بند کریں
خواتین مضامینمضامینموراساکی شکیبو (اندازاََ 978تا 1030ء)

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
موراساکی شکیبو (اندازاََ 978تا 1030ء)
انیسویں صدی کے جاپانی دربار کی خاتون موراساکی شکیبو اپنی ایک تصنیف کی وجہ سے مشہور ہے جسے عالمی ادب کا پہلا عظیم ناول خیال کیاجاتا ہے The Tale of Genji ۔ چینی تاریخی تصنیف کاری اور چینی وجاپانی غنائی شاعری پر انحصار کرتے ہوئے خاتون موراساکی نے کچھ بالکل نیااور انوکھا تخلیق کیا․․․․․․
انیسویں صدی کے جاپانی دربار کی خاتون موراساکی شکیبو اپنی ایک تصنیف کی وجہ سے مشہور ہے جسے عالمی ادب کا پہلا عظیم ناول خیال کیاجاتا ہے The Tale of Genji ۔ چینی تاریخی تصنیف کاری اور چینی وجاپانی غنائی شاعری پر انحصار کرتے ہوئے خاتون موراساکی نے کچھ بالکل نیااور انوکھا تخلیق کیا ․․․․․․ حقیقی کرداروں پر مشتمل ایک نثری رومانس۔ اٹھارہویں صدی کے یورپ میں ناول کے لیے ان اجزا کو لازمی خیال کیاجاتا تھا۔ تاہم The Tale of Genji محض ایک تاریخی فن پارے سے بڑھ کرہے۔ یہ جاپانی زبان میں نثری ادب کے اعلیٰ ترین شاہکاروں ،اور آج تک تحریری میں لائے گئے عظیم ترین تخیلاتی فن پاروں میں سے ایک قراردیا جاتا ہے۔
بدقسمتی سے موراساکی کے بارے میں معلومات بہت کم ہیں۔ اُس کا باپ ایک صوبائی گورنراور حکم ران خاندان Fujwara کاایک کم ممتاز فرد تھا۔ اُس کی ڈائری 1008ء کے اوخر سے لے کر 1010ء کے اوائل تک دربار میں ہونے والے واقعات بیان کرتی ہے۔ ڈائری میں بتایا گیا ہے باپ نے اُس میں لکھنے کی صلاحیت دیکھ کر قسمت سے شکایت کی کہ وہ لڑکا کیوں نہیں پیداہوئی تھی۔
اگرچہ اُس کاخاندان زیادہ اختیار تو نہیں تھا، لیکن ادبی کامیابیوں کے حوالے سے اسے کافی احترام اور امتیاز حاصل تھا۔ موراساکی شکیبو کے پردادانے جاپانی نثرکے پہلے شاہی انتخاب کی تدوین میں کردار ادا کیا، اور اُس کاباپ چینی کلاسکس کامحقق اور شاعرتھا۔ 998ء کے آس پاس موراساکی شکیبو کی شادی اپنے کزن سے ہوئی جوشاہی محافظ دستے کارکن تھا۔ 999ء میں اُس کے ہاں اکلوتی بیٹی پیداہوئی اور 1011ء میں شوہر مرگیا۔ گیارہویں صدی کے پہلے عشرے کے تقریباََ وسط میں مورا ساکی جاپانی شہنشاہ اکیکو کی خدمت میں داخل ہوئی۔ وہ تقریباََ 1013ء تک دربار میں ہی رہی۔ دربارسے جانے اور اُس کی موت کے بارے میں تفصیلات میسر نہیں۔
یقین کیاجاتا ہے کہ اُس نے درباری کی حیثیت میں ہی Genji-Monogatari (دی ٹیل آف گینجی) لکھنی شروع کی۔ عین ممکن ہے کہ وہ دربار میں یہ تخلیق پڑھ کرسنانے سے کافی عرصہ پہلے ہی اسے لکھ چکی ہو۔ اُس دور کے ادب پر عورتوں کاغلبہ تھا ، اور موراساکی شکیبو کی ادبی صلاحیت بلاشبہ دربار میں اُس کا ایک اہم اثاثہ تھی۔ طبقہ اشراف کی ہم عصرخواتین دیواروں اور پردوں کے پیچھے محدود اور گھٹن زدہ زندگی گزارتی تھیں۔ حتیٰ کہ اُن کے نام بھی شاذونادر ہی ریکارڈ میں آتے، کیونکہ شاہی کنیزوں اور شہزادیوں کے سوااعلیٰ نسل کی دیگر خواتین کے نام لکھنا بدتہذیبی سمجھی جاتی تھی۔ اس کے بجائے عورتوں کو اُن کے باپوں کے خطابات سے اخذہ کردو ناموں سے پکارا جاتاتھا۔ نام موراساکی غالباََ Genji کے ہی ایک کردار سے مشتق ہے یاپھر اس کامآخذ خاندانی نام fujiیعنی Wisteria ہے۔ وسٹیریاتخم دان نسل کی کسی بھی اوپر چڑھنے والی بیل کوکہتے ہیں۔ اسی نام کی ایک بیل بھی ہے جس کے معلق گچھوں دارخوشوں میں قرمزی، نیلے اور سفید پھول لگتے ہیں اور اس کے پتے گوشک داریاہوتے ہیں۔ یوں ہم موراساکی کامطلب قرمزی خیال کرسکتے ہیں۔
ڈائری سے لگتا ہے کہ موراساکی خاتون کی دربارمیں کچھ مخصوص فرائض اداکرکرنا ہوتے تھے ماسوائے ہم صحبتی کے)۔ اُس کے پاس لکھنے کا وقت تھا اور غالباََ درباری زندگی کی کارروائیاں، خصوصی شاہی خاندان میں بچوں کی پیدائشیں ریکارڈ کرنے کے لیے اُس کی حوصلہ افزائی کی گئی ۔ وہ اپنی ڈائری میں ایک پر فکر اور خبطی سی عورت نظر آتی ہے جس نے اپنے دور کے دیگر قابل ذکر اہل قلم اورشعرأ کے ساتھ میل جول اور خط وکتابت سے نفرت کی۔
دی ٹیل آف گینجی “ ایک ضخیم تصنیف ہے جو تقریباََ 75سال کے عرصے پر محیط اور شہنشاہ کے ناجائز بیٹے گینجی کے کیرئیر کاروزنامہ پیش کرتی ہے۔ اس میں گینجی کے بیٹے kaoru کابھی ذکر ہے لیکن درحقیقت وہ گینجی کے قریبی دوست کابیٹا تھا۔ ناول کوبے مثال اور انوکھا بنانے والی خوبی یہ ہے کہ اس میں کرداراور مقامات اصلی ہیں۔ جیسا کہ مورساکی کتاب میں لکھتی ہے کوئی بھی چیز ایک ناول کا موضوع بن سکتی ہے، بشرطیکہ وہ زمینی زندگی سے ہو، نہ کہ انسانی دنیا سے باہر کے کسی پرستان سے۔ ناول میں گینجی اور Kaoru کے معاشقوں کاحال بڑے شاعرانہ انداز میں بیان کیاگیا ہے۔ انجام زمان ومکاں کی ایک خوب صورت انداز میں پیش کی گئی تمثیل ہے جودیگر عظیم ناول نگاروں ، مثلا پراؤسٹ کے ساتھ موزانہ کی مستحق ہے۔
موراساکی شکیبو کاشاہ کارجاپانی تاریخ کے اُس کے دورکاایک شان دارکارنامہ ہے جب ادب پر عورتوں کا غلبہ ہوا کرتاتھا۔ عورتوں کی آوازیں دوبارہ ابھر نے میں انسان کوآٹھ صدیوں تک انتظار کرنا پڑا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے