Zevraat Or Aap

زیورات اور آپ

جمعہ فروری

Zevraat Or Aap

رابعہ گل
ہمیشہ خواتین کی یہ خواہش رہی ہے کہ وہ دوسروں سے منفرد نظر آئیں اس کے لئے خواتین نے کبھی میک اپ کا سہارا لیا تو کبھی خوبصورت لباس کا۔ اس کے باوجود کہ عورت گھریلو امور انجام دے رہی ہوں یا ملازمت پیشہ ہو،اُس نے زیورات کے بغیر اپنے حسن اور خوبصورتی میں ہمیشہ کمی محسوس کی ہے ۔چھوٹی عمر ہی سے مصنوعی زیورات کے علاوہ سونے کے زیورات لڑکیوں کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔

شادی بیاہ کے مواقع پر زیورات کی اہمیت کسی سی ڈھکی چھپی نہیں، ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف لاہور میں شادیوں کے موسم میں 10سے 15کروڑ روپے کے زیورات بنتے ہیں۔ غریب اور درمیانے طبقے کے گھرانوں میں 40سے 50ہزار روپے کے زیورات کی خریداری پر خرچ کئے جاتے ہیں جبکہ امیر گھرانوں میں ایک لاکھ سے 15لاکھ روپے تک زیورات پر صرف ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)


سونے کے زیورات کی خوبصورتی اور چمک دمک عورت کے حسن میں چار چاند لگا دیتی ہے۔


زیور کوئی بھی ہو، اس نے ہمیشہ ہی صنف نازک کو متاثر کیا ہے اور بعض زیورات کے ڈیزائن تو اس قدر نظر نواز ہوتے ہیں کہ خواتین ان کے سحر میں کھو جاتی ہیں۔خواتین کی آرائش حسن کے لئے جہاں اور کئی ایجادات ہوئیں نت نئے طریقے سامنے آئے۔ وہیں لباس کے ہم رنگ پتھروں جڑے زیورات بھی تیار ہونے کے بعد مقبول ہونا شروع ہو گئے یا قوت، زمرد،گارنٹ کی لڑیاں ،پکھراج،ہیرے،اوپل اور نیل جڑے سونے کے سیٹ جیولر کے شوکیس میں نظر آنے لگے جن کی سحر طرازی نے خواتین کو بے پناہ متاثر کیا اور تبھی ایک وقت آیا کہ اکثر عورتیں سر سے پاؤں تک زیورات میں لدی پھندی نظر آنے لگی کہ جھومر،ٹیکہ،بندیا،جھمکے،آویزے ،کڑے ،بازوبند،چمپا کلی،ہتھیلی کی پشت کا زیور،نگینوں جڑی انگوٹھیاں ،کلپ،پائل اور بالوں کی چوٹی کو سجانے والے زیور․․․․․․سب انہی کے لئے تو تخلیق کئے گئے تھے۔


زیورات سے خواتین کی دلچسپی کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتاہے کہ زمانہ حال میں بھی اکثر خاندانوں میں خواتین شکن کے طور پر بھی زیورات پہنتی ہیں اور اکثر گلے اور کانوں کے زیورات کے بغیر نظر نہیں آتیں۔مشرق میں چوڑیوں کو سہاگ کی علامت سمجھا جاتاہے اس لئے کسی بھی شادی شدہ خاتون کی سونی کلائیاں دیکھ کر بزرگ خواتین ٹوکتی ہیں کہ ضرور سونے یا کانچ کی چوڑیاں بانہوں میں پہنی جائیں تاکہ زندگی کے خوشگوار ہونے کا تاثر بر قرار رہے۔


چند عشرے قبل ہمارے ہاں صرف سونے اور چاندی کے گہنے ہی مقبول تھے مگر گزشتہ کئی برسوں سے مصنوعی زیورات بھی پسند کئے جارہے ہیں اور اکثر تقریبات میں ذوق وشوق سے پہنے جاتے ہیں۔بعض مصنوعی زیور یورپی ممالک سے بھی تیار ہو کر آنے لگتے ہیں۔نارنجی،سبز اور پیلے کے ساتھ زمرد اور آتشی گلابی یا سرخ ملبوسات کے ساتھ یا قوت اور گارنٹ والے زیورات پہنے جاتے ہیں جبکہ نورتن زیورات ہر رنگ کے لباس کے ساتھ پہنے جا سکتے ہیں۔

چند سال قبل دلہنیں چار پانچ ہارپہنا کرتی تھیں مگر اب نفیس لک کے رجحان کے باعث گلے کی زیادہ جیولری پہننا بد ذوقی تصور ہوتاہے اور صرف ایک یا دو ہی خوبصورت سے سیٹ پہنے جاتے ہیں اور لمبی صراحی دار گردن والی دلہنوں پر خوب جچتے ہیں ۔سونے چاندی اور مختلف قیمتی دھاتوں کے زیورات کے علاوہ آرٹیفشل جیولری کی دلکشی اور سحر طرازی بھی خواتین کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے اور پھر جیولری بکس میں خواہ کتنے ہی زیور کیوں نہ ہوں نیا زیور متوجہ ضرور کرتاہے اور بالخصوص جب وہ زیادہ مہنگا بھی نہ ہو اور خواتین کے نت نئے زیورات پہننے کے شوق کی تسکین مصنوعی زیورات کی خریداری سے بھی ہو سکتی ہے ۔

ضرورت صرف انہیں سلیقے اور موقع محل کی مناسبت سے پہننے کی ہے !!!
لیکن عموماً زیورات کا استعمال نا مناسب انداز سے کیا جاتاہے ،زیادہ سے زیادہ بھاری زیورات پہننے کی خواہش میں خواتین یہ بھول جاتی ہیں کہ ان کے زیورات اگر چہ دوسروں کی آنکھیں چندھیا سکتے ہیں لیکن خود ان کی اپنی شخصیت پچک کر رہ جاتی ہے۔جس طرح سانولے پیروں میں سفید چمکیلا جوتا پہننے سے جوتے کی چمک تو نمایاں ہو جاتی ہے لیکن پاؤں بد صورت ہی رہتے ہیں ۔

اسی طرح اپنی شخصیت اور مزاج سے ہٹ کر بھاری بھرکم زیورات پہن لینے سے زیورات تو نمایاں ہوتے ہیں لیکن عورت معمولی نظر آنے لگتی ہے ۔جدید دور میں سادہ اور نازک آرائش زیادہ پسند کی جاتی ہے مثلاً اگر ایک جواں سال لڑکی نے بازو میں پانچ تو لے کا کنگن پہن رکھا ہو اور دوسری نے اس سے آدھے وزن کی نازک سی زنجیر(بریسلٹ)پہنی ہوتو اکثر دیکھنے والوں کو باریک زنجیر زیادہ بھلی لگتی ہے۔


زیور پہننے کا صحیح طریقہ:
خواتین کو خوبصورت نظر آنے کے لئے زیورات کا استعمال موقع کے مطابق کرنا چاہیے۔ شادیوں میں اکثر خواتین اوپر نیچے تین تین ہارپہن لیتی ہیں،اس سے دلکشی کے بجائے بوجھل پن کا تاثر ملتاہے ۔زیورات کو تقریب کی نوعیت کے مطابق پہنا جائے تو دیدہ زیب لگتے ہیں اگر آپ شادی میں جا رہی ہیں اور ضیافت رات کی ہے تو بھاری زیورات پہن سکتی ہیں لیکن اگر آپ کا لباس بھاری کام سے مزین ہے اور زیادہ کام گلے پر ہے تو وزنی ہار پہننے کے بجائے گلو بندیا باریک زنجیر پہن لیں۔

عموماً زیادہ بھاری زیورات شادیوں ہی میں پہنے جاتے ہیں۔
اگر آپ کے پاس ایک سے زیادہ سیٹ ہیں تو شادی کے تین دن باری باری تینوں سیٹ پہن سکتی ہیں لیکن دو تین سیٹ اکٹھے پہن لینے سے شخصیت نمائشی بن جاتی ہے۔
زیورات اور دلہن:
زیورات اور دلہن کا چولی کا دامن کا ساتھ ہے ۔ اکثر دلہنوں کو زیورات کے انتخاب میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتاہے ۔

بعض لڑکیاں سنار کی دکان پر مختلف زیورات پہن کر اندازہ لگانے کی کوشش کرتی ہیں کہ کون سا زیور ان کے چہرے اور شخصیت کے مطابق ہے․․․․․․یہاں چند تدابیر بتائی جارہی ہے ،ان پر عمل پیرا ہو کر دلہن اپنے لئے بہتر زیورات کا انتخاب کر سکتی ہیں۔
ایسی لڑکیاں جن کے چہرے بیضوی اور لمبے ہوں انہیں آویزے یا ہار خریدتے وقت چوکور یا گول ڈیزائن کو ترجیح دینی چاہئے،اس سے ان کے چہرے سے لمبائی کا تاثر قدرے کم ہو جائے گا اور چہرہ مناسب دکھائی دے گا۔


چوڑے اور گول چہروں والی خواتین کو ایسے زیورات خریدنے سے اجتناب کرنا چاہئے جن کے ڈیزائن چوڑے یا گول ہوں۔ایسے زیورات پہننے سے چہرہ مزید گولائی اور چوڑے پن کا تاثر دیتاہے ۔ایسے چہرے والی خواتین کو چاہیے کہ وہ لمبائی کا تاثر دینے والے آویزے پہنیں ۔لمبی گردن والی خواتین کو چھوٹے آویزے پہننے سے اجتناب کرنا چاہیے،ان پر لمبے اور بڑے آویزے زیادہ پر کشش لگتے ہیں۔

دلہن کے زیورات میں جھومر،بندیا اور ٹیکہ بھی خریدا جاتاہے ،زیادہ چھوٹی پیشانی والی خواتین کو چھوٹا ٹیکہ لگانا چاہیے۔کشادہ پیشانی والی خواتین کو درمیانے حجم(سائز) کا ٹیکہ یا جھومر لگانا چاہیے۔ پٹی والا ٹیکہ(دونی ٹیکہ)بھی چوڑی پیشانی والی خواتین پر جچتاہے۔اگر آپ کے چہرے پر کوئی چھوٹا یا بڑا نشان ہے تو ایسے آویزے پہنیں کہ دیکھنے والے کی ساری توجہ ان پر مرکوز ہو جائے اور غیر متناسب نشان زیادہ نمایاں نہ ہو۔

پتلی ناک والی لڑکیوں کو باریک نتھ استعمال کرنی چاہیے،آج کل ہر دلہن کو باریک تار والی نتھ ہی پہنائی جاتی ہے لیکن اگر کسی کی ناک بڑی یا چپٹی ہوتو اُسے ایسی نتھ پہننی چاہیے جس کے ساتھ موتی لٹک رہے ہوں۔
زیورات کی حفاظت کیسے کی جائے :
زیورات سونے کے ہوں یا مصنوعی ان کی دلکشی دیرپا بنائے رکھنے کے لئے ان کی حفاظت بے حد ضروری ہے ۔

اکثر خواتین بالیاں،گلے کی زنجیر،انگوٹھیاں اور کنگن معمول کے مطابق پہننے کی عادی ہوتی ہیں اور گلہ کرتی ہیں کہ چند ہی مہینے میں ان کے زیورات اپنی اصل رنگت کھو دیتے ہیں۔روز مرہ زندگی میں خواتین کو زیورات کے استعمال سے روکا تو نہیں جا سکتا البتہ چند احتیاطی تدابیر اپنا کر زیورات محفوظ رکھے جا سکتے ہیں۔مثلاً پانی میں کام کرنے سے پہلے یا سوتے وقت انگوٹھیاں،کنگن ،ہار اور دیگر زیورات اتار کر رکھ لیں اور ہر ہفتے زیورات خاص طریقے سے دھوئیں۔

عموماً سونے کے زیورات کو سرف سے دھویا جاتاہے ،اس سے ظاہری چمک دمک تو وقتی طور پر بڑھ جاتی ہے لیکن چند دن بعد زیورات کی رنگت دوبارہ اُڑجاتی ہے۔سونے کے زیورات دھونے کا طریقہ یہ ہے کہ حسب ضرورت پانی میں آلو ابال لیں اور اس کے پانی میں زیورات کو چند منٹ بھگوئیں،اس کے بعد نرم ریشوں والے برش سے زیورات صاف کرلیں۔اس سے زیورات کی چمک دو بالا ہو جاتی ہے اور ان کی ساخت بھی متاثر نہیں ہوتی۔بھاری اور نازک زیورات استعمال کے بعد ڈبوں میں بند کر کے رکھیں،انہیں پلاسٹک کے لفافے یا کسی کپڑے میں باندھ کر رکھنے سے زیورات کے موتی یا ٹانکے ٹوٹنے کا احتمال رہتاہے۔

تاریخ اشاعت: 2020-02-21

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Zevraat Or Aap" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.