بند کریں
خواتین مضامینمضامینرمضان المبارک

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
رمضان المبارک
ورکنگ ویمن کی مصروفیات میں اضافہ

حافظہ سعدیہ:
رمضان المبارک کی آمد کی خوشی ہر کسی کے چہرے پرعیاں ہے۔ بڑوں کو تو رمضان کی خوشی ہوتی ہے‘ لیکن بچوں میں زیادہ روزہ رکھنے کی لگن ہوتی ہے۔ جہاں رمضان المبارک کی آمد کاانتظار ہر کسی کورہتا ہے۔ وہیں رمضان المبارک کی آمد سے ورکنگ ویمن کی مصروفیات میں بھی بے پناہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ ورکنگ ویمن اگرچہ عام دنوں میں بہت زیادہ کام کرتی ہیں‘ لیکن ماہ رمضان میں ان کی ڈیوٹیاں بڑھ جاتی ہیں یعنی گھریلو کام کاج کے علاوہ آفس اور پھر سحری وافطاری کی تیاری انہیں دوگنا مصروف کردیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان کی برکتیں سمیٹنے کیلئے چونکہ خصوصی عبادات اولین ترجیح ہے لیکن ورکنگ ویمن اس ماہ میں سب سے زیادہ مشکلات کاشکار رہتی ہیں۔ ماہ رمضان میں خواتین کی مصروفیات بڑھ جاتی ہیں تو پھر ان سے وہ کیسے نبروآزماہوتی ہے۔ اس حوالے سے ہم نے کچھ ملازمت پیشہ خواتین سے بات کی۔ تو انہوں نے کہا:
بنک میں کام کرنے والی مسزرحمہ نے بتایا: ماہ رمضان میں مصروفیات بڑھ جاتی ہیں لیکن جتنی رمضان کی آمد کی خوشی ہوتی ہے اتنی ہی جلدی یہ مہینہ ختم ہوجاتا ہے۔ اس مہینہ میں سحری ختم ہونے کے بعد کرتی ہوں تاکہ افطاری میں دفترسے واپسی کے بعد زیادہ دیرانتظار نہ کرنا پڑے۔پھر فجر کی نماز پڑھ کر میں قرآن کی تلاوت کرتی ہوں، اس دوران بچوں کو سکول بھیجنے کاٹائم ہوجاتا ہے۔ بچوں کو سکول بھیجنے کے بعد اپنے شوہر کوتیار کرکے خود بھی تیار ہونا پڑیا ہے۔ ماہ رمضان میں ورکنگ ویمن صرف تین یاچار گھنٹے کی نیند ہی لے پاتی ہیں۔ ایک ملٹی نیشنل میں جی ایم کے عہدے پر کام کرنے والی مسزفرخ نے بتایا کہ ماہ رمضان میں ہرکام تیزی سے کرنا پڑتاہے کیونکہ ان چدنوں سحروافطارکا خاص اہتمام کرنا پڑتا ہے۔ عام روٹین میں اگر کھانے کیلئے جلدی یادیر کوئی مسئلہ نہیں ہوتا لیکن ماہ رمضان میں چونکہ سحروافطار کے اوقات مقرر ہوتے ہیں، اسی لئے گھر کے کام میں تھوڑی تیزدکھانا پڑتی ہے۔ اور اگر کبھی دیر ہوجائے تو مت پوچھیں ہمیں شوہر نامدار کی جانب سے کس قسم کی باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ مجھے اس بات کا سخت افسوس ہوتا ہے کہ ورکنگ ویمن گھر کے کاموں میں مصروف ہوتی ہیں لیکن انہیں اس ماہ میں خشوع وخضوع سے عبادت کرنے کا وقت نہیں ملتا حالانکہ اس مہینے میں جتنی عبادت کی جائے اتنی ہی کم ہے، لیکن کام زیادہ ہونے کی وجہ سے عبادت کیلئے وقت نکالنا مشکل ہوجاتا ہے۔ گفتگو سمیٹے ہوئے مسزفرخ نے کہا میں سمجھتی ہوں ملازمت پیشہ خواتین اگر رمضان سے قبل اپنا ایک شیڈول بنالیں شاید وہ اس ماہ میں عبادت کیلئے
زیادہ سے زیادہ وقت نکال سکتی ہیں۔

(1) ووٹ وصول ہوئے