Mohabbat Ka Meem MAAN

محبت کا میم، ماں

پیر مئی

Mohabbat Ka Meem MAAN
تحریر: وحید احمد،خانیوال
میں نے کل شب چاہتوں کی سب کتابیں پھاڑ دیں
صرف اک کاغذ پہ لکھا لفظ ماں رہنے دیا
محبت،خلوص، شفقت،چاہت،ایثار، قربانی، صبرو تحمل، رواداری اور اس جیسے سینکڑوں الفاظ ایک لفظ ماں کے سامنے آتے ہیں تو سسک سسک کر دم توڑ دیتے ہیں، کون ہے جو ماں کو ان معاملات میں زیر کر سکے،کون ہے جوہڈیوں کو منجمد کردینے والی سردی میں گیلے ہوجانے والے بستر پر خود سو سکے؟کون ہے جوگرم چلچلاتی دھوپ میں اپنی پھٹی پرانی چادر سے دوسرے پر سایہ کر سکے، کون ہے جو بھوک اورپیاس کی شدت کے باوجود پانی کا پہلا گھونٹ اور روٹی کا پہلا نوالہ کسی اور کو کھلا سکے، کون ہے جو خود کے پاس کپڑے نہ ہونے کے باوجود خوشی کے موقع پر دوسرے کو اچھے کپڑے دلا سکے،کون ہے جو اپنے جوتے تپتی ریت میں دوسرے کو دے سکے، کون ہے جو نظر کے بجھتے دیے کا خیال کیے بنا دوسرے کے لیے دن رات سلائی مشین چلا کر روزی کما سکے؟کون ہے وہ جس کے جانے کے بعد خداوند کریم بھی اپنے نبی سے کہتا ہے کہ " اے موسیٰ آج ذرا سنبھل کر "بے شک وہ عظیم المرتبت ہستی ماں ہے۔

(جاری ہے)

ماں کی محبت ایک بحر بے کناں ہے، ماں کی محبت تپتے صحرا میں بادِ صبا ہے، ماں کی محبت چلچلاتی دھوپ میں شجر سایہ دار ہے، ماں کی محبت اندھیری رات میں جگنو ؤں کی چمک ہے، ماں کی محبت سیپ میں پنہاں بیش قیمت موتی ہے، ماں کی محبت پھولوں کی مہک، ماں کی محبت بارش میں قوس قزح، ماں کی محبت جھیل میں کنول، ماں، ماں ، ماں بے کراں محبت اور بے لوث چاہت کاواحد عنواں ہے، ماں وہ واحد رشتہ ہے جس کے سامنے دنیا کا ہر رشتہ ہیچ ہے۔

ماں عقل و شعور کی پہلی نان فارمل درسگاہ ہے جس سے پڑھے ہوئے ولایت و بزرگی کی بلندیوں تک پہنچ جاتے ہیں پھر کوئی بو علی قلندر بنتا ہے تو کوئی شیخ عبدالقادر جیلانی، اسلام جو دین فطرت ہے اس نے ماں سے محبت کا جو درس دیا شاید ہی دنیا کے کسی دین نے دیا ہو، ماں کے قدموں تلے جنت کی بشارت لکھ دی، نقارہ بجا دیا کہ اپنی ماں کی قدم بوسی کرو، اسکی خدمت کرو اور اسکے بدلے میں جنت اپنے نام رجسٹری کروا لو، ہاں وہی جنت جسے پانے کے لیے لوگ دنیا کی عیش و عشرت تیاگ دیتے ہیں، ہاں وہی جنت جسے پانے کی خواہش میں لوگ جنگلوں میں جا کر عبادت و ریاضت کرتے ہیں ،اسے صرف ماں کی خدمت کے عوض دینے کا وعدہ فرما دیا۔

بو علی سینا فرماتے ہیں کے ماں کی بے لوث محبت کا نظارہ میں نے تب دیکھا جب ہم پانچ تھے اور سیب چار، ماں بولی مجھے تو سیب پسند ہی نہیں۔
ماں کی محبت کسی دیس کسی مذہب ، کسی فرقے کی محتاج نہیں ہوتی، ماں کی قدر و منزلت اور عظمت سے کوئی بھی انسان انکار نہیں کر سکتا، ماں کا مقام تو اتنا معتبر ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی نے پو چھا کہ میں نے خراسان سے اپنی والدہ کو اپنے کندھے پر اٹھا یا اور بیت اللہ لایا اور اسی طرح کندھے پر اٹھا کر حج کے منا سک ادا کروائے،کیا میں نے اپنی والدہ کا حق ادا کردیا؟تو حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما نے فرما یا: ”نہیں ہر گز نہیں، یہ سب تو ماں کے اس ایک چکر کے برابر بھی نہیں جو اس نے تجھے پیٹ میں رکھ کر لگا یا تھا۔


آج ماؤں کے عالمی دن کے موقع پر ماں کی محبت سے متعلق ایس ایم ایس ، واٹس ایپ ، فیس بک، ٹوئٹر ، انسٹا گرام کی پوسٹس لگانے کے بجائے چند لمحے اپنی ماں کے پاس بیٹھ جائیں، ان سے باتیں کریں، ان کے ساتھ ہنسی مذاق کریں،ان کے ساتھ اپنے روز مرہ کے معاملات شیئر کریں، ان کو اپنی خوشی غمی بتائیں، یہ نہ ہو کہ آپ ماں کے سامنے بیٹھے ہوں اور آنکھیں سمارٹ فون کی جانب لگی ہوئی ہوں، فیس بک سٹیٹس پر لائک لینے کے چکر میں آج بھی کہیں آپ اپنی ماں کوحقیقی معنوں میں اگنور یا بلاک نہ کیے بیٹھے ہوں، آئیے ماؤں کے عالمی دن کے موقع پر عہد کریں کہ ماں سے محبت کے اظہار کے لیے آپ ماؤں کے عالمی دن کا انتظار نہیں کریں گے بلکہ اپنے وقت میں سے چاہے چند لمحات ہی سہی ، اپنی ماں کو دیں گے لیکن ان لمحات میں آپ اور آپ کی ماں کے درمیان سوشل میڈیا یا کمپیوٹر کی ورچوئل ورلڈ حائل نہیں ہوگی، پھر آپ اپنی ماں کی آنکھوں کی چمک دیکھیے گا، ان کے لیے ہر وہ دن ان کا عالمی دن ہوگا جب جب آپ انکے پاس بیٹھیں گے، ان سے باتیں کریں گے۔


اس لیے چل نہ سکا کوئی بھی خنجر مجھ پر
میری شہ رگ پہ میری ماں کی دعا رکھی تھی
تاریخ اشاعت: 2019-05-13

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Mohabbat Ka Meem Maan" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.