بند کریں
خواتین مضامینمضامیننادیا بولانگر(1887ء تا 1979ء)

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
نادیا بولانگر(1887ء تا 1979ء)
فرانسیسی موسیقار، کنڈکٹر اور اُستاد نادیا بولانگر بیسیویں صدی کی موسیقی میں نہایت بااثر شخصیات میں سے ایک تھی۔
فرانسیسی موسیقار، کنڈکٹر اور اُستاد نادیا بولانگر بیسیویں صدی کی موسیقی میں نہایت بااثر شخصیات میں سے ایک تھی۔ اگرچہ اُس نے بطور موسیقار شہرت حاصل کی اور بڑے بڑے آرکسٹراز کی پہلی قابل ذکر خاتون کنڈکٹر تھی، لیکن اُسے پائیدار اور مستحکم شہرت موسیقی کی اُستاد کی حیثیت میں ہی حاصل ہوئی۔ جیسا کہ موسیقار ورجل تھامن نے کہا تھا کہ ” بولانگر امریکی موسیقاروں کی مادر علمی تھی۔
بولانگرپیرس میں پیدا ہوئی۔ اُس کا باپ ارنسٹ بولانگر (اپنے باپ کی طرح) پیرس کنزرویٹری“ میں گیت کاری سکھایا کرتا تھا۔ اُس کی ماں Raissa(جو ایک روسی نژادشہزادی تھی) شادی سے پہلے اپنے شوہر کی شاگردہواکرتی تھی۔ نادیانے دس برس کی عمر میں کنزرویٹری میں مطالعہ شروع کیا اور سترہ برس کی عمر میں اپنی تربیت مکمل کرنے تک موسیقی ترتیب دینے کے مقابلوں میں متعدد مرتبہ اول انعام جیت چکی تھی۔ اُسے ساز آواز پر مبنی کچھ گیت ترتیب دینے میں کامیابی حاصل ہوئی اور فرانس کے Prix de Romeمیں دوسری حیثیت حاصل کی۔ تقریباََ1912ء میں اُس نے موسیقی ترتیب دینے کاکام ترک کرکے ٹیچنگ پر توجہ مرکوز کردی۔ اولین شاگروں میں شامل اُس کی چھوٹی بہن للِی 1913ء میں prix de Romeجیتنے والی پہلی عورت بنی۔ قرین قیاس ہے کہ بولانگر نے اپنی بہن کی زیادہ عظیم صلاحیتوں کو تسلیم کرکے بطور موسیقار کیرئیر چھوڑ دیا ہو۔ جیسا کہ بولانگر نے بعد میں کہاتھا: میں نے اس لیے موسیقاری چھوڑی دی میری لکھی ہوئی موسیقی زیادہ بری تو نہیں مگر بے کار تھی۔ میر پیشہ سکھانا تھا۔ 1918ء میں لِلی کی قبل ازوقت موت نادیا کے کیرئیر میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی اور اُس نے استاد بننے کا مستحکم ارادہ کرلیا۔
نادیا بولانگر نے اپنے طویل کیرئیر کے دوران Ecole Normale، فونٹین بلیو میں واقع امیریکن کنزرویٹری اور پھر پیرس کنزرویٹری میں پڑھایا۔ وہ 1950ء میں امریکن کنزرویٹری کی ڈائریکٹر تعینات ہوئی ۔ 1930اور 1940ء کی دہائیوں کے دوران وہ یلسلے کالج، ریڈکلف کالج اور julliardمیں پڑھانے کی غرض سے امریکہ گئی۔ اُس کے شاگردوں میں بہت سے مشہور نام شامل ہیں آرون کوپ لینڈ، ورجل تھامسن، عائے ہیرس، ایلیٹ کارٹر، ڈیوڈڈائمنڈ اور بہت سے دیگر۔ Appalachian Springاور The Red Ponyجیسے کلاسیکی امریکی شاہ کاروں کے موسیقار آرون کوپ لینڈ نے ایک مرتبہ کہاتھا کہ بولانگر “ موسیقی کے بارے میں تمام جاننے کے قابل چیزوں کو جانتی تھی: اُسے قدیم ترین اور تازہ ترین موسیقی کے بارے میں تمام جاننے کے رموزازبر تھے۔ بولانگر کا پڑھانے کا انداز اور نظم وضبط ضرب المثل بن گیا۔ وہ صبح 8:00بجے اور کبھی کبھی اس سے بھی پہلے شروع کرتی اور رات 10:00بجے تک مسلسل پڑھاتی رہتی۔ اُسے رائل فل ہارمونک (شوقیہ گلوکاری Philharmonicنیویارک فل ہارمونک ، دلاڈلفیا آرکسٹرا اور بوسٹن سمفنی آرکسٹرا کنڈکٹ کرنے والی پہلی خاتون بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ 1938ء میں اس سے پوچھا گیا کہ وہ بوسٹن سمفنی کی پہلی خاتون کنڈکٹر بننے پر کیسا محسوس کرتی ہے تواُس نے اپنے مخصوص انداز میں جواب دیا میں تقریباََ پچاس برس سے عورت ہوں، اور میں نے اپنے اصل تحیر پر قابو پانا سیکھ لیا ہے۔
ایک عظیم اُستاد کے طور پر بولانگر کا جوہر قابل اپنے ہر ایک طالب علم کی اچھوتی صلاحیتوں کو سامنے لانے میں تھا۔ وہ انہیں اپنے قائم کردہ معیاروں پر جانچتی۔ جیسا کہ ورجل تھامسن نے وضاحت کی: اپنے شاگردوں کے آئندہ کام کے بارے میں پہلے سے کوئی تصورقائم کرلینا بولانگر کا طریقہ کار نہیں تھا۔
اُس نے نئی کمپیوٹریشنز تخلیق کرنے کے ساتھ ساتھ ابتدائی موسیقی میں بھی لوگوں کی دلچسپی بحال کی۔ وہ پچاس برس تک اپنے پیرس والے مکان میں ہربدھ وار کی موسیقی کے بارے میں محفلیں منعقد کرتی رہی۔ ان محفلوں میں وہ اپنے شاگردوں کو ترتیب دیتی، بحث مباحثے کرواتی اور مہمانوں کو بھی مدعمو کرتی۔
اسی سالہ نادیا بولانگر نے ریٹائر منٹ کے حوالے سے ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے کہا: میں نے کبھی بھی بڑھاپے کو ذہن میں نہیں رکھا۔ میرے پاس فرصت نہیں۔ میں کام کرتی ہوں۔ ریٹائرمنٹ کیسی؟ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کیا چیز ہے۔ یاتو آپ کام کرتے ہیں،یاپھر آپ کانہیں کر سکتے․․․․․ اور کام نہ کرسکنے کا مطلب موت ہے۔ نادیا بولانگر نے نابینا اور وہیل چیئرتک محدود ہوجانے کے باوجود کام جاری رکھا، اور 1979ء میں 92سال کی عمر میں اپنی وفات تک مسلسل کام کرتی رہی۔

(0) ووٹ وصول ہوئے