بند کریں
خواتین مضامینمضامینپاکستان میں حجاب کا بڑھتا ہوا رجحان

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پاکستان میں حجاب کا بڑھتا ہوا رجحان
ایک سروے کے مطابق پاکستان کی تعلیم یافتہ خواتین کی اکثریت اسکارف پسند کرتی ہے۔ بہت سی کام کرنے والی خواتین ‘ یونیورسٹیوں اور کالجوں کی لڑکیاں ماڈرن بننے کی دوڑ کے باوجود اپنے مذہب سے لگاوٴ کے باعث اسکارف یا حجاب اوڑھنے کو ترجیح دیتی ہیں
ربیعہ شاہد:
اسلام نے عورت کو سب سے پہلے عزت دی اور معاشرے میں اسے فخر و عزت کا باعث بنایا ۔مسلمان عورتوں کو دوسروں کی نظروں سے محفوظ رکھنے کے لیے جو نسانی تعلیم دی اسلام اسے حجاب کہتا ہے۔پہلے پہل حجاب کے طور پر بڑی چادر کا استعمال شروع ہواجو بعد میں برقع کی شکل اختیار کر گیا۔اب اس روایت میں کافی حد تک تبدیلی آ گئی ہے۔اور یہ جدید گاوٴن اور اسکارف میں تبدیل ہو گیا۔وقت کے ساتھ ساتھ اب گاوٴن کا رواج قدرے کم ہو رہا ہے۔جب کہ اسکارف کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔
ایک سروے کے مطابق پاکستان کی تعلیم یافتہ خواتین کی اکثریت اسکارف پسند کرتی ہے۔ بہت سی کام کرنے والی خواتین ‘ یونیورسٹیوں اور کالجوں کی لڑکیاں ماڈرن بننے کی دوڑ کے باوجود اپنے مذہب سے لگاوٴ کے باعث اسکارف یا حجاب اوڑھنے کو ترجیح دیتی ہیں۔اسکارف کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ دوپٹے کے ساتھ حجاب کی ضرورت کو بھی پورا کرتا ہے۔بحثیت مسلمان ہم قرآن و سنت کو اپنی زندگی سے الگ نہیں کر سکتے۔عورتوں کے لیے حجاب حکم الہی ہے اور قرآن پاک میں کئی مقامات پر عورتوں کو حجاب کی تلقین کی گئی ہے۔گاوٴں میں وہ خواتین اسکارف یا عبایا استعمال کرتی ہیں جو کسی اونچے گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔1980ء کی دہائی میں پاکستانیوں کا سعودی ممالک میں کام کرنے کے لیے جانے کا کافی رجحان تھا اور وہ سعودی کلچر سے قدرے مرعوب بھی تھے۔یوں ایسے مرد حضرات جو وہاں رہ کر آتے وہ اپنی بیویوں کو وہاں کا عبایا ضرور پہناتے۔یوں وہ عورتیں بطور نشان امارات کے وہ عبایا استعمال کرتیں۔اسی طرح نو بیاہتا خواتین میں بھی اسکارف اور عبایا پہننے کا رجحان زیادہ دیکھنے میں آیا ہے۔ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ بہت سی لڑکیاں بطور فیشن اسکارف کا استعمال کرتی ہیں۔ان کا ماننا یہ ہے کہ یہ معاشرتی طور پر انہیں تحفظ کا احساس دلاتا ہے اور آتے جاتے نامناسب اور میلی نگاہوں سے ان کو محفوظ رکھتا ہے۔ اسکارف پہننے والی لڑکیوں کی شخصیت پر وقار لگتی ہے۔کچھ خاندانوں میں مذہبی رجحان زیادہ ہونے کی وجہ سے لڑکیوں پر دباوٴ ہوتا ہے کہ وہ ہر صورت میں حجاب کریں۔لیکن سروے کے مطابق زیادہ تر لڑکیوں کا ماننا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے حجاب لیتی ہیں۔سر پر اسکارف لینے سے انہیں تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔اسی طرح دیکھا گیا ہے کہ مخلوط تعلیم والے تعلیمی اداروں میں لڑکیوں کے اسکارف لینے کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔ایسے اداروں میں جہاں لڑکے‘لڑکیاں اکٹھے پڑھتے ہیں ‘لڑکیوں کا کہنا ہے کہ اسکارف یا مکمل حجاب لینے سے وہ با اعتماد انداز میں اپنی کلاس پڑھ پاتی ہیں۔اور انہیں بار بار اپنے بال سنوارنے اور کپڑے درست کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔بہت سی طالبات کا کہنا ہے کہ فیملی کی جانب سے کسی دباوٴ کا سامنا نہیں ہے۔وہ اپنی مرضی سے اسکارف لیتی ہیں۔اس سے وہ اپنے آپ کو پراعتماد اور محفوظ محسوس کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ دلی خوشی ان کے ساتھ ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنے رب رحمان کی مرضی اور حکم کو خوشی سے مانا ہے۔اسکارف صرف کپڑے کا ایک ٹکڑا ہی نہیں بلکہ نسوانیت کی عکاسی کرتا ہے۔عورتوں کے کردار کو ہر جگہ ان کے عمل کی بجائے ان کے ظاہری لباس کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔کردار کی پختگی مرد و عورت دونوں کے لیے یکساں ضروری ہے۔ معاشرے کا ہر فرد اپنے معاشرے کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہے۔اسی طرح ہر مسلمان بھی اسلام کا سفیر ہوتا ہے۔لہذا اس کا لباس‘طرز زندگی‘لہجہ غرض ہر عمل صرف اس شخض تک ہی محدود نہیں ہوتا بلکہ وہ پوری امت مسلمہ کا انداز کہلاتا ہے۔بالکل اسی طرح اسکارف یا حجاب پاکیزگی کو ظاہر کرتا ہے ۔ جب ایک عورت اسکارف یا حجاب اوڑھتی ہے تو معاشرہ بھی اس سے کئی توقعات وابستہ کر لیتا ہے ۔کردار کے اعلی درجوں پر فائز کر دیا جاتا ہے۔ایک طالبہ کا کہنا ہے کہ حجاب لینے کے بعد مجھے کبھی کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا‘البتہ لوگوں کی نظروں میں اپنے لیے عزت ضرور محسوس ہوتی ہے اور اگر معاشرہ ہم سے اچھی توقعات رکھتا ہے تو میرے خیال میں یہ ایک مثبت چیز ہے۔میرے خیال میں اگر ہم اپنے مذہب کی نمائندگی کر رہے ہیں تو پوری طرح سے کرنی چاہیے۔

(1) ووٹ وصول ہوئے