Octopus Lips

آکٹوپس لپس

بدھ جنوری

Octopus Lips
غلام زہرا
ہمیشہ سے خواتین کے چہرے کی خوبصورتی شاعروں کا مرکزی نقطہ رہا ہے۔بالخصوص ہونٹوں کی تازگی، دلکشی اور سرخی پر توکئی شاعروں نے غزلیں تک لکھ دیں اسی لئے تو خواتین اپنے ہونٹوں کی خوبصورتی برقرار رکھنے کے لئے نت نئے طریقے اختیار کرتی اور مہنگی ترین کریموں اور لپ اسٹک کا استعمال کرتی ہیں۔لیکن ہونٹوں کو ایک نئے انداز میں ڈھالنے کا ایک عجیب وغریب ٹرینڈ سامنے آیا ہے۔

لپس فلر، بوٹوکس اور دیگر بیوٹی ٹرینڈز کے ساتھ ساتھ اس عجیب وغریب انداز نے مذکورہ بالا ٹرینڈز کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
جی ہاں!نئے بیوٹی ٹرینڈ”آکٹوپس لپس“یا”ڈیول لپس“نے تمام بیوٹی ٹرینڈز کو بہت پیچھے چھوڑدیا۔ روس سمیت دنیا کے کئی ممالک کی خواتین میں اس وقت ہونٹوں کے لہر دار کناروں کافیشن چل پڑا ہے جسے آکٹوپس یا شیطانی ہونٹ بھی کہا جارہا ہے۔

(جاری ہے)

”آکٹوپس لپس “ایک ایسا بیوٹی ٹرینڈ ہے جس میں لڑکیوں کے ہونٹ کی شکل کو فلرز کی مدد سے تبدیل کرکے لہراتے ہوئے ہونٹوں میں تبدیل کر دیاجاتاہے ۔روسی خواتین اور لڑکیوں کی اکثریت انسٹا گرام اور دیگر پلیٹ فارم پر اپنے خمیدہ اور لہر دار ہونٹوں کی تصاویر پوسٹ کررہی ہے۔ان تصاویر پر لوگ ملے جلے ردعمل کا اظہار کررہے ہیں جس میں مبینہ طور پر ہونٹوں کے کنارے پر کسی میک اپ یا مٹیریل کو بھر کر لبوں کو خاص شکل دی جارہی ہے۔


یہ بیوٹی ٹرینڈ آج کل سوشل میڈیا پر خوب مقبول ہورہا ہے ،لیکن کوئی نہیں جانتا کہ اس عجیب وغریب میک اپ رجحان کی پشت پر کون ہے؟تاہم بعض میک اپ ماہرین کہتے ہیں کہ روسی پلاسٹک سرجن ایمیلیان براؤڈے نے یہ فیشن شروع کیا ہے جو اب جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکا ہے۔خواہ اس کا ذمے دار کوئی بھی ہو لیکن اب آڑھے ترچھے ہونٹوں کا یہ فیشن سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن چکا ہے اور لوگ اس پر تنقید بھی کررہے ہیں ۔

اور یہ نیا بیوٹی ٹرینڈ روس میں بے حد مشہور ہے۔
لیکن اس پر مزید غور کرنے سے قبل یہ بھی سن لیجیے کہ بعض پلاسٹک سر جنز حضرات نے اس رجحان کو نظر کا دھوکا بھی قرار دیا ہے۔ان کا خیال ہے کہ انسانی ہونٹوں کے کناروں کو ان شکلوں میں نہیں ڈھالا جا سکتا تاہم میک اپ کے دوسرے ماہرین کا اصرار ہے کہ یہ ممکن ہے لیکن بہت ہی خطر ناک عمل ہے کیونکہ اس کے لئے ہونٹوں میں انجکشن کے ذریعے خاص مٹیریل بھر کر ہی انہیں ایسی شکل دی جا سکتی ہے۔

روس کی مشہور پلاسٹک سرجن کر سٹینا ولسینز کے مطابق ہونٹوں کے بنیادی خدوخال اس طرح تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔اگر چہ ہونٹوں کے کناروں کو تیکھا ضرور کیا جا سکتاہے لیکن ان میں نشیب وفراز یا لہریں نہیں بنائی جا سکتیں جو ایک امر محال ہے۔کرسٹینا کے مطابق اگر ٹیکے کے ذریعے ہونٹوں میں کوئی مٹیریل ڈالا جا تاہے تو اس سے خون کی رگیں بند ہو سکتی ہیں اور اس سے متاثرہ حصہ ہمیشہ کے لئے مردہ ہو سکتاہے ،خون کی یہ رگیں لبوں کے کنارے پر موجود ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر کر سٹینا کے مطابق اس طرح سے ہونٹوں میں فلرز لگوانا خطرے سے خالی نہیں ہے کیونکہ اس سے خون کی باریک شریانیں بند ہونے کا خدشہ ہوتاہے جس سے جسم کے ٹشو مردہ ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔میک اپ آرٹسٹ کہتے ہیں کہ شاید یہ تمام تصاویر فوٹو شاپ کی گئی ہیں لیکن اتنی حقیقی لگتی ہیں کہ خواتین اسے اصل سمجھ کر ہونٹوں میں فلنگ کرارہی ہیں۔اس سے قبل خواتین نے ہونٹوں کو موٹا اور بھرا ہوا دکھانے کے لئے انجکشن لگائے تھے جس کا فیشن آیا اور اب خاتمے کے قریب ہے۔


آن لائن تبصرہ نگاروں نے بھی اس رجحان کو خوفناک قرار دیا ہے تاہم بعض پلاسٹک سرجن کا اعتراف ہے کہ ہونٹوں کو ایسی شکل میں ڈھالنے کے لئے پلاسٹک سرجری کے کئی مراحل درکار ہوں گے۔
دوسری جانب اس سے قبل انسٹاگرام اور سوشل میڈیا پر خواتین کا غیر روایتی انداز سے اپنے ہونٹوں کو سجانے کا سلسلہ بہت مقبول ہوا ،جسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

اس کو متعارف کرانے والی25سالہ ”منی مک گی“لیڈز میں رہتی ہیں اور اب صرف انسٹاگرام پر ان کے مداحوں کی تعداد 50ہزار سے زائد ہو چکی ہے جب کہ وہ آن لائن کاروبار سے بھی خطیر رقم کمارہی ہیں۔2010ء سے اپنا کام شروع کرنے والی منی اب تک ہزاروں انداز سے ہونٹوں کو نیاروپ دے چکی ہیں۔سب سے پہلے انہوں نے گلابی ہونٹوں پر نارنجی شیڈ دیا تھا اور اس کے بعد دانتوں میں ایک پونڈ کا سکہ دبا کر پہلی تصویر جاری کی تھی۔


انہیں بچپن سے ہی آرٹ سے لگاؤ تھا اور انہوں نے اس آرٹ کو خواتین کے ہونٹوں پر آزمانے کا فیصلہ کیا۔اب تک وہ کئی فلموں،جرائد اور ویب سائٹ کے لئے لپ آرٹ اور میک اپ کا کام کر چکی ہیں ۔انہوں نے بہت ذہانت سے لپ آرٹ کو ایک نئے درجے تک پہنچایا ہے کبھی وہ ہونٹوں کو سائلنس آف دی لیمبس جیسی فلمی تھیم دیتی ہیں۔کبھی وہ سینٹ پیٹرک ڈے پر ہونٹوں کو سبز رنگ دیتی ہیں جسے ان کے مداح بہت سراہتے ہیں۔

ہیلووین کے موقع پر انہوں نے ہونٹ کو ایک حقیقی آنکھ کا روپ دیا اور اس پر مصنوعی پلکیں بھی لگائیں جسے لوگوں نے بہت پسند کیا۔2018ء میں انہوں نے شہد کی مکھیوں کے تحفظ کے لئے اپنی مہم چلائی اور ہونٹوں کو شہد کی مکھی کی طرح سجایا اور اس کا اثر دنیا بھر میں ہوا۔جس پر اعتراض بھی کیا گیا لیکن منی کے مطابق یہ مکھی ان کے والد کے باغ میں مردہ حالت میں ملی تھی جسے انہوں نے اپنے آرٹ کا حصہ بنا لیا۔اس کے مطابق میں اپنے ہونٹوں پر بنائے فن پاروں کی تصاویر جملہ حقوق کے ساتھ فروخت کرتی ہوں جس سے بہت اچھی آمدنی ہو جاتی ہے۔اب دیگر خواتین بھی اپنے ہونٹوں پر آرٹ کے نمونے بنوانے کے لئے ان کے پاس آرہی ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2020-01-15

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Octopus Lips" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.