسی نے سوچا تک نہ ہو گا ۔

معذوروں کی تعداد میں اضافہ ہوگا،اچانک اموات کے واقعات بڑھ جائیں گے اور دماغی خلل کی ایسی بیماریاں جنم لیں گی کہ جو سمجھ سے بالا تر ہوں گی۔“اگر موجودہ دور میں جنم لینے والی طرح طرح کی موذی بیماریوں کا ماضی کے تناظر میں جائزہ لیاجائے تو پتا چلتا ہے کہ آج کئی دہائیوں بعد ان کی پیش گوئی واقعی درست ثابت ہونے لگی ہے۔میڈیکل سائنس کی بے پناہ ترقی کے باوجود مصنوعی کھاد استعمال کرنے والی ممالک کے لوگ مختلف اقساام کی بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں ،جن میں شیز وفرینیا ،ذیابیطس ،امراضِ قلب اور کینسر سمیت دیگر کئی اقسام کے خطر ناک امراض سہر فہرست ہیں ۔

میری والدہ بچپن میں جب مجھے کوئی نصیحت کرتیں ،تو روزمرہ کی باتوں کے دوران کوئی ایسا واقعہ سناتیں کہ وہ میرے کچے ذہن میں سبق بن کر نقش ہو جاتا ،انہوں نے خاص طور پر گھر میں ایک وسیع کتب خانہ بنا یا تھا ،اس سے ملحقہ ایک وسیع گیلری نما مستطیل کمرا بھی تھا جس میں ہمارے اباؤ اجداد کی تصاویر، مختصر سوانح کے ساتھ دیواروں پر آویزاں تھیں ۔

خواتین کی تصویروں کی گیلری الگ تھی،وہ اکثر مجھے ان شخصیات کی خدمات کے بارے میں بتاتی رہتیں ،انہوں نے مجھ سے کہا کہ اگر تم نے بھی اپنے بزرگوں جیسی خدمات انجام دیں ،تو تمہاری تصویر بھی اس گیلری میں لگ سکتی ہے۔وہ کہتی تھیں کہ دولت اور شہرت کے پیچھے کبھی نہیں بھاگنا چاہیے،دین اور دنیا کی بھلائی اور اللہ تعالیٰ کی خوش نودی کے لیے کی گئی محنت ،مرنے کے بعد بھی صدقہ جاریہ کی صورت زندہ رہتی ہے ۔

اللہ اچھی نیت پر اچھا اجر عطا فرماتا ہے ۔“مختصر یہ کہ میری والدہ کی تربیت اور ان کی بیش بہا خوبیوں سے نہ صرف ان کی اولاد بلکہ ہر وہ شخص مستفید ہوا ،جس کی فلاح وبہود میں ان کی نیک نیت ،خلوص اور محنت شامل تھی ۔انہوں نے اپنی علمی وروحانی صلاحیتوں سے اپنے اردگرد کے ماحول کو ہمیشہ روشن رکھا۔اگر چہ ان سے بچھڑے نصف صدی ہونے کو ہے ،مگر شاید ہی میرا کوئی دن ایسا گزرا ہو،جب ان کی کسی ایک نصیحت نے میری رہنمائی نہ کی ہو۔

تاریخ اشاعت: 2018-09-20

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Meri Maa Ki Tarbiyat Ke Achootay Rang" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.