Soone Per Chaayi Mehengai - Special Articles For Women

سونے پر چھائی مہنگائی - خواتین کیلئے مضامین

بدھ دسمبر

Soone Per Chaayi Mehengai
راحیلہ مغل
سونے پر چھائی مہنگائی نے غریب خاتون کے دل سے تو جیسے سونا پہننے کا خیال ہی نکال دیا ہو،آسمان سے باتیں کرتی سونے کی فی تولہ قیمت نے تقریباً ہر طبقے کو پریشان کر رکھا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب دلہنیں بھی سونے کے بجائے مصنوعی جیولری پہن کر اپنا وقت گزارنے کی کوشش کرتی ہیں۔سونا تو سونا اب تو مصنوعی زیورات بھی سستے داموں میسر نہیں ہیں،ایک اچھا آرٹیفیشل سیٹ اچھی خاصی مالیت کا ہے۔

مصنوعی زیورات میں ڈیزائنز اس قسم کے ہیں کہ دیکھنے والی ہر نگاہ دھنگ رہ جائے ،اس وقت قیمتی پتھروں کے استعمال سے آرٹیفیشل جیولری کی تیاری کی جا رہی ہے۔اس وقت مارکیٹ میں مصنوعی جیولری کے حوالے سے بہت سارے برینڈز موجود ہیں جو آرٹیفیشل جیولری کے نت نئے ڈیزائنز پر کام کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

آرٹیفیشل جیولری کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کے پاس خاصی چوائس موجود ہوتی ہے،آپ کسی بھی لباس کے ساتھ اپنی من پسند جیولری پہن سکتی ہیں۔

آرٹیفیشل جیولری کے ڈیزائنز کی بات ہے تو یہ ہمارے قدیم ثقافتی ورثے کو نمایاں کرتے ہیں۔مصنوعی جیولری کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جو طبقہ سونے اور ہیرے کے زیورات پہننے کی سکت رکھتا ہے وہ بھی اب خوبصورت آرٹیفیشل جیولری پہننے کو ترجیح دیتاہے۔اس کی وجہ آج کل مصنوعی جیولری جس کو ہم ماڈرن جیولری بھی کہہ سکتے ہیں اس کی تیاری میں ہونے والے تجربات ہیں۔


ہمسایہ ملک انڈیا میں مصنوعی جیولری پر بہت کام ہو رہا ہے،پوری دنیا میں انڈیا کی جیولری استعمال اور پسند کی جا رہی ہے۔اس کے علاوہ ہمارے ہاں چینی، تھائی،ٹرکش اور انڈین جیولری خاصی مقبول ہے،اب تو پاکستان میں بھی مقامی جیولری بڑی مقدار میں بن رہی ہے۔چین کی جیولری خوبصورت اور بہت زیادہ چمک والی ہوتی ہے لیکن یہ چمک وقتی ہوتی ہے۔

تھائی جیولری کی شائن چین کی جیولری سے ذرا کم ہی ہوتی ہے لیکن جیولری پائیدار ہوتی ہے اور انڈیا کی جیولری کو ویسے ہی پاکستان میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔ آرٹیفیشل میں گولڈ پلیٹڈ جیولری پائیدار سمجھی جاتی ہے کیونکہ دکاندار اس کی گارنٹی دیتے ہیں اس سلسلے میں لاہور کی مصروف جیولری مارکیٹ لبرٹی ہیں آرٹیفیشل جیولری کا کام کرنے والے دوکانداروں کا کہنا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ سونے کی قیمت بڑھتی ہے تو آرٹیفیشل جیولری کی طلب میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ آرٹیفیشل جیولری سونے کی قیمت نہ بھی بڑھی ہو تو بھی خواتین بہت شوق سے پہنتی ہیں۔


آرٹیفیشل جیولری میں ماتھا پٹی،پنجگلہ،بریسلیٹ،کانٹے،بالیاں،ہیوی جھمکے،سہارے کے ساتھ جھمکے،تین سٹیپ جھمکا،ایئرنگ،جھومر سٹائل کا کانٹا،جھومر،بندی اور مالا،گلوبند،چوکر،چوڑیاں اور کڑے خواتین کی اولین ترجیح ہیں۔آرٹیفیشل میں گولڈ پلیٹڈ جیولری پائیدار سمجھی جاتی ہے کیونکہ دکاندار اس کی گارنٹی بھی دیتے ہیں لیکن یہ خاصی مہنگی ہوتی ہے۔

گولڈ پلیٹڈ میں پچاس سے اسی ہزار بلکہ لاکھ روپے تک کے سیٹ بھی دستیاب ہیں یہ خواتین کی چوائس پر ہے کہ وہ کتنی قیمت کا سیٹ بنوانا چاہتی ہیں۔کندن جیولری بہت زیادہ فیشن میں ہے،کندن کی جیولری پہلے گولڈ میں تیار ہوتی تھی لیکن اب آرٹیفیشل تیار ہو رہی ہے،اس کا ہلکا سیٹ پندرہ سے بیس ہزار روپے میں مل جاتا ہے،جبکہ فیک کندن کا سیٹ تین سے چار ہزار میں با آسانی دستیاب ہے۔

کندن کا سنگل کڑا پانچ جبکہ پولکی کا سنگل کڑا دس ہزار روپے میں بھی مل رہا ہے ۔کندن کے گولڈ پلیٹڈ جھومر بھی دستیاب ہیں۔پولکی جیولری بھی خاصی فیشن میں ہے۔اس کا سیٹ تیس سے پینتیس ہزار روپے میں جبکہ فیک پولکی کا سیٹ تین سے چار ہزار میں مارکیٹ میں دستیاب ہے۔مہندی کی تقریب میں کندن کی ماتھا پٹیوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔اس کے علاوہ موتیوں والی مالا اور چوکر کا استعمال بھی ہو رہا ہے۔


دراصل زیورات ہمیشہ سے ہی خواتین کی دلچسپی کا مرکز رہے ہیں تاہم بدلتے وقت کے ساتھ خواتین کے ذوق و جمال میں طرح طرح کی تبدیلیاں رونما ہوتی رہیں اور انہی کے مطابق ان کی زیورات کی پسند نا پسند میں بھی کئی طرح کی تبدیلیاں دیکھی گئیں۔اس طرح کبھی خالص سونے کے زیورات نے ان کی جگہ لے لی،کبھی موتیوں سے سجی جیولری خواتین کی توجہ کا مرکز بنی رہی تو کہیں نگینوں جڑے زیورات کو ترجیح دی گئی تاہم مجموعی طور پر تمام ادوار میں ان تمام اقسام کی مانگ قطعی طور پر کبھی بھی ختم نہ ہو سکی۔

ملے جلے زیورات کی اسی مانگ کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ خواتین کی زیورات کے لئے محبت کا اس سے بڑا ثبوت اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ وہ پرانے ہونے پر کپڑے اور جوتے تو ضائع کر سکتی ہیں مگر زیورات نہیں۔باقی اس بات کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں کہ خواتین کی تیاری میں ہمیشہ سے ہی جیولری اہم جزو تصور کی جاتی رہی ہے جب سے سونے پر مہنگائی چھائی ہے تب سے آرٹیفیشل جیولری کا رجحان پروان چڑھا ہے۔

اس وقت قیمتی پتھروں کے استعمال سے آرٹیفیشل جیولری کی تیاری کی جا رہی ہے۔
مصنوعی زیورات سستے داموں سے لے کر مہنگے داموں تک مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ایک وقت تھا جب شادی بیاہ کی تقریبات پر صرف سونے کے زیورات استعمال کئے جاتے تھے لیکن اب سونے کی بجائے مصنوعی زیورات کا استعمال بخوشی کیا جاتا ہے۔آپ دیکھیں اس وقت ہر برائیڈل آرٹیفیشل جیولری کے زیور ہی پہنے نظر آئے گی۔

مصنوعی جیولری میں ہمارے پاس خاصی چوائس موجود ہوتی ہے لباس پر کام کے مطابق آپ مختلف رنگوں سے مزین جیولری کا انتخاب با آسانی کر سکتی ہیں۔آرٹیفیشل جیولری کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کسی بھی لباس کے ساتھ اپنی من پسند جیولری پہن سکتی ہیں۔یہ بات تو طے ہے کہ جیولری کوئی بھی ہو خواتین کی تیاری ان کے بغیر ادھوری تصور کی جاتی ہے صدیوں سے پاکستان کی خواتین کو اپنے آپ کو زیور سے آہستہ کرنا بے حد پسند ہے۔

تاہم ضروری ہے کہ اس ضمن میں اپنی شخصیت، ملبوسات کا انتخاب اور موقع کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے زیورات منتخب کئے جائیں تاکہ یہ زیورات حقیقی معنوں میں حسن و دلکشی میں اضافے کا باعث بنیں نہ کہ شخصیت کو مضحکہ خیز بنا دیں۔آج کل برائیڈل کے لئے پولکی،ولیمے کے لئے زرقن کا ہلکا سیٹ جبکہ مہندی پر کندن کا سیٹ مقبول ہیں،پہنیں اور خوبصورت لگیں۔
تاریخ اشاعت: 2020-12-02

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Soone Per Chaayi Mehengai" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.