بند کریں
خواتین مضامینمضامینرنگ گوراکرنے والی کریموں کے نقصانات

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
رنگ گوراکرنے والی کریموں کے نقصانات
ہمارے معاشرے میں سفید جلدکو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ لوگ اپنی جلد کو نکھارنے اور گورا کرنے کے چکر میں ایسی ایسی حرکتیں کربیٹھتے ہیں کہ جن سے انھیں نقصان پہنچتا ہے اور
ڈاکٹر نوید علوی:
ہمارے معاشرے میں سفید جلدکو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ لوگ اپنی جلد کو نکھارنے اور گورا کرنے کے چکر میں ایسی ایسی حرکتیں کربیٹھتے ہیں کہ جن سے انھیں نقصان پہنچتا ہے اور جلد غیر صحت مند ہوجاتی ہے جلد کو گورا کرنے کاشوق عموماََ ابھی خواتی وحضرات کوہوتا ہے جن کارنگ سیاہ یاگندمی ہوتا ہے۔ جلد کو نکھارنے یاگورا کرنے میں جو پیچیدگیاں پیداہوجاتی ہیں، یہاں ان کا تذکرہ کیاجارہاہے۔
انسانی جلد کے رنگ کاا نحصار ایک مادے پر ہوتا ہے” میلانین“ Melaninکہتے ہیں۔ یہ جلد میں موجود اُن خلیوں سے پیداہوتا ہے، جو ملانوسائٹس“ (Melanocytes) کہلاتے ہیں۔
انسانی جلد مختلف رنگوں کی ہوتی ہے۔ جلد کے رنگ میں مختلف ماحول اورجغرایائی عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر جلد کے خلیات میں کوئی ایسی خرابی پیدا ہوگئی ہے، جس سے رنگ میں فرق پڑتا ہے تو اس کاعلاج کرنابہرحال ضروری ہے البتہ اپنی اچھی جلد کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑجانا کہ اسے گورا ضرور کریں گے، خطرات سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ بازار میں رنگ گورا کرنے والی ایسی لاتعداد کریمیں اور پاؤڈر ملتے ہیں، جن کے بارے میں دعوا کیاجاتا ہے کہ ان سے کایاپلٹ جائے گی، لیکن ان دعوؤں پر یقین کرنا اپنی جلد کوخراب کرنا ہے۔ معاملہ یہیں پرختم نہیں ہوجاتا، بلکہ رنگ گورا کرنے والی ادویہ بھی بازار میں آچکی ہیں، خاص طور پرخواتین اس سلسلے میں ہزاروں رپے خرچ کرکے رنگ گورا کرنے والے ٹیکے بھی لگواتی ہیں۔ آج کل کمپنیوں اور معالجوں کے لیے یہ منافع بخش کاربار بن گیا ہے۔ رنگ گورا کرنے والی کریموں سے دکانیں بھری پڑی ہیں۔
سب سے پہلے اہم ان گھریلو نسخوں کاتذکرہ کریں گے، جوٹیلے وژ ن پر دکھائے اور بتائے جاتے ہیں اور ان لائن بھی مل جاتے ہیں، مگر انھیں استعمال کرنے میں سب سے بڑی قباحت یہ ہوتی ہے کہ آپ نسخے میں دیے ہوئے وزن کے مطابق اجزاڈال رہے ہیں یانہیں۔
مثال کے طورپر ایسے بہت سے نسخوں میں، جو رنگ گورا کرتے ہیں، ان میں لیموں کارس ڈالاجاتا ہے، لیموں اور دوسری ترش چیزوں میں ترشی کی کمی یا زیادتی کافرق ہوتا ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ ایک چمچہ لیموں کے رس میں اتنی ہی ترشی ہو، جتنی کہ ہمیں مطلوب ہے۔ اگر مطلوبہ مقدار سے زیادہ ترشی چہرے پر لگالی جائے گی تواس جلد پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر فرد کی جلد بھی مختلف ہوتی ہے۔ ضروری نہیں کہ کسی نسخے میں شامل کیمیائی اجزا اسے دوسرے افراد کی طرح سے فائدہ پہنچائیں۔
اس سلسلے میں ایک خاتون کی مثا ل دی جارہی ہے، جو اپنے چہرے پر نارنگی کا رس لگایا کرتی تھیں، اس کے بعد نارنگی کے چھلکے سے اپنے چہرے کی جلد کورگڑا کرتیں۔اس کے باوجود مطمئن نہیں ہوتی تھیں اور چہرے کو کھردرے تولیے سے رگڑنے لگتیں۔اس عمل سے ان کے چہرے پر برا اثر پڑا اور جلد کی اندرونی سطح تک تعدید (انفیکشن) ہوگیا۔ یہ تعدیہ کافی علاج کے بعد ختم ہوا ۔
بازار میں فروخت کی جانے والی ایسی مصنوعات جوسستی ہوتی ہیں، ان کے بارے میں اشتہارات دیے جاتے ہیں کہ وہ خواتین کو چند دنوں میں گورا کردیں گی، لیکن وہ طبی لحاظ سے نقصان دہ ہوتی ہیں۔ا نھیں مسلسل لگانے سے چہرے کی جلد کی حساسیت بڑھ جاتی ہے۔ خواتین جب ان کریموں کولگاکر دھوپ میں نکلتی ہیں تو نقصان دہ اثرار مرتب ہوتے ہیں۔ ان کے چہرے پر ورم آسکتا ہے۔ چہرہ سرخ ہوسکتا ہے۔ جلن ہوسکتی ہے یاتعدید بھی ہوسکتا ہے ۔ ایسی کریمیں لگانے سے چہرے پر بال بھی نکل آتے ہیں۔
ان کریموں سے چہرہ وقتی طور پر تروتازہ لگتا ہے اور ایسامعلوم ہوتا ہے کہ رنگ گورا ہوگیا، لیکن یہ اتنی دیر کے لیے ہوتا ہے، جب تک کہ کریم لگی رہے۔ چند ماہ تک ایسی کریمیں لگانے سے پہلے جیسا نتیجہ نہیں نکلتا۔ کچھ عرسے بعد اگر ان کریموں کونہ لگایاجائے توجلد سیاہ پڑنے لگتی ہے۔ اس کے بعد مہاسے بھی نکل آتے ہیں۔
وہ کریمیں جو مہنگی ہوتی ہیں، مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوتیں اور نقصان ہوتا ہے یاان کے پہلوائی اثرات ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ جاننا بہرحال ضروری ہے کہ جو چیزکسی اور کو فائدہ پہنچارہی ہے کیا آپ کو بھی فائدہ پہنچائے گی، اس لیے کہ ہرایک جلد مختلف ہوتی ہے۔ اگر آپ کو کسی کریم کے لگانے سے جلن ہوتی یاچہرہ سرخ ہوجاتا ہے تو چہرہ دھوڈالیے اور پر معالج سے رجوع کیجیے۔
اگر چہرے پرپیدایشی داغ دھبے یانشانات ہوں توانھیں لیزرشعاعوں سے دور کیاجاسکتا ہے۔ چہرے کے سیاہ دھبے ختم کرنے کے لیے بھی ان شعاعوں کو استعمال کیاجارہاہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے