Sehatamand Or Chamakdar Nakhun

صحتمند اور چمکدار ناخن شخصیت کا عمدہ نکھار

پیر نومبر

Sehatamand Or Chamakdar Nakhun

حراتمکین
آپ کی انگلیوں کے ناخن‘آپ کی شخصیت کا اس سے کہیں زیادہ بہتر طور پر اظہار کرتے ہیں جتنا کہ آپ کا لباس یا آپ کی گفتگو۔ہم ناخنوں کو فائل کرتے (گھستے)ہیں۔انہیں دانتوں سے کاٹتے ہیں‘تراشتے ہیں‘ان کو رنگتے ہیں اور انہیں توڑتے ہیں۔لیکن اگر ہمارے پاس ناخن موجود نہ ہوں تو ہماری زندگی کتنی دشوار ہو جائے۔اگر ناخن نہ ہوں تو بہت سے ایسے نازک اور پیچیدہ کام ہیں جو ہم کرہی نہیں سکیں گے۔

ہم فولڈنگ یا اسکریننگ نہیں کر سکیں گی اور ایسی چھوٹی چھوٹی چیزوں کو اٹھا نہیں سکیں گے جیسے سوئیاں اور پنیں۔ہم جسم کے مختلف حصوں میں کس کس وقت ہونے والی خارش کو کس طرح دور کر سکیں گے؟یہ سارے کام تو ہم اپنے ناخنوں کی مد سے ہی انجام دے سکتے ہیں ۔

(جاری ہے)

اگر ناخن نہ ہوں گے تو ہم کیا کریں گے؟
بالوں کی طرح ناخن بھی بے جان ہوسکتے ہیں لیکن وہ جلد کے فوری طور پر نیچے موجود حساس تہوں کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ناخن کسی انسان کی شخصیت کا اس سے زیادہ بہتر طور پر اظہار کرتے ہیں جتنا کہ اس شخص کی ظاہری شکل وصورت یا اس کے بولنے کا انداز۔علاوہ ازیں عمدگی کے ساتھ ترشے ہوئے اور چمکدار ناخن شخصیت میں ایک رنگا رنگ نکھار پیدا کرکے اسے زیادہ دلآویز بناتے ہیں۔
کیا آپ جانتی ہیں کہ انسانی جسم اپنے اوسط عمر میں ساٹھ فٹ سے زیادہ لمبائی کے انگلیوں کے ناخن پیدا کرتاہے؟آپ کی انگلیوں کے ناخن پیر کے ناخنوں کے مقابلے میں چار گنا زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ بڑھتے ہیں ۔

اور اس عام خیال کے برعکس کہ کیلشیم ناخنوں کے لئے ضروری ہے‘کیلشیم کے اجزاء کا ناخنوں کو مستحکم کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہوتاہے۔
انگلیوں کے ناخن ‘دیگر موسموں کے مقابلے میں گرمیوں میں زیادہ بڑھتے ہیں۔لمبائی میں اوسط اضافہ فی ماہ ایک انچ کے آٹھویں حصے کے برابر ہوتاہے۔درمیانی انگلیوں کے ناخن سب سے زیادہ تیزی کے ساتھ بڑھتے ہیں۔

اس کے بعد شہادت والی انگلی اور دوسری انگلیاں آتی ہیں۔اگر آپ ایک ناخن سے محروم ہو جائیں تو نیا ناخن نمودار ہونے میں ایک مہینہ لگ جاتاہے۔
ناخن ہمارے جسم کے دیگر مردہ خلیوں کے برخلاف کیوں برابر بڑھتے رہتے ہیں؟ناخن ایک خاص قسم کے ٹشو سے بنے ہوئے ہوتے ہیں جن میںKeratinising Squamous Stratified Tissueکہتے ہیں اور یہ ٹشو جو کہ جلد سے پیدا ہوتاہے اپنی اصل کے اعتبار سے مرتا نہیں ہے۔


اصل میں ہوتایوں ہے کہ جب خلیوں کی تہیں سطح کی طرف بڑھتی ہیں تو ایک نہایت غیر حل پذیر پروٹین جسےKeratinکہتے ہیں ناخن کے خلیوں میں جمع ہو جاتی ہے۔
جس وقت تک ایک تہ سطح تک پہنچتی ہے اس وقت تک اس کے خلئے اپنے نیوکلیس(Nucleus)سے محروم ہو کر مردہ ہو جاتے ہیں اور وہ محضKeratinکے چھلکوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔انہیں وقتاً فوقتاً تراش دیا جاتاہے۔

لیکن وہ برابر بڑھتے رہتے ہیں کیونکہ ان کی اصل میں خلیوں کی تقسیم کا عمل جاری رہتاہے۔انگلیوں کے ناخن‘سخت مادے کی تین تہوں سے تشکیل پاتے ہیں ۔ان تین تہوں کو رطوبت آپس میں ملائے رکھتی ہے۔ناخن بے رنگ ہوتے ہیں‘لیکن وہ گلابی نظر آتے ہیں کیونکہ ان کے نیچے خون کی رگیں ہوتی ہیں جن میں خون بھرا ہوا ہوتاہے۔ناخن کا وہ بڑھا ہوا حصہ جسے ننگی آنکھ سے دیکھا جا سکتاہے ‘فی الحقیقت مردہ ہوتاہے۔


انگلیوں کے ناخن آپ کی صحت کے بارے میں مفید علامات فراہم کرتے ہیں ۔خون کی بعض بیماریوں میں ناخنوں کے نیچے خون کے دھبے نمودار ہو جاتے ہیں۔سینے کی لمبی بیماریوں مریض کے ناخنوں کے رنگ کو سر مئی نیلا بنا سکتی ہیں۔اگر آپ کے انگلیوں کے ناخنوں کا رنگ نیلا ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ خون کی کمی کی شکار ہیں کیونکہ آپ کے خون میں سرخ ذروں کی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہے کہ وہ تہوں کے نیچے سے نظر آئے۔


اس بات کو معلوم کرنے کے لئے کہ رنگ کی یہ تبدیلی آپ کے ناخن کے اوپر ہے یا اس کے نیچے ۔ناخن کی سطح کو ایک چاقو سے آہستہ آہستہ چھیلئے۔اگر اس طرح نکلنے والی چھیلن سفید یا شفاف ہے تو پھر اصل تکلیف آپ کے ناخنوں کے اوپر نہیں بلکہ ان کے نیچے ہے۔
سفید ناخن خون کے سر کولیشن کے مسئلے کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔
ہرے ناخن ایک بیکٹیریائی انفیکشن کی طرف اشارہ کرتے ہیں جسےPseudomonasکہتے ہیں۔


سرخ نشانات‘ناخن کی تہ میںCapillariesکے چھوٹے چھوٹے ہیمرج ہوتے ہیں۔
ناخن کے اوپر سیاہ دھاریاں گردے کے غدود کی خرابی کا پتہ دیتی ہیں۔
عمودی ابھار عمر رسیدہ لوگوں کے ناخنوں میں عام طور پرپائے جاتے ہیں۔
فنگل(Fungal)انفیکشن عام طور سے ناخنوں کے سرے کے اوپر یا نیچے سفید پھولی ہوئی تہ کی شکل میں نمودار ہوتاہے۔
اگر ناخنوں کا رنگ تبدیل ہو جائے اور وہ بدرنگ ہو جائیں تو انہیں پالش کرنے کی یا چھپانے کی کوشش مت کیجئے۔

بلکہ فوری طور پر کسی ڈاکٹر سے رجوع کیجئے۔ناخنوں کی خرابی کو کاسمیٹکس کا مسئلہ سمجھ لیا جاتاہے جوکہ بالکل غلط ہے۔ناخنوں کی خرابی کا علاج انہیں رنگنے یا ان پر پالش کرنے میں نہیں ہے،بلکہ ڈاکٹر سے رجوع کرنے میں ہے۔
عورتوں کو خاص طور سے اپنی ناخنوں کی حفاظت پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔کیونکہ جھاڑو دینے‘برتنوں کو صاف کرنے اور کپڑے دھونے کے دوران ان کے ناخن سخت چیزوں سے نبرد آزما ہوتے ہیں۔

ناخنوں کے نزدیک کی کھال خشک ہو جاتی ہے اور اس میں سختی آجاتی ہے۔اس کی وجہ سے ناخن دکھنے لگتے ہیں۔ڈیٹر جنٹس ‘پاؤڈر اور صفائی کرنے والی دیگر اشیاء اور کیمیاوی مادے نہ صرف یہ کہ ناخنوں کی شکل وصورت کو متاثر کرتے ہیں بلکہ انہیں سخت اور بے قاعدہ بھی بناتے ہیں۔
ناخن اگر مسلسل پانی میں رہیں تو اس کی وجہ سے ان میں گھر دراپن اور ٹوٹ پھوٹ ہونے لگتی ہے۔

چنانچہ برتن دھوتے وقت اپنے ہاتھوں اور ناخنوں کی حفاظت کیجئے۔اپنے ہاتھوں کو پانی میں زیادہ دیر کے لئے مت ڈالے رکھئے۔
اگر تیرا کی کرتی ہیں تو تیرا کی کے لئے پانی میں اترنے سے پہلے اپنے ناخنوں پر پیٹرولیم جیلی لگائیے۔پیٹرولیم جیلی کی تہ ناخنوں کو پانی سے بچائے رکھے گی۔
سائنسی شواہد سے ظاہر ہوتاہے کہ بیشتر ین لوگوں کوناخنوں کے مسائل کا بھی سامنا ہوتاہے۔

تقریباً پچاس فیصدی لوگ ناخنوں کی ہی کسی نہ کسی تکلیف کا شکار ہوتے ہیں۔ان میں ناخنوں کی بیماریاں اور بگاڑ کی بہت سی شکلیں شامل ہیں۔
ناخنوں کو دانتوں سے کاٹنا․․․اس کے نتائج
بہت سے لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ دانتوں سے اپنے ناخنوں کو کاٹتے رہتے ہیں۔روسی سائنسدانوں کے کہنے کے مطابق ایسے لوگوں کو سیسے(Lead)کے زہر کا زیادہ خطرہ درپیش رہتاہے۔

سیسہ جسم میں انگلیوں کے ناخن میں جمع ہو جاتاہے اور جو لوگ دانتوں کو انگلیوں سے کاٹتے رہتے ہیں‘ان کے لئے بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔بچوں کو یہ خطرہ خاص طور سے درپیش رہتاہے اور یہ ان کی نشوونما میں بھی رکاوٹ پیدا کر سکتاہے۔
مزید برآں اسٹڈیز سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ دانتوں سے ناخن کاٹنے سے دانتوں میں بھی خرابی پیدا ہو تی ہے ۔ان کی جڑیں کمزور ہوتی ہیں۔

مائیکروفریکچر ہو سکتے ہیں۔مسوڑھوں کو نقصان پہنچ سکتاہے۔جلد کے انفیکشن ہاتھوں سے دانتوں تک پہنچ سکتے ہیں اور بعض صورتوں میں دانتوں کے توازن میں بھی بگاڑ پیدا ہو سکتاہے۔
اپنے ہاتھوں کو صاف رکھنے کے ساتھ ساتھ ناخن تراش(Manicure)بھی ناخنوں کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتی ہے اور ناخنوں میں جمع ہوجانے والی گندگی اور گردوغبار کی صفائی ہو جاتی ہے۔


اگر آپ نیل پالش استعمال کرتی ہیں تو نئی نیل پالش لگانے سے پہلے پرانی نیل پالش کو پوری طرح سے صاف کر لیجئے۔کاٹن وول کے ایک ٹکڑے کو نیل پالش ریموور میں ڈبو لیجئے اور اسے ناخن کے وسط میں لگائیے۔اب اسے دائرے کی شکل میں لگائیے۔اس بات کا خاص طور سے خیال رکھئے کہ پالش کناروں سے آگے نکل کر آپ کی جلد پر نہ پھیلنے پائے۔پرانی پالش کو صاف کرنے اور نئی پالش کو لگانے کے بعد اپنے ناخنوں کو احتیاط کے ساتھ فائل کیجئے۔

فائلنگ سے ناخنوں کی شکل و صور ت ٹھیک رہتی ہے۔جب فائلنگ کا کام بھی مکمل ہو جائے تو پھر اپنے ہاتھوں کو گرم پانی میں ڈال دیجئے اور پانی میں تھوڑا سا شیمپو ملالیجئے۔دس منٹ تک ہاتھوں کو پانی میں ڈالے رہئے۔اس کے بعد انہیں پانی سے باہر نکال لیجئے اور خشک کر لیجئے۔
کسیCuticle Softenerکا استعمال کیجئے۔اپنے ہاتھوں کو دھونے سے پہلے ناخنوں کے کناروں کے نیچے سے اچھی طرح صفائی کیجئے تاکہ وہاں موجودگندگی اور گردوغبار پوری طرح سے صاف ہو جائے۔

اپنے ناخنوں میں کوئی کریم لگائیے۔کریم کو کسی گیلے تو لئے سے صاف کر دیجئے۔پھر دیکھئے کہ آپ کے ہاتھ کتنے اچھے لگتے ہیں۔
پالش کرتے وقت پالش کے نیچے ایک بیس(Base)استعمال کیجئے تاکہ ناخنوں کو بدرنگ ہونے سے بچایا جا سکے۔ایک موٹ کوٹ (Coat)کے بجائے دو یا تین پتلے کوٹ لگائیے۔اس کی وجہ سے پالش میں چمک پیدا ہو گی اور یہ اکھڑنے سے بھی محفوظ رہے گی۔


اگر آپ اپنے ہاتھوں کا بہت زیادہ استعمال کرتی ہیں اور آپ کے لئے پالش کو اکھڑنے سے محفوظ رکھنا مشکل ہے تو بہتر ہے کہ آپ ٹرانسپیرنٹ پالش استعمال کریں۔
الرجک ری ایکشنز
اگر آپ کے ناخن بدرنگ ہو جاتے ہیں تو چند ہفتوں کے لئے پالش کا استعمال روک دیجئے۔اگر پالش لگانا ضروری ہوتو ٹرانسپیرنٹ پالش استعمال کیجئے تاکہ آپ کے ناخنوں کو گہرے رنگ کی پالشوں سے نجات مل جائے اور وہ مزید بدرنگ ہونے سے محفوظ رہیں۔


نیل پالش کو ہمیشہ ہفتے میں ایک بار صاف کردیجئے۔ناخنوں کو تراشئے اور چوبیس گھنٹے کے بعد دوبارہ پالش کیجئے۔
نیل پالش کی بعض اقسام الرجک ری ایکشن پیدا کر سکتی ہیں جن کی وجہ سے عام مادے گردن یا گالوں پر جلد میں سوجن آجاتی ہے اور سرخ نشان نمودار ہو جاتے ہیں جن میں خارش ہوتی ہے۔یہ دانے جنہیں نیل پالش سے پید اہونے والی جلدی تکلیف کہا جاتاہے فی الحقیقت الرجک ری ایکشن ہوتے ہیں جو پالش میں شامل کسی جزو کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں یا کسی بوتل میں دھات کی بوندوں کی موجودگی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔

اگر ری ایکشن کی یہ صورت حال جاری رہے تو پھر آپ کے لئے بہتر ہو گا کہ آپ اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔اگر آپ کواس امر کا شبہ ہو کہ کوئی خاص قسم کی نیل پالش الرجی پیدا کررہی ہے تو اس کے لئے ایک پیچ ٹیسٹ(Patch Test)کرکے دیکھئے۔اپنی کہنی کے اندرونی حصے پر پالش لگائیے۔اگر چند دن کے اندر اندر یہ جگہ سرخ ہو جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ پالش آپ کے لئے موزوں نہیں ہے۔

اسے مت استعمال کیجئے۔
لمبے اور نکیلے مصنوعی ناخن اگر چہ دیکھنے میں تو اچھے لگتے ہیں۔لیکن محققین کی رائے کے مطابق ایکر یلک ناخنوں میں جو کیمیاوی مادے استعمال کئے جاتے ہیں وہ بعض صورتوں میں الرجک ری ایکشن پیدا کر سکتے ہیں۔اس کی وجہ سے ناخنوں کے موڑ پر ‘انگلیوں کی پوروں پر‘پلکوں پر گردن پر اور چہرے کے دوسرے حصوں پر نظر آنے والے نشانات اور دانے پیدا ہوسکتے ہیں۔


یہاں بعض ایسے بنیادی اقدامات پیش کئے جارہے ہیں جن کے ذریعے آپ اپنے ناخنوں کی صحت کو یقینی بنا سکتی ہیں۔
اپنے ناخنوں کو پانی سے بچائیے۔
کپڑے دھونے جیسے گھریلو کام کاج کرتے وقت سوتی استر والے ربر کے دستانے استعمال کیجئے۔
پانی کا کام ختم کرنے کے فوراً بعد اپنے ہاتھوں پر موئسچرائزنگ لوشن لگائیے۔اپنے ناخنوں کو خشک اور صاف رکھئے۔


ایسے کاموں کے درمیان جن سے آپ کے ناخنوں کو نقصان پہنچ سکتا ہو دستانوں کا استعمال کیجئے۔
اپنے ناخنوں کو زیادہ لمبا نہ کیجئے تاکہ وہ ٹوٹنے سے محفوظ رہیں ۔انہیں تراشنے سے پہلے چند منٹ تک پانی میں ڈالے رکھئے۔
اپنے ناخنوں کے آس پاس کی جگہ کو زخمی ہونے سے محفوظ رکھئے۔ایک چھوٹا سا کٹ بھی انفیکشن کا باعث بن سکتاہے۔
ایسے نیل پالش ریموور کے استعمال سے گریز کیجئے جن میں Acetoneشامل ہوتاہے جو کہ ناخنوں کوخشک کر سکتاہے۔


اگر آپ اپنے ناخنوں کو کسی پیشہ ورشخص سے ترشواتی ہیں تو اس امر کا یقین حاصل کر لیجئے کہ جراثیم سے پاک اوزار استعمال کئے جارہے ہیں۔
ایسی مصنوعات سے ہو شیار رہئے جو ناخنوں کو صحت مند بنانے یا انہیں کنڈیشن کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں۔وہ ایسا نہیں کر سکتیں کیونکہ ناخن تو مردہ ٹشو ہوتے ہیں۔
لوگ اپنے ناخنوں سے اسکر یو ڈرائیور کا‘ڈھکن کھولنے والے کا یا برش کا کام لیتے ہیں۔

اگر انگلیاں آگ یا کسی اور گرم چیز کے قریب ہوں گی تو ناخن خشک اور کھردرے ہو جاتے ہیں اور اپنی قدرتی چمک سے محروم ہو جاتے ہیں۔ناخنوں پر زیتون کے تیل کی یا پھٹکری ملے ہوئے پانی کی مالش انہیں صحت مند اور زیادہ چمکدار بناتی ہے۔ٹوٹے ہوئے ناخنوں کی صورت میں رات کو سونے سے پہلے نیم گرم سرسوں کے تیل سے ناخنوں کی مالش کافی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

مالش کے بعد تیس منٹ تک اپنی انگلیوں کو استعمال کیجئے۔
بدرنگ ناخن بہت خراب نظر آتے ہیں۔لیکن ناخنوں کے بغیر انگلیاں اس سے بھی زیادہ خراب نظر آتی ہیں۔ناخن بہر حال قوت لاسہ کو بڑھا وادیتے ہیں اور انگلیوں کی بھی حفاظت کرتے ہیں۔
لمبے اور نکیلے مصنوعی ناخن اگر چہ دیکھنے میں تو اچھے لگتے ہیں لیکن محققین کی رائے کے مطابق ایکر یلک ناخنوں میں جو کیمیاوی مادے استعمال کئے جاتے ہیں وہ بعض صورتوں میں الرجک ری ایکشن پیدا کر سکتے ہیں۔

تاریخ اشاعت: 2019-11-25

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Sehatamand Or Chamakdar Nakhun" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.