بند کریں
خواتین مضامینمضامینشادی پر شادی عیاشی یا ضرورت

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
شادی پر شادی عیاشی یا ضرورت
لوگ دوسری اور تیسری شادی تو جھٹ رچا لیتے ہیں مگر جلد ہی زیادہ بیویاں کے نقصانات سامنے آنا شروع ہوجاتے ہیں جیسے علیحدہ گھروں کا انتظام کیونکہ ایک نیام میں دو تلواریں نہیں سما سکتیں،

ہما میر حسن:
آخر ایک سے زائد شادیاں کیوں کی جاتی ہیں؟ شاید اس لیے کہ دو بیگمات ہوں گی تو ایک کی شوہر پر اجارہ داری ختم ہوجاتی ہیں دونوں میں مقابلے بازی کی وجہ سے شوہر پر سکون رہتا ہے۔اگر آپ کی ایک بیوی ہے تو وہ آپ سے لڑتی ہیں اگر آپ کی دو بیویاں ہیں تو وہ آپ کے لیے لڑیں گی۔لوگ کیوں شادیوں پر شادیاں کرتے ہیں آخر کوئی تو فائدہ ہوگا؟معروف شخصیات کی زندگی پر نظر دوڑائیں تو معروف سیاستدان مصطفی کھر بھی کثیر الازدواج ہیں۔گلو کار ناہید اختر کے شوہر کی دو شادیاں ہیں عارفہ صدیقی کے خاوند کی دو شادیاں ہیں،عمر شریف دو بیویاں،جاوید شیخ کی ایک سے زائد شادی،شہباز شریف حمزہ شہباز کی ایک سے زئد شادیاں۔عدنان سمیع خان کی دو شادیاں کتنی ہی فلمی و سیاسی شخصیات ایسی ہیں جن کی ایک سے زائد شادیاں ہیں،تاہم ایک سے زائد شادیوں کی حقیقت نہ اتنی سادہ ہے اور نہ اتنی آسان،ایک ریسرچ کے مطابق زیادہ شادیوں کی وجہ سے خواتین کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچتا ہیں لوگ دوسری اور تیسری شادی تو جھٹ رچا لیتے ہیں مگر جلد ہی زیادہ بیویوں کے نقصانات سامنے آنا شروع ہوجاتے ہیں جیسے علیحدہ گھروں کا انتظام کیونکہ ایک نیام میں دو تلواریں نہیں سماسکتیں دونوں کے دکھ درد کا خرچہ۔دو سسرالیوں اور ان کے رشتہ داروں کی غمی اور خوشیاں بھگتانے کا اضافی خرچہ ،،،،آئے روز کے لڑائی جھگڑئے اور ایک مستقبل ذہنی تناؤ،،،،بیویاں ایک بار بھڑ پڑیں تو چھڑوانا اور چپ کروانا ایک الگ مسئلہ جو سامان ایک کو لا کر دیا تو دوسری کو بھی دینا پڑے گا ایک کہے گی میرے ساتھ چلو شاپنگ کرنے دوسری کہے گی میرے ساتھ۔لہٰذا پھر جھگڑا ایک کہے گی کھانا میرے ساتھ کھاؤں دوسری کہے گی میرے ساتھ ایک کی طرف داری کروں تو دوسری ناراض دوسری کی تعریف کرو تو پہلی ناراض،غلط خاندان کی نکل آئیں تو اولاد خراب کثیر اولاد ہونے کی وجہ سے پڑھائی لکھائی کا اضافی خرچہ۔کبھی سیر پر جانے کا موقع ملے تو ایک کہے گی کہ میں نے کراچی جانا ہے تو دوسری کہے گی میں نے لاہور جانا ہے بیویاں سیاستدانوں کی طرح ہوتی ہیں اگر کبھی انہی کی طرح ایکا کرکے شوہر چڑھ دوڑیں توسوچیں انجام گلستان کیا ہوگا؟
کیا دوسری شادی ظلم ہے؟ بعض مرد اپنی بیزار شادی شدہ زندگی سے تنگ آکر دوسری شادی رچالیتے ہیں اکثر ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کے سبب دوسری شادی کا جواز ڈھونڈلیتے ہیں جن کے پاس دوسری شادی کا جواز نہیں ہوتا وہ اسلام کا سہارا لے کر دوسری شادی کرنا ا پنا حق سمجھتے ہیں،جواز کوئی بھی ہوں پہلی بیوی کے لیے شوہر کی نئی دلہن کسی چڑیل سے کم نہیں ہوتی اور سب کی ہمدردیاں بھی پہلی بیوی کے ساتھ ہی ہوتی ہیں کیا دوسری شادی ایک ظلم ہیں؟دراصل ہماری ذہنی کیفیت ایک نئے رخ پر آگئی ہیں ٹی وی ڈراموں فلموں اور خبروں وغیرہ میں دوسری شادی کو ایک خسارہ بے انصافی عیش پرستی کی صورت بناکر دیکھایا جاتا ہیں اب اگر کوئی دوسری شادی کا نام لے اس کی شامت آجاتی ہیں لوگ اس کو عیاش ظالم اور نہ جانے کیا کیا سمجھتے ہیں۔بلاشبہ ایسے کئی دھوکے باز ہوں گے جو دوسری شادی کرنے کے لیے انتہائی عیاری اور مکاری سے کام لیتے ہوں گے لیکن چند لوگوں کی وجہ سے دوسری شادی کو قطعی نامناسب فعل نہیں قرار دیا جاسکتا ۔یہاں بنیادی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کی کوئی یہ نہیں چاہے گی کہ اس کا شوہر دوسری شادی کرے بلکہ آج تو ہر عورت کی یہی خواہش ہوں گی کہ میں اپنے شوہر کے ساتھ اکیلی رہوں(کسی حد تک اس کا حق بھی ہے)شوہر کے ماں باپ بھائی بہن کوئی بھی ساتھ نہ رہے بلکہ جتنا دور اتنا اچھا ہے اب ایسے ماحول میں ایک شخص دوسری شادی کرلے وہ تو غصے اور غم میں پاگل ہی ہوجائے گی انتہائی حسد اور دکھ میں ہونے کی وجہ سے اس کا اپنے شوہر سے پہلا مطالبہ تو طلاق کا ہی ہوگا اور اگر نوبت کسی مجبوری یا کسی اور وجہ سے طلاق تک نہ بھی پہنچے تو وہ شوہر سے نفرت انگیز لہجے میں بات کرنے لگے گی چھوٹی چھوٹی بات کا بتنگر بنائے گی بدتمیزی اور بدزبانی کرتے ہوئے اپنے شوہر کو اس بات کا احساس دلائے گی کہ اس نے دوسری شادی کرکے بہت ہی نیچ،گھٹیا اور برا کام کیا ہے۔
اسلا م اور قانون کیا کہتا ہے؟ بلاشبہ مرد کی دوسری شادی سے بسے بسائے گھر اُجڑ جاتے ہیں اولاد نافرمان بن جاتی ہیں ۔لیکن اگر پہلی بیوی ذراہوشیار اور چالاک ہوں تو شوہر کو جیل بھی بھیجوا دیتی ہیں کیونکہ پاکستان میں رائج الوقت قانون کے مطابق مرد کو دوسری شادی کرنے سے پہلے اپنی پہلی بیوی سے تحریری طور پر ممکن ہوتو اشٹام پیپر پر نہیں تو ایک سادہ پیپر پر اجازت لینا ضروری ہوتی ہیں۔یہ اجازت پہلی بیوی کی آزادنہ رضامندی سے ہونی چاہیے یہ نہیں کہ شوہر زبردستی سختی سے یا ور غلا کر اجازت لے۔جس کے بعد دوسری شادی ہوسکتی ہیں اس قانون کے تحت نکاح خواں اور رجسٹرار کی یہ ذمہ داری ہے کہ بوقت نکاح اگر مرد بتلائے کہ یہ دوسری شادی ہے تو وہ اس سے اجازت نامہ طلب کرے اور نہ دکھانے پر نکاح پڑھانے یارجسٹر کرنے سے انکار کر دے۔اور اگر جھوٹ بول کر نکاح کرو ابھی لے تو پہلی بیوی کی درخواست پر شوہر کو قید اور جرمانہ کی سزا ہوسکتی ہیں اسلام اگرچہ ایک مرد کے لیے بیک وقت چار بیویاں رکھنے کی اجازت دیتا ہیں لیکن اگر کوئی عورت دوران عقد یہ شرط رکھ دے کہ اس کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کرسکتا ہے تو بعض فقہا کی نظر میں اس شرط کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا ۔اس حوالے سے فقہا کا کہنا ہے کہ نکاح دو فریقین کے درمیان ایک معاہدے جیسا ہے۔لہٰذا ایک لڑکی یااس کے گھر والوں کویہ شرعی حق حاصل ہیں اگر وہ چاہیں تو نکاح نامے میں یہ شرط شامل کرواسکتے ہیں کہ لڑکا اس کی بیوی کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کرے گا اور اگر لڑکا اس شرط کو مان لے تو پھر ہو پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی نہیں کرسکتا۔ان فقہا کے مطابق شادی بیاہ میں فریقین اپنی پسند کی کوئی بھی شرط لکھوا سکتے ہیں۔بشرطیکہ وہ شرط کار فرائض سے روکنے اور کار حرام کو کرنے سے متعلق نہ ہو۔چونکہ مرد کے لیے دوسری شادی کرنا لازمی نہیں لہٰذا پہلی بیوی نکاح نامے میں یہ شرط شامل کرواسکتی ہیں جس کے بعد شوہر بیوی کی زندگی میں دوسری شادی نہ کرنے کا پابند ہوتاہے۔ قرآن مجید میں کہا گیا ہے کہ ”ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لیے پسندیدہ اور حلال ہوں دو دو اور تین تین اور چار چار(مگر یہ اجازت بشرطِ عدل ہے)تاہم اگر بیویوں کے درمیان انصاف نہ کرنے کا اندیشہ ہو تو ایک ہی کافی ہیں فقہا نے اس بار ے میں کہا ہے کہ چونکہ دوسری بیوی پہلی کے ساتھ ہی رہے گی لہٰذا مناسب ہے کہ پہلی بیوی سے مشورہ نہ لیا جائے تو دوسری کو برداشت کرنا پہلی کے لیے بہت ہی مشکل ہے۔لہٰذا اجازت اور رضا مندی ضروری ہیں مزید یہ کہ اگر پہلی بیوی راضی نہ ہو تو اسے دلائل دے کر آرام سے راضی کیا جائے اس حوالے سے اگر مال اسباب بھی خرچ کرنا پڑے تو مضائقہ نہیں مگر اجازت ضروری ہیں۔اگر مرد دونوں بیویوں کو علیحدہ رکھتا ہے تو اسے دونوں کے ساتھ ہر معاملے میں برابری کرنے کا حکم ہے۔حدیث پاک کے مطابق”جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان کے درمیان برابری نہ کرے تو وہ قیامت کے دن ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کا آدھا دھڑ ساقط اور مفلوج ہوگا۔(مشکوة شریف) کچھ فقہاکہ یہ بھی کہنا ہے کہ دوسری شادی میں شرعا کوئی عیب نہیں لیکن پہلی بیوی کے برابر حقوق ادا کرنا شوہر کے ذمہ فرض ہے اگر دوسری شادی کرکے پہلی بیوی سے قطع تعلق رکھے گا تو شرعا مجرم ہوگا۔البتہ یہ صورت ہوسکتی ہیں کہ وہ پہلی بیوی سے مشورہ کرلے کہ میں تمہارے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہوں ،اگر تمہاری خواہش ہو توتمہیں طلاق دے سکتا ہوں اور اگر طلاق نہیں لینا چاہتی تو اپنے حقوق معاف کردو۔اگر پہلی بیوی اس پر آمادہ ہوتو کہ اسے طلاق نہ دی جائے اس صورت میں بھی خرچ دینا یعنی شوہر کی ذمہ داری رہے گی۔جہاں تک ممکن ہوں دونوں بیویوں کے درمیان عدل و مساوات کا برتاؤ لازم ہے پاکستان سمیت بعض دیگر اسلامی ممالک میں بھی مرد کی پہلیہ بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی کرنے پر پابندی ہے تاہم مرد دوسری شادی ان شرائط پر کرسکتا ہے۔ پہلی بیوی راضی ہو پہلی بیوی ازدواجی زندگی کے فرائض پورے نہ کرسکے۔بیوی کی طرف شوہر کی عدم اطاعت بیوی کا پاگل پن یا کسی لاعلاج بیماری میں مبتلا ہونا۔بیوی کو قیدی کو سزا ملنا بیوی کا نشہ آور مواد کا عادی ہونا بیوی کابانجھ ہونا وغیرہ مگر اب پاکستان میں فیملی ایکٹ کی اس شق کو غیر شرعی اور مردوں پر بے جا پابندی کے مترادف کہا جارہا ہے۔یہ بحث عام محفلوں سے ہوتی ہوئی ایوانوں تک پہنچ گئی ہے۔پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی میں تو باقاعدہ اعتراض کیا گیا ہے کہ موجودہ خواتین میں ترمیم لانے کی ضرورت ہے اور مردوں کو پہلی بیوی سے اجازت حاصل کیے بغیر دوسری تیسری شادی یا چوتھی شادی کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔اسلانی نظریاتی کونسل کے سربراہ محمد خان شیرانی کے مطابق شریعت مرد کو ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت دیتی ہے۔ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ متعلقہ قوانین میں ترمیم کرے،جن کے تحت ایک شخص کو دوسری یا مزید شادی کے لیے موجودہ بیوی یا بیویوں سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہے۔دوسری شادی کے حوالے سے موافق اور مخالف آرا ہمیشہ موجود رہیں گی۔یہ اب انفرادی سے زیادہ سماجی مسئلہ بن چکا ہے اکثرتو امراء ہی دو یا چار شادیاں رچاتے ہیں ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی بیویوں کا بوجھ برداشت کرسکتے ہیں جبکہ مڈل کلاس میں دوسری شادی کا رجحان محض اولاد کے لیے ہوتا ہے جو پہلی بیوی سے ممکن نہیں ہوتا سو دوسری شادی کے فائدے اور نقصان یکساں ہیں

(0) ووٹ وصول ہوئے