بند کریں
خواتین مضامینمضامیناولاد کی خواہش فطری ہے مگر

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اولاد کی خواہش فطری ہے مگر
بے اولاد ہونا عورت کا جرم کیوں ؟ آپ کو چاہیے کہ اپنے شوہر سے اپنی تمام ذہنی الجھنوں کا اظہار کریں بلکہ دونوں اس موضوع پر ایک دوسرے سے مکمل کر بات کریں اور اپنی ترجیحات کے بارے میں مل کر فیصلہ کریں
فرح ٹوانہ:
فرح ٹوانہ کہتی ہیں کہ عورت پر بے اولاد کی صورت میں زیادہ دباؤ شوہر کے گھر والوں کا ہو تا ہے اور اگر شوہر اس محرومی کے باوجود بیوی کے ساتھ سمجھو تہ کر لے تو دوسرں کو حق نہیں کہ انہیں شرمندہ کریں۔ سسرالیوں کو بھی سمجھنا چاہیے کہ محض بے اولاد کی بنا پر میاں بیوی میں دیوار کھڑی کرنے کی کوشش نہ کریں۔
بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں عورت کا بے اولاد ہونا اس کی زندگی کا نا قابل جرم ہے ‘ آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہو رہاہے ۔ آپ کو چاہیے کہ اپنے شوہر سے اپنی تمام ذہنی الجھنوں کا اظہار کریں بلکہ دونوں اس موضوع پر ایک دوسرے سے مکمل کر بات کریں اور اپنی ترجیحات کے بارے میں مل کر فیصلہ کریں۔اس حوالے شوہر کانکتہ نظر جاننا بھی ضروری ہے کہ کیا وہ اس محرومی کے باوجود آپ کے ساتھ بخوشی زندگی گزار سکتے ہیں ؟
شادی ایک سنجیدہ بندھن ہے اسے غلط معاشرتی رویوں کی بنا پرالجھنے نہ دیں البتہ اگر آپ کو لگے کہ آپ کے شوہر بھی آپ سے بیزار ہو گئے ہیں اور جان بوجھ کر آپ کو نظر انداز کرتے ہیں تو انہیں اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کی آزادی دے دیں۔
میں سمجھتی ہوں اگر میاں بیوی مل کر اس مسئلے کا حل نکال لیں تو کسی تیسرے کو ملوث کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اگر آپ اپنے شوہر کے ساتھ مل کرکوئی حل نہ نکا ل سکیں تو پھر کسی ماہر نفسیات سے رجوع کریں تاکہ وہ آپ کو حالات کی مناسبت سے بہتر انداز میں مشورہ دے سکے۔ اس کے علاوہ آپ اپنی کسی دوست یارشتے دارکی مدد بھی لے سکتی ہیں جو اس مشکل وقت میں درست فیصلہ کرنے میں رہنمائی کرسکے۔ عام طور پریہی دیکھا گیا ہے کہ ان مسا ئل کی وجہ سے میاں بیوی میں مسائل اور بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں کیونکہ وہ ایک دوسرے سے اپنی ذہنی الجھنیں ”شیئر نہیں کرتے اور پھرفرسٹریشن Frustration)) کا شکار ہوجاتے ہیں ۔
ویسے بھی یہ حالات خواتین میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتے ہیں اور غلط فہیماں بڑھ جاتی ہیں ۔ آپ کے شوہر میں اولاد کی خواہش فطری ہے اگر چہ آپ دونوں ہی اس محرومی سے لڑرہے ہیں لیکن ان کے پاس دوسری شادی کا ”آپشن“ بھی موجود ہے۔ اس صورتحال میں آپ دونوں اپنے رشتے کو مضبوط بنائیں ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزاریں پسندو نا پسند کا احترام کریں تاکہ ایک دوسرے پر اعتماد بڑھے۔ خصوصاآپ اپنے شوہر کی تمام ضروریات کا خیال رکھیں ‘ ان کی رائے کواہمیت دیں شادی ایک سنجیدہ بندھن ہے اسے غلط معاشرتی رویوں کی بنا پر الجھنے نہ دیں البتہ اگر آپ کو لگے کہ آپ کے شوہر بھی آپ سے بیزار ہو گئے ہیں اور جان بوجھ کو آپ کو نظر انداز کرتے ہیں توانہیں اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کی آزادی دے دیں ۔
ایسا بھی ممکن ہے․․․․․؟
عام طور پر بے اولاد ی کا تمام تر الزام عورت کے سرڈال دیا جاتا ہے جبکہ قصور مرد کا بھی ہوسکتا ہے ۔ اس حوالے لوگوں کو آگہی دینے کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ صرف عورت کو ہی مورد الزام نہ ٹھہرائیں اس حوالے میاں بیوی دونوں کو اپنا طبی معائنہ کرانا چاہیے ۔ اکثر لوگ عاملوں کے پیچھے بھا گنا شروع کر دیتے ہیں جبکہ اصل بوئیولوجیکل پرابلمز Biological problems)) کونظرانداز کردیا جاتا ہے اس میں شک نہیں کہ دعا تقدیر کو بدل سکتی ہے مگر دعا کے ساتھ ساتھ تدبیر بھی ضروری ہے اگر ایسانہ ہوتو ہسپتال اورڈاکٹروں کی ضرورت ہی کیا تھی؟ سسرال والوں کو بھی سمجھنا چاہیے کہ محض بے اولاد کی بنا پر میاں بیوی میں علیحد کی مناسب نہیں ۔ اگر وہ ایک دوسرے کے ساتھ خوش ہیں اور محرومی کو قبول کر کے زندگی میں آگے بڑھنا چاہیے ۔ بعض اوقات جب انسان بالکل ناامید ہوجاتا ہے تو شادی کے کئی سال کے بعد اللہ تعالی معجزاتی طور پر اولاد سے نوازدیتا ہے۔ اللہ کی رحمت سے کبھی بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے کون جانے وہ کب رحمت سے نوازدے؟
شوہر کاکردار․․․․․․․
اگر اولاد نہیں ہوتی توعورت پر زیادہ دباؤ شوہر کے گھر والوں کا ہوتا ہے اگر وہ اس محرومی کے باوجود بیوی کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کو تیار ہے تواپنے گھروالوں سے صاف صاف کہہ دے کہ وہ آئندہ اس بارے میں کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچے اور انہیں اپنی محرومی کا احساس ہو۔ اگر شوہر بیوی کو مضبوط سہارا دے تو دوسروں کو مداخلت کا موقع نہیں ملتا۔ شوہر کو سمجھنا چاہیے کہ اگر اللہ نے آپ کو اولاد سے محروم رکھا ہے تو اس میں صرف آپ کی بیوی کا قصور نہیں ہے ‘ بے اولاد ہونے کا دکھ بیوی اور شوہر کے لئے برابر ہو تا ہے بہتر ہے اس صورتحال کا مل کر سامنا کریں۔ بیوی کو ذہنی طور پر مطمئن کریں۔ ہمارے ہاں یہ تاثر ہے کہ والدین کا نام ولقب اولاد سے چلتا ہے لیکن اس دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جوآنے والی نسلوں کے لئے باعث تقلید بن جاتے ہیں جن میں سے ایک طارق عزیز بھی ہیں ۔

(1) ووٹ وصول ہوئے