Zati Tarotazgi

ذاتی تروتازگی

منگل جنوری

Zati Tarotazgi
”مجھے اُمید ہے کہ آپ یہ خیال نہیں کریں گی کہ میں نہایت معمولی بات کے لئے آپ کو پریشان کررہی ہوں،طبیبہ صاحبہ۔مجھے بہت سی ضیافتوں اور تقریبوں میں اکثر شرکت کرنی پڑتی ہے۔میں چاہتی ہوں کہ میں اپنے اردگرد وپیش کے لوگوں کے لئے بار خاطر نہ بنوں،اور میرے پسینے کی بدبو کی وجہ سے لوگ مجھ سے بیزار نہ ہوں۔“
”میرا خیال ہے کہ آپ مجھے نرمی احمق سمجھیں گی کہ میں اتنی سی بات کے لئے آپ کے پاس آئی ہوں۔

“محترمہ میمونہ خاتون نے کہا،”اگر چہ میری طبیعت بالکل ٹھیک ہے ،یعنی صحت میں کوئی خرابی نہیں آتی اس کے باوجود میں بہت پریشان ہوں۔“
”میری پاس آنے کی اس سے زیادہ معقول وجہ اور کیا ہو سکتی ہے کہ ظاہری طور پر تن درست ہونے کے باوصف آپ پریشان اور آزردہ خاطر ہیں!اچھا بتائیے تو سہی کہ آپ کو کس قسم کی پریشانی لاحق ہے؟“
”بات صرف اتنی ہے کہ عنقریب مجھے کتنی شان دار تقریبوں اور ضیافتوں میں شریک ہونا ہے،لیکن میرے پسینے میں سے کچھ بو آتی ہے،جو خود مجھے ناگوار گزرتی ہے۔

(جاری ہے)

غسل میں روز کرتی ہوں۔کیا مجھے کوئی دافع بدبو دوا استعمال کرنی چاہیے؟“
”کیا تم عام طور پر ایسا نہیں کرتی ہو؟“
”نہیں طبیبہ صاحبہ،کیونکہ سچ پوچھیے تو مجھے پسینا آتا ہی نہیں لیکن جسم سے بدبو ضرور آتی ہے۔میری والدہ کہتی ہیں کہ پسینے کو روکنا قدرت کے خلاف مزاحمت کرنا ہے اور ایسا کرنا تن درستی کے لئے سخت نقصان رساں بھی ہوتاہے،ظاہر ہے کہ قدرت سے مقابلے کا نتیجہ شکست کے سوا اور کیا برآمد ہو سکتاہے۔


”اچھا تھوڑی دیر کے لئے اس بات کو جانے دیجئے۔لیکن یہ یاد رکھیے کہ پسینا ہر شخص کو آتا ہے،خواہ اسے اس کا احساس ہو یا نہ ہو۔موسم سرما میں بھی ہم سب کو کم سے کم ڈیڑھ پائنٹ پانی پینے کے راستے روزانہ خارج کرتے ہیں،(پائنٹ =بیس اونس)
”موسم گرما میں یا سخت جسمانی ریاضت کے وقت ہم صرف ایک گھنٹے میں کئی پائنٹ خارج کر دیتے ہیں۔

میں آپ کو بتاتی ہوں کہ ایسا کیوں ہوتاہے۔“
جسم کا درجہ حرارت
ہمارا جسمانی نظام ایسا ہے کہ ہمارا درجہ حرارت ہمیشہ تقریباً 98رہتاہے اور ان حالات میں جب ہمارے اندر معمول سے زیادہ حدت پیدا ہو جاتی ہے تو پسینے کے غدود اس خفیف نمکین سیال کو جسم سے خارج کر دینا شروع کر دیتے ہیں۔
”یہ پسینا بخارات کی شکل میں جسم سے اُڑتا رہتا ہے اور اپنے ساتھ گرمی کا اخراج بھی کرکے جسم کے درجہ حرارت کو نارمل رکھتاہے۔


”تو پھر ہر شخص کے جسم سے بدبو کیوں نہیں آتی؟“میمونہ خاتون نے دریافت کیا۔
”کیونکہ پسینا بہ ذات خود بے بو ہوتاہے اور سچ تو یہ ہے کہ اکثر اوقات خود ہمارے اپنے لئے اس بدبو کو محسوس کر لینا مشکل ہو جاتاہے،کیونکہ ہمارا شامہ اس سے مانوس ہو جاتاہے،لیکن دوسرا شخص اسے آسانی سے محسوس کر لیتاہے۔جلد جلد نہانے سے اس میں کمی آسکتی ہے،لیکن ہر شخص کے لئے اتنا ہی کافی نہیں ہوتا۔

ایسی صورت میں ایسی مانع تعفن اور پسینا لانے والی(معرق)چیزیں مفید ثابت ہوتی ہیں،کیونکہ جلد کی شکنوں یا سلوٹوں کے اندر مثلاً بغل یا کنج ران (چڈھے)میں جو پسینا آتا ہے وہ رُکے رہنے کی وجہ سے سڑ کر بدبو دار ہو جاتاہے۔اس پسینے کا خطر ناک ہونا ایک مہمل بات ہے۔صرف تھوڑے رقبے میں مانع عرق یعنی پسینے کو روکنے والی چیز استعمال کرنا بالکل بے خطر بات ہے۔


خراب دانت
”اچھا تو میں کل سے اس مانع تعفن پاؤڈر کا استعمال شروع کیے دیتی ہوں۔طبیبہ صاحبہ!دانتوں سے بھی تو بدبو آیا کرتی ہے،میں دانتوں کو ہر چند صاف رکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔لیکن منہ کی بدبو ہے کہ جاتی ہی نہیں۔اس کا کیسے تدارک کیا جائے؟“
”منہ کی بدبو کو طبی اصطلاح میں”بخر الفم“کہتے ہیں ۔بخر الفم کے عام ترین اسباب میں سب قبض ،بد ہضمی ،دانتوں کے امراض اور ناک یا حلق کے سرایتی امراض ہیں۔

”اچھی عمومی صحت کی ہر لحاظ سے بڑی اہمیت ہوتی ہے،کیونکہ پورا جسم ایک وحدت کی حیثیت رکھتاہے اور خاص طور سے معدے اور آنتوں کی خرابی کا اثر لازمی طور پر سارے جسم پر پڑتاہے۔وقتاً فوقتاً دنداں ساز سے دانتوں کا معائنہ کرانا اور پھر اس کی ہدایات پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔ایک خراب وخستہ دانت میں درد کی پیدائش سے بھی پہلے بدبو آنی شروع ہو جاتی ہے۔


”اور پھر ایک اور بات بھی ہے۔اگر آپ کے دانت بہت قریب قریب یا ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے یا آپس میں پھنسے ہوتے ہوں،جیسے آپ کے ہیں تو غذا کے ذرات کا دانتوں کی ریخوں،درزوں اور خلاؤں میں رُکارہ جانا بالکل قدرتی بات ہے۔یہ غذا بہت جلد سڑ جاتی ہے۔اور غذا کے سڑ جانے کی وجہ سے منہ سے بدبو آنا لازمی بات ہے۔
”میری اچھی طبیبہ“میمونہ خاتون نے کہا،”دنداں ساز نے میرے دانتوں کی ان خرابیوں کی طرف اشارہ کیا تھا،لیکن خود مجھے اپنے منہ سے کسی قسم کی بدبو نہیں آتی،شاید دوسروں کو آتی ہو۔


”اگر آپ کوئی چیز کھانے کے بعد خلال کا استعمال نہیں کرتیں تو آپ کے سانس کے ساتھ تھوڑی بہت بدبو کا خارج ہونا بد یہی امر ہے۔آپ کو چاہیے کہ کھانے کے بعد آپ ہر مرتبہ برش یا مسواک سے دانت صاف کیا کریں اور اس طرح صفائی کے بعد دانتوں میں خلال بھی کیا کریں اور کبھی منہ کے غسول سے کلی بھی کیا کریں۔
ذاتی تروتازگی
”دیسی منجن اور مسواک ولائتی منجنوں اور کریموں سے بہت بہتر ہوتے ہیں۔

آپ کوئی اچھا منجن خرید لیجیے یا خود تیار کر لیجیے اور اس کو برابر استعمال میں رکھے ،میرا تجربہ یہ ہے کہ برش کے بجائے منجن کو انگلی سے استعمال کرنا مسوڑھوں کے لئے بہتر ہوتاہے۔مگر یہ بات یاد رکھے کہ جب تک آپ کا ہاضمہ صحیح نہیں ہو گا،منہ کی بدبو نہیں جائے گی۔ہاضمے کی درستی کے لئے دوسری دواؤں کے مقابلے میں سونف ایک بہت اچھی دوا ہے اور اس میں دوسرے فوائد بھی ہیں،عمومی صحت کو بحال رکھنے کے علاوہ منہ میں بدبو پیدا نہیں ہونے دیتی اور پسینے کی بدبو کو بھی دور کرتی ہے۔

ہاں یہ بات یاد رہے کہ ہاضمے کی خرابی سے جس طرح منہ سے بدبو آنے لگتی ہے،اسی طرح پسینا بھی بدبو دار ہو جاتاہے۔اس کا علاج سوائے اس کے کچھ نہیں ہے کہ ہاضمے کی اصلاح کی جائے۔“
”اگر آپ نے میری ہدایتوں کو یاد رکھا اور ان پر عمل بھی کیا تو پھر پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔“
تاریخ اشاعت: 2020-01-28

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Zati Tarotazgi" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.