بند کریں
خواتین مضامینمضامین” وہ ایم ایم عالم کی طرح ہیرو بننا چاہتی تھی “

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
” وہ ایم ایم عالم کی طرح ہیرو بننا چاہتی تھی “
مریم مختیار(شہید) کی فیملی سے گفتگو
گلناز نواب:
جب تک نہ جلے ویپ شہیدوں کے لہو سے کہتے ہیں کہ جنت میں چراغاں نہیں ہوتا زندگی ایک کڑا سفر اور ایک امتحان ہے۔ اس میں کامیاب صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جنہیں اپنے مقاصد کاپتہ ہوتا ہے۔ کچھ سال قبل پاکستان ائرفورس جوائن کرنے والی مریم مختیار کوپتہ ہی نہیں تھا کہ اس کی یہ خواہش اسے امرکردے گی کیونکہ اب مریم مختیار پاک فضائیہ کے لئے ایک نام نہیں بلکہ پاک فضائیہ کاسنہراباب ہیں۔ مریم مختیار ان خوش نصیبوں میں سے ایک ہی جنہیں اللہ نے شہادت کے لئے چن لیاتھا۔
مریم مختیار شہادت کے مرتبے پر فائز ہونیو الی پاک فضائیہ کی پہلی خاتون فلائنگ افسر ہیں۔ 24 نومبر بروزمنگل کوان کاطیارہ میانوانی کے قریب کندیاں کے علاقے میں گرکر تباہ ہوگیا ۔ پاک فضائیہ کے ترجمان کے مطابق سکواڈرن لیڈر ثاقب عباسی اور فلائنگ افسر مریم مختیار کاطیارہ معمول کے آپریشن ٹریننگ مشن پرتھے۔ دوران پرواز ہی ہنگامی صورتحال پیدہوگئی۔ دونوں ہوابازوں نے پیشہ وارانہ مہارت کامظاہرہ کرتے ہوئے صورتحال سے نمٹنے اور عوام کے جان ومال کو بچانے کی بھرپور کوشش کی۔ حادثے کے بعددونوں کوکمبائن ملٹری ہسپتال (Cmh) منتقل کیاگیا۔ جہاں فلائنگ افسر مریم مختیار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئیں۔
24سالہ مریم مختیار کوان کے جراتمندانہ اقدام پرنہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی کی سطح پر خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے۔ گزشتہ دونوں شہید مریم مختیار کے والد کرنل (ر) مختیار احمد ‘والدہ مسزریحانہ مختیار اور بھائی شاہ رخ خان سے گفتگو کی گئی تومریم کی اصل شخصیت کھل کرسامنے آئی۔ اس انٹرویو کی تفصیل ذیل میں ہے۔
فیملی۔ مریم کی بچپن کی زندگی کیسی تھی بچی تھی ؟ کرنل (ر) مختیار احمد۔ میں نے کبھی اس طرح سوچا نہیں تھا کہ مریم زندگی کیسی ہے۔ لیکن میں اب یادکرتا ہوں کہ وہ عام بچی نہیں تھی۔ اس کی عادتیں اس کابرتاؤ اور اخلاق مثالی تھا۔ یہ بات ہرگزنہیں کہ میں اس کاباپ ہوں توبڑھا چڑھا کربتا رہاہوں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وہ جنتی تھی۔ وہ گھر پر آنے والے مہمان بچوں کواپنی ساری چیزیں، کھلونے دے دیا کرتی تھی۔ عموماََ بچے اپنی چیزیں دوسروں کواستعمال کرنے کیلئے نہیں دیتے۔ لیکن مریم ان سب بچوں سے مختلف تھی۔
میری خواہش تھی مریم آرمی جوائن کرے لیکن آئی ایس ایس پی کلیئر کرنے کے بعد جب اس کی سلیکشن ہوگئی تو اس نے کہا کہ یہ میری فیلڈنہیں ہے۔میں پائلٹ بننا چاہتی ہوں۔ یہ 2011ء میں پی اے ایف اکیڈمی چلی گئی۔ مجھے لگا کہ اس کے لئے یہ مشکل فیلڈ ہے لیکن اس نے جب خود کہاتوہم دونوں میاں بیوی نے اس کی خواہش کااحترام کیا۔ اب اس کے کولیگز سمیت ائرفورس کاایک ایک بندہ گواہ ہے کہ وہ کیسی تھی وہ بہادری میں کیسی تھی۔ وہ پڑھائی میں کیسی تھی اس کے انسٹر کٹرز گواہ ہیں۔
آپ کوپتہ ہے فورسز کی تربیت ذرامشکل ہوتی ہے۔ وہ کہا کرتی تھی جب ہمارے انسٹر کٹرز یاسینئرز ہمیں ڈانٹتے ہیں تو وقتی طور پر بہت محسوس ہوتا ہے لیکن اس کے بعد سب نارمل ہوجاتاہے کیونکہ وہ سب ہماری بہترین تربیت کے لئے ہی کررہے ہیں۔ آج میں سمجھتا ہوں کہ مریم کواللہ نے شہادت کے مرتبے سے نوازا ہے تووہ اللہ کی چیز تھی جواس نے جلد ہی لے لی۔
فیملی:۔ ائیرفورس جوائن کرنے کے بعد شروع میں پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں مریم نے کبھی آپ سے بات کی؟
کرنل(ر) مختیار احمد:۔ شروع کادور بہت سخت تھا۔ وہ اکثر گھر آتی تومیرے ساگتھ گھنٹوں باتیں کیاکرتی تھی۔ ہم نے بھی اس میں سختی دیکھی اور محسوس کی۔ لیکن اس کے ساتھ فورسز کی تربیت میں کوئی امتیازی سلوک نہیں کیاجاتاتھا۔ اس کوہروہ مشکل ٹریننگ دی گئی جولڑکوں کودی جاتی تھی۔
مریم کی پوسٹنگ رسالپور میں تھی ویک اینڈپر اکثر بچے اپنے گھروں کوچلے جاتے تھے۔ کیونکہ ان کے گھرقریب تھے مریم واحد تھی جس کاگھر کراچی میں تھا اور دوری کی وجہ سے وہ ہر ویک اینڈپر نہیں آسکتی تھی۔ وہ اس بات کوبہت محسوس کیاکرتی تھی۔ مجھے احساس ہوتا تھا لیکن میں کیا کرسکتا تھا۔ وہ گزشتہ چار سال سے اس طرح ہمم سے دور تھی۔ آخر بارہ وہ عیدالاضحی پر گھر آئی تھی۔ لیکن وہ جب بھی گھر آتی ہمارے گھر میں عید کا سماں ہوتا تھا۔
فیملی:۔ آپ کے باقی بچوں میں سے بھی کسی نے آرمی یاائرفورس جوائن کرکھی ہے؟
کرنل (ر) مختیار احمد:۔ نہیں میری بڑی بیٹی ماروی ڈینٹل سرجن ہیں اور آج کل آسٹریلیا میں ہیں۔ چھوٹا بیٹا شاہ رخ لمز میں پی ایس اکنامکس کا طالب علم ہے اور وہ لاہور میں رہتا ہے۔
مسزریحانہ مختیار نے مریم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بہت زندہ دل اور شرارتی بچی تھی۔ اس کی حس مزاح کمال تھی۔ وہ دوسروں کابہت زیادہ خیال رکھتی تھی اور دوسروں سے محبت کرنے والی تھی میں اسے ہمیشہ کمپیوٹر کہاکرتی تھی ۔ گزشتہ دنوں اس کاکوئز ہواتھا اور اس نے تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ مریم کی ماں ہوں لیکن اب مجھے اس بات پر فخر ہے کہ اس وقت وہ پوری دنیا کی بیٹی ہے۔ مریم بہت شرارتی تھی۔ اس کے بال بہت لمبے تھے۔ میں جب اس کی دو چوٹیاں بناتی تو وہ سرپر ہاتھ رکھ کربھاگ جاتی تھی۔ ایک مرتبہ یہ بہت زیادہ شرارتیں کررہی تھی اور میں اپنے کام کررہی تھی۔ اس وقت اس کی عمر چار سال کے لگ بھگ ہوگی۔ میں اس کے فراک استری کررہی تھی۔ میں کمرے میں گئی تو میں نے دیکھا کہ الماری میں9مزید فراک لٹکانے کے لئے ہینگر نہیں ہیں۔ یہ باہر شرارتیں کررہی تھی۔ میں نے اس کادھیان بٹانے کے لئے اسے کہا کہ جاؤ۔ تین، چار ہینگر لے کرآؤ یہ اندر گئی اس نے الماری میں پہلے سے استری شدہ فراکس کے ہینگر نکالے، کچھ فراک زمین پر پھینکے، ایک آدھا الماری میں لٹکتا رہ گیا اور میرے سامنے چار ہینگرزلے کر آگئی۔ اب مجھے اس کی وہ شرارت یاد آئے توہنسی آتی ہے کہ یہ شروع سے ہی حاضر جواب تھی۔ مریم اپنی پیدائش کے پہلے دن سے ہی علیحدہ کمرے میں کہاکرتی تھی۔ میں اسے کبھی گود میں نہیں اٹھایا کرتی تھی۔ جب یہ چھوٹی تھی توجیسے بڑے بچوں کوپیارکرتے ہیں۔ اسے کوئی پیار کرتا تویہ فوراََ منہ دھو کر آتی تھی۔ بہت ہی صفائی اورنفاست پسند تھی۔ میں آرمی پبلک سکول میں پڑھایا کرتی تھی، ایک مرتبہ میری کلاس میں بغیر اجازت آئی تو میں نے اسے باہر نکال دیا۔ میں نے اسے ساتھ یہ بھی بتایا کہ ڈسپلن کی خلاف ورزی تو جائزہی نہیں۔ اس کے بعد وہ نہ تودوبارہ میری کلاس میں آئی اور نہ ہی کبھی میری کلاس کے دروازے کے سامنے سے گزری۔
فیملی: مریم کے مشاغل کیاتھے؟ مسز ریحانہ مختیار: مریم کومطالعہ کابہت شوق تھا۔ ویسے تو خیر ماشاء اللہ میرے تینوں ہی بچے ذہانت میں Good Gifted“ ہیں۔ یہ میرے ساتھ باہر جاتی تو 6سال کی عمر میں ہی اس نے ہیری پورٹر کوپڑھ لیاتھا۔ باہر جاکر برگرکھایا۔ ساتھ کتاب رکھی اس دوران میں اپنے کام کرتی تو یہ سارا پڑھ لیتی تھی۔ مریم نے تھری کلاس میں شیکسپیئر کوپڑھ لیاتھا۔ جب چھوٹی تھی توایڑی والی جوتی پہن کرباہر سڑک پرٹک ٹک کی آواز سن کرخوش ہوئی اور سڑک کے درمیان میں چلتی رہتی تھی۔ گاڑی سے گزرنے والے لوگ اسے ہارن دیتے کہ مریم بیٹاسائیڈپر ہوجاؤ وہیں سڑک کے درمیان ہی کمرپرہاتھ رکھ کر انہیں کہا کرتی تھی انکل اتنی جگہ ادھر، اتنی جگہ اُدھر آپ وہاں سے کیوں نہیں گزر جاتے ۔ آپ نے ضروریہیں سے گزرنا تھا۔ غرض کبھی کسی بات سے نہیں گھبراتی تھی۔ اس نے کبھی مہندی نہیں لگائی تھی، کبھی چوڑیاں نہیں پہنی تھیں۔ ان چیزوں سے الرجک تھی۔ ہم نے مریم کی منگنی کی بات کنفرم کی تواسکی ساس نے ایک رنگ دی تواس نے رنگ باکس میں رکھ دی، میں نے کہا مریم اگر آپ پہننا چاہوتو کہنے لگی ماما یہ ہمارے یونیفارم میں پسند نہیں کیاجاتا تو میں یہ نہیں پہن سکتی۔ بعد میں پہن لوں گی۔
مریم ایک پاکیزہ روح تھی۔ جو نماز، روزے کی پابندتھی۔ بچپن میں مریم اکثر شاپ پرجاکر شور مچاتی، وہاں رش ہوتا تویہ شاپ کے اندرداخل ہوکر اونچی آوازسے کہا کرتی تھی۔ انکل مجھے یہ دے دیں، مجھے وہ دے دیں، ونہ میں شورمچاؤں گی اور سب لوگ بھاگ جائیں گے۔ تودکان والے انکل اس کوفوراََ چیزیں دیکر فارغ کردیتے۔ (مسکراتے ہوئے) مریم کااپن احق چھین کرلینا آتاتھا۔مریم کابچپن بھرپورتھا۔ وہ کلاس دن سے ہی پوزیشن لیڈر طالبہ تھی۔ کہاکرتی تھی کہ مجھے ایم ایم عالم کی طرح ہیروبننا ہے۔ وہ گھڑسواری کیاکرتی تھی۔ ٹرافی چیمپئن کی ونرتھی۔ بحث ومباحثہ میں حصہ لیتی تھی۔ اس کارٹہ اس قدر کامیاب تھا کہ رٹہ لگاتے وقت فل سٹاپ اور قومہ کارٹہ بھی لگاتی تھی۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ مریم کاکوئی فیس بک اکاؤنٹ نہیں تھا کیونکہ مجھے یہ پسند نہیں تھا۔ میں اسے کہاکرتی تھی کہ مریم فیس بک پر آئے تو کیاآئے گوگل پر آنا چاہئے تاکہ لوگ تمہیں گوگل پرسرچ کریں توانہیں پتہ چلے کسی شخصیت کوسرچ کیاہے۔
فیملی:مریم کاگھر پر آخری رابطہ کب ہوا تھا؟ مسزریحانہ مختیار: مریم کاگھر مریم کی اکیڈمی تھا اور مریم کاگھر ہی اس کاانسٹیٹیوٹ تھا۔ میں اس کی ٹیچر تھی، اس کی انسٹر کٹر تھی۔ وہ مجھے ہمیشہ کہاکرتی تھی۔ ماما آپ میرے لیے باپ اور ابومیرے لئے ماں کاکردار ادا کرتے ہیں۔ مریم کی میرے ساتھ بہت کم بات چیت ہوتی تھی۔ سوموار کی رات کو اس کی جوکال آئی۔ اس میں اس نے میرے ہی ڈائیلاگ سنائے تھے۔ اس نے مجھے کہاماما! آج کے بعد آپ کو مجھ سے Appointment لینی پڑے گی۔ کہنے لگی ماما میں اب عام پائلٹ نہیں ہوں، مجھے فائٹر پائلٹ کارینک مل گیاہے اب میں کوئی عام چیز نہیں ہوں۔ بس یہ کہہ کراس نے فون بندکردیا۔ مجھے اس کی آواز سن کرلگا یہ میرے ہی الفاظ مجھے دہرارہی ہے اب مجھے پتہ چلا ہے کہ وہ واقعی عام پائلٹ نہیں تھی۔ اب میں اپنی بیٹی سے Appointment لیکر بھی نہیں مل سکتی ۔
کرنل (ر)مختیار احمد: میری مریم سے تقریباََ روزانہ ہی ملاقات ہوتی تھی۔مجھے بھی اس نے یہی کہاتھا کہ بابا! آج سے میں فائٹرپائلٹ بن گئی ہوں۔میں نے اس سے پوچھا کہ بیٹا آپ کی کل کوئی فلائٹ ہے توکہنے لگی کہ ابھی تونہیں پتہ ۔ یہ میرا اس سے آخری رابطہ ہواتھا۔لیکن میں اس کی بہادری کی ایک چھوٹی سی مثال دینا چاہتاہوں۔ وہ جب ادھر آئی تھی تو ہم گھنٹوں بیٹھ کرباتیں کیاکرتے تھے۔ میری اس کے ساتھ بہت زیادہ انڈرسٹینڈنگ تھی۔مجھے کہتی تھی کہ بابا! جب ہمارا کرپشن ہوتا ہے تو ملتا کچھ نہیں ، یاتوراکھ ملتی ہے یاکوئلہ۔میں نے اس کاکبھی اظہار نہیں کیا لیکن میں اندر سے تھوڑا سا کمزور ہوجاتا تھا اور یہ سوچتا تھا کہ یہ کہیں اندر سے کمزور تو نہیں ہورہی۔لیکن جب اس کی آپریشنل کنورشن کا ٹائم آیا تو اس نے ایک لمحے کی دیر نہیں کی۔تب مجھے سمجھ آئی گئی تھی کہ اس کے اندر کوئی کمزوری نہیں ہے۔
مسزریحانہ مختیار! مریم کاکوئی مورال توڈؤان نہیں ہوا۔مریم نے جان کی نذرانہ دیکرہمیں سرخروکیا۔
فیملی: مریم سے آخری باربات کرتے وقت آپ کی چھٹی حس نے کوئی پیغام دیاتھا۔کرنل (ر) مختیار احمد مجھے نہیں پتہ تھا لیکن اس کی والدہ کولگاتھا کہ یہ اس کی آخری کال تھی۔انہوں نے میرے سے ذکر بھی کیا تھا۔اس کی والدہ آکر کہاکرتی تھی کہ یہ ہمارے ساتھ زیادہ عرصہ نہیں رہے گی۔میں اس کی ماں سے اس بات پراُلجھ پڑتا تھا۔جس دن مریم کی قبر پر سلامی دی تھی تو اس کی والدہ نے کہا میں تو یہ سب پہلے ہی دیکھ چکی ہوں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے