بند کریں
خواتین مضامینمضامینموسم سرما کی پریشانی ، کھانسی سے نجات پائیں

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
موسم سرما کی پریشانی ، کھانسی سے نجات پائیں
اگر کھانسی کا علاج اس کی نوعیت کے مطابق نہ کیا جائے تو یہ صورتحال کو سدھارنے کے بجائے مزید بگاڑ کا باعث بن سکتا ہے سینے کی جکڑن اور دائمی کھانسی سے چھٹکارا پانے کے لیے لہسن سب سے بہترین دواثابت ہو سکتا ہے شہد کے استعمال سے گلے کی خراش میں راحت ملتی ہے یہ بلغم بھی دور کرتا ہے
سنیہ انیس :
کھانسی قدرتی جسمانی ردعمل ہے جو گردوغبار سے اٹی ہوئی آب و ہوا اور ٹریفک کے ڈھوئیں کی وجہ سے یا بلغمی جھلی پر انفیکشن کے نتیجے میں ہوتی ہے۔ کھانسی کسی سنگین بیماری کی علامت کو بھی ظاہر کرتی ہے اگر کھانسی مسلسل کئی دنوں تک ہوتی رہے تو اس کی طبی ماہرین کی توجہ کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ ۔ کیونکہ مستقل ایک ماہ سے زیادہ کھانسی کا موجود رہنا کسی خطر ناک بیماری کالارم بھی ہو سکتا ہے لیکن اس کی کوئی خاص وجہ بھی نہیں ہو سکتی ہے بہرحال احتیاط علاج سے بہتر ہے کہ مصداق کسی بھی بیماری سے بچاوٴ کے لئے احتیاط لازمی کرنی چاہیے۔
کھانی خشک یا بلغمی ہو سکتی ہے۔ بلغمی کھانسی کی وجہ سے ہونے والا بلغم سفید سے ہر رنگ میں تبدیل ہو نے لگتا ہے۔
اس کا رنگ مزید گہرا ہو جائے تو یہ عام طورپر انفیکشن کی نشاندہی کرتا ہے۔ خشک کھانسی ،بخار اور فلو کی وجہ سے ایک ہفتہ بھی رہ سکتی ہے اور دوسری صورت میں اکثر یہ ایک عادت بھی بن جاتی ہے جیسے بلاوجہ کھانسنا وغیرہ
قدیم چینی طبّ میں پھیپھڑے جذباتی غم کے شریک کار تصور کیے جاتے ہیں ۔ اچانک سے ملنے والی بری خبر کا شدید جھٹکا جیسے کسی عزیز کو موت کی خبر سینے کی جکڑن اور سانس کا مسئلہ استھیما (Asthima) وغیرہ جیسے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ اعصابی نظام کے علاج کے لئے لیمن بام بہت مفید اور کارآمد ثابت ہوتا ہے۔
ان تمام کیفیتوں میں طبی علاج کا انتخاب کھانسی کی نوعیت پر محیط ہوتا ہے آیا کھانسی خشک ہے یا بلغمی اور بلغم کی رطوبت گاڑھی ہے یا پتلی پانی جیسی ہے۔ کھانسی کے طبی علاج میں (Expevtoeants) بلغم نکالنے والی دوا کا اثر موجود ہوتا ہے۔یہ طبی ادویات کھانسی کے عمل کو بڑھا دیتی ہیں تاکہ بلغم کا اخراج ممکن ہو سکے اور آہستہ آہستہ پھر کھانسی کو بھی روک دیتی ہیں۔
کھانسی کی نوعیت کے مطابق علاج نہ کرنا، معاملے کو سدھارنے کے بجائے مزید بگاڑ پیدا کر سکتا ہے مثلا انفکیشن ہو گیا اور کھانسی کو روک لیں تو متاثرہ بلغم پھیپھڑوں کے اند رہی موجود رہے گا، جو صحت کے لیے نہایت مضر ہے ۔بالکل اسی طرح اگر خشک کھانسی ہے اور بلغم نکالنے والی Expectorant کا استعمال کر رہے ہیں تو یہ کھانسی کی صورتحال کو بڑھا کر مزید سنگین بنادے گی۔
طبی ماہرین پھپھڑوں ،بلغی جھلی اور سانس کی نالیوں میں درطوبت کو نکالنے کے لئے ایسی ادویہ کا استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے قے آئے اور تمام رطوبت جو سانس لینے کے عمل میں مشکلات اور رکاوٹ پیدا کر رہی ہیں اس کا اخراج ہو جائے اور سینہ بلغم سے صاف ہو جائے۔ رس بیری کا سرکہ بلغم صاف کرنے میں معاونت فراہم کرتا ہے۔ اگر اس میں کچلی ہوئی رس بیری بھی شامل کر دی جائیں تو علاج کے ساتھ ذائقہ بھی بہتر ہو جائے گا۔ تھائم اور اجوائن بھی اینٹی بیکٹریل دوا کے طور پر کام کرتے ہیں جو شدید پھیپھڑوں کے انفیکشن کو دور کرنے میں مدد کرتے ہیں اس کے علاوہ لہسن بھی بلغم کو جسم سے خارج کرنے میں بے حد مفید ثابت ہوتا ہے ۔ جو سینے کی جکڑن اور دائمی کھانسی سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے اس کے لئے لہسن سب سے بہترین دوا ثابت ہو سکتا ہے۔ سینہ صاف کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ لہسن میں بنے ہوئے کھانے کھائیں تو اس سے بہت افاقہ ہوگا۔
پیاز بھی کھانسی کے علاج کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔ شہد کا استعمال بھی بلغمی جھلی کو سکون اور شفاء بخشتا ہے۔ بہتا ہوا زکام بھی عام طورپر کھانسی کی اہم وجہ ہوتا ہے۔ سونف اور سونف کے جوشاندے سے کھانسی میں بہت افاقہ ہوتا ہے اور گلے کی خراش کو راحت ملتی ہے۔
جوشاندہ اور چائے کی طرح کھانسی کے علاج کے لئے پسلیوں کی مالش کرنے سے بھی بلغم باہر نکالنے میں مدد ملتی ہے۔ سینے کی مالش کیلئے بہت سے تیل تیار کیے جاتے ہیں۔ ان میں ایک طریقہ یہ ہے کہ 5 قطرے سونف کا تیل اور10-10 قطرے گوند اور تھائم کے تیل 50ml بادام کا تیل ملا کر دن میں تین دفعہ سینے کی مالش کریں۔ اس سے کھانسی میں بہت آرام آئے گا اور سینے اور پھیپھڑوں کو بھی راحت حاصل ہوگی۔
مالش کا نعم البدل بھی ہو سکتا ہے کہ رومال پر اس مرکب کے چند قطرے ٹپکا لئے جائیں اور اس کو سنگھ لیا جائے یا رات کو سوتے وقت برتن میں پانی بھر کر اس مرکب کے چند قطرے پانی میں ڈال دیے جائیں اور برتن کو کمرے میں میز پر رکھ دیا جائے تو اس سے رات میں کھانسی کے غلبے سے اعانت مل سکتی ہے۔ ان تمام قدرتی گھریلو نسخوں سے کھانسی، جو سردیوں میں آپ کو الجھن وپریشانی کا شکار کر دیتی ہے سے نجات مل سکتی ہے۔

(6) ووٹ وصول ہوئے