Qadeem Tareen University Aik Muslim Khatoon Ki Dain - Special Articles For Women

قدیم ترین یونیورسٹی ایک مسلم خاتون کی دین - خواتین کیلئے مضامین

جمعرات 26 اپریل 2018

Qadeem Tareen University Aik Muslim Khatoon Ki Dain
کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی کہاں ہے؟ آپ کا جواب اوکسفرڈ یا کیمبرج ہوسکتا ہے یا پھر اگر تاریخ سے دلچسپی ہے تو شاید آپ ٹیکسلا یا نالندہ کہیں۔ٹیکسلا اور نالندہ میں بیشک قدیم یونیورسٹیاں قائم تھیں لیکن یہ و قت کی یلغار سہہ نہیں سکیں اور آج ان کے صرف کھنڈرہی باقی
بچے ہیں۔ تو پھر دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی کونسی ہے جو آج بھی کام کر رہی ہے؟
فاس، ایک تاریخی شہر ۔

۔آج ہم آپ کو ایک تاریخی شہر کے سفر پر لے چلتے ہیں۔ اس شہر کا نام فاس ہے جو مراکش کا قدیم ترین اور دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔ فاس کی سب سے بڑی خوبی یہاں کی یونیورسٹی ہے۔ فاس یافاس مدینہ شہر نویں صدی میں بسا تھا اور آج تک آبادہے۔ اس شہرکو تیرھویں اور چودھویں صدی میں تیزی سے پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔

(جاری ہے)

یہ وہ دور تھا جب مراکش میں المرینیون سلطنت قائم تھی۔

عرب ممالک کے تمام تر تاریخی شہروں میں فاس آج بھی بہتر حالت میں ہے۔ آج یہاں لوگوں کی زندگی میں نئی طرز زندگی کی جھلک نظر آتی ہے۔ لیکن شہر کا طرز، اس کا انداز آپ کو ماضی کی یاد بھی دلاتا ہے۔ فاس کے شہر کی گلیاں ایک دوسرے ایسے خلط ملط ہیں جیسے بھول بھلیاں ہوں اور آپ کو ایک کونے سے دوسرے کونے تک لے جاتی ہیں۔ شہر کے مرکز میں فوارے ہیں اورچھوٹے چھوٹے بازار یومیہ کی بنیاد پر لگتے ہیں۔

اس شہر کی بہت ہی پرانی عمارتیں رفتہ رفتہ کھنڈر میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ تاہم مراکش حکومت اس شہر کے تاریخی مقامات کے رکھ رکھاؤ پر بہت پیسے خرچ کر رہی ہے۔ اس شہر کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے قدیم کارفری علاقہ ہے۔ نقل وحمل کے لیے آج بھی یہاں پرانے طرز کی یکہ گاڑی،بگھی اور تانگے کا استعمال ہوتا ہے۔ اگرآپ فاس کی خوبصورتی دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ وہاں پیدل سفر کریں۔

ہر اہم عمارت پر قرآن کی آیتیں کندہ نظر آئیں گی۔ آپ وہاں کی نصف دیواروں پر سیرامک ٹائلز کے خوبصورت ڈیزائن دیکھ سکتے ہیں۔ قاسم شہرکی خوبصورتی اور اس کی تاریخی اہمیت آپ کو از خوداپنی جانب کھینچتیس ہے۔ اس شہر میں سیاحوں کی دلچسپی کا سب سے بڑا مرکز ایک عمارت ہے اور یہ عمارت دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی ہے جو ابھی تک کام کررہی ہے۔
جامع القرویین۔

۔ فاس شہر کے وسط میں جامع القرویین قائم ہے جو کہ دنیا کی قدم ترین یونیورسٹی ہے تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ یونیسکو اور گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز کے مطابق یہ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی ہے جہاں آج بھی تعلیم وتعلم کا سلسلہ جاری ہے۔ بہت سے ریکارڈز کے مطابق یہ دنیا کی پہلی یونیورسٹی ہے جہاں سند یا ڈگری دینے کا رواج عام ہوا۔ اس سے قبل ہندوستان میں ٹیکسلا اور نالند ہ جیسے تعلیمی ادارے تھے لیکن وقت کے ساتھ یہ ادارے اجڑ گئے اور ان میں درس و تدریس کا سلسلہ بند ہو گیا۔

جبکہ جامع القرویین میں گذشتہ 1200 سال سے بھی زیادہ عرصے سے مسلسل درس و تدریس جاری ہے۔ عرب ممالک میں تعلیم وتعلم کا قدیم ترین مرکز ہے۔ . اس یونیورسٹی کی عمارت فن تعمیر کی خوبصورتی کی نئی عبارت کہی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھی ہی اس کے قیام کی کہانی بھی دلچسی سے خالی نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ نویں صدی کے وسط میں جس وقت فاس کو ادریس سلطنت کے دارالحکومت کے طور پربسانے کا کام جاری تھا اسی دوران قرویین شہر سے فاطمہ نامی ایک رئیس زادی اپنے والد اوربہن مریم کے ساتھ یہاں آ کر بس گئیں قرویین شہرآج تیونس میں آباد ہے۔

فاطمہ نے فاس مد ینہ میں ہی شادی کی اور جب فاطمہ کے والد فوت ہو گئے تو دونوں بہنوں نے طے کیا کہ جس معاشرے میں میں انھیں پناہ دی ہے وہ ان پر قرض ہے اور انھیں یہ قرض ادا کرنا چاہیے۔ لہذا فاطمہ نے جامع القرویین کے قیام کا منصوبہ بنایا۔ یہاں نہ صرف لوگوں کی تعلیم کے لیے بلکہ 1 ان کی رہائش کے لیے ایک بڑی عمارت تیار کی گئی۔جبکہ ان کی بہن مریم نے اپنے حصے کی دولت سے اندلیسن نامی مسجد بنانے پر صرف کی۔

یہ مسجد اتنی وسیع تھی کہ وہاں تقریبا20 ہزارلوگ بیک وقت نماز ادا کر سکتے تھے۔ فاطمہ نے یونیورسٹی قائم کی مسجد کی سجاوٹ اعلی معیار کی ہے۔ مریم نے اپنی ساری دولت مسجد کی تعمیر میں خرچ کی جبکہ فاطمہ نے اپنے حصے کی وراثت سے یونیورسٹی تعمیر کی تاکہ یہاں لوگ تعلیم حاصل کرسکیں۔ کہا جاتا ہے کہ فاطمہ نے یونیورسٹی کے مکمل ہونے تک زیادہ تر مسلسل روزے رکھے۔

جامع القرویین 18 سال میں تیار ہوئی۔ لوگ مسجد کی خوبصورتی اندر باہر سے دیکھنے آتے ہیں۔ مسجد اور یونیورسٹی میں چاروں جانب دروازے ہیں۔ چھت پر ہاتھ سے مصوری کی گئی ہے۔ جس میں قدرتی رنگوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ اندر سے یہ انداز نہیں ہوتا کہ عمارت کتنی بڑی ہے لیکن باہر سے اس کی عظمت بخوبی عیاں ہو جاتی ہے۔جامع القروبین کی چھت سبز ٹائلوں سے تیار کی گئی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ دور تک ہریالی پھیلی ہوئی ہے۔ فرش پرمختلف رنگوں کی ٹائلیں ہیں جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فرش پر رنگ بکھیردیے گئے ہیں۔ فاطمہ کے بعد مراکش میں بہت سی سلطنتیں آئیں اور سب نے اپنے مطابق ان عمارتوں میں تبدیلی کی۔ مثلا بارھویں صدی میں یہاں المورد سلطنت کی حکومت تھی۔ انھوں نے مسجد کے صحن کو وسیع کیا اور دیواروں پر اپنے دور کی تصاویر بنوائیں۔

اس کے بعد الموحدون کی سلطنت قائم ہوئی جس نے لمبے عرصے تک حکومت کی اور جنوبی سپین تک اپنی سلطنت پھیلائی۔ ان کے دور میں جو تبدیلیاں کی گئیں ان میں ہسپانوی طرز تعمیر کی جھلک نظر آتی ہے۔ القرویین یو نیورسٹی کی ابتدا ایک مدرسے کے طور پر ہوئی تھی لیکن آج دنیا بھر کے لوگ یہاں تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔ آج اسے بین الاقوامی سطح پرمقبولیت حاصل ہے۔

یہاں دینی علوم کے علاوہ زبان و ادب، گرامر، موسیقی، قانون، تصوف، میڈیکل سائنس، جغرافیہ کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اس یونیورسٹی سے بڑے دانشور وابستہ رہے ہیں جن میں ابن خواتین کی تعلیم کا انتظام نہیں تھا۔ سنہ 1359 میں المرینیون خاندان نے یونیورسٹی کی لائبریری کومستحکم کرنے کا کام کیا۔ اس دور میں قرون وسطیٰ کیس کتابیں دنیا بھر سے تلاش کر کے یہاں لائی گئیں۔

یہاں تقریبا چار ہزار ایسے دستاویزات اورمخطوطے ہیں جودنیا میں کہیں اور نہیں ہیں۔در حقیقت یہ عرب ممالک کا وہ علاقہ ہے جہاں سے جدیدتمدن کی ابتدا ہوئی ہے۔ یہاں پرانے زمانے کو سمجھنے کا خزانہ ہے۔ عرب ممالک کی لائبریریوں میں مسلمانوں اور اسلام کوسمجھنے کے لیے بہترین دستاویز موجود ہیں لیکن افسوں کے کچھ لوگوں کی ناسمجھی کے سبب یہ قیمتی خزانے ضائع ہو رہے ہیں۔

جیسے عراق کے موصل میں واقع لائبریری مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے۔ البتہ جو ان دستاویزات کی قدرسمجھتے ہیں وہ ان کو ڈیجیٹیلائز کررہے ہیں تا کہ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کیے جا سکیں۔ اس یونیورٹی کا ایک حصہ سنہ 2016 میں لوگوں کے لیے دوبارہ کھولا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کویت کے عرب بینک نے مراکش کی ثقافتی وزارت کو بہت بڑی امداد فراہم کی ہے تا کہ اسلامی تہذیب کے اس پرانے مرکز کو بچایا جا سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس یونیورسٹی کا قیام ایک خاتون نے کیا تھا لیکن سماجی وجوہات کے سبب اس میں انہیں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں تھی۔بہرحال اب یہ پابندی نہیں ہے اور آج مختلف مذاہب کے مردوزن اس یونیورسٹی میں پڑھنے کے لیے آرہے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2018-04-26

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Qadeem Tareen University Aik Muslim Khatoon Ki Dain" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.