بند کریں
خواتین مضامینعظیم بیویاںسیدہ نشاط النساء

مزید عظیم بیویاں

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سیدہ نشاط النساء
زوجہ حسرت موہانی
بیگم حسرت موہانی کا اصل نام سیدہ نشاط النساء بیگم تھا۔ ان کے والد پیشہ کے اعتبار سے وکیل تھے۔ ان کا نام سید بشیر حسین موہانی تھا۔ وہ حسرت موہانی کے ماموں بھی تھے اور پھوپھا بھی۔ سیدہ نشاط النساء بیگم 1989 یا 1901 میں مولانا حسرت موہانی سے بیاہی گئیں۔ اس وقت مولانا علی گڑھ کالج کے طالب علم تھے۔ شادی کے بعد ان کا قیام علی گڑھ میں تھا اور اس کے بعد انہوں نے کانپور میں زندگی گزاری۔ بیگم حسرت موہانی کو اردو، عربی اور فارسی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ شادی کے بعد انہوں نے آزادی کی جدوجہد میں اپنے شوہر کا ہر قدم پر ساتھ دیا۔ان کے ذکر کے بغیر مولانا حسرت موہانی کا ذکر نامکمل ہے ۔ وہ اور مولانا حسرت ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے۔
مولانا حسرت موہانی کی طرح ان کی بیگم بھی آل انڈیا کانگریس کی باقاعدہ ممبر تھیں۔ وہ سیاسی جلسوں میں مولانا کے ساتھ شریک ہوا کرتی تھی۔ 1920 میں کانگریس کا سالانہ اجلاس ناگپور میں ہوا تو مولانا حسرت کے ساتھ ان کی بیگم نے بھی اس میں شرکت کی۔ 1925 میں کانپور کے مقام پر سروجنی نائیڈوکی زیر صدارت کانگریس کا سالانہ اجلاس ہو اتو مولانا اور ان کی بیگم نے مزدوروں اور کسانوں کی قیادت کرتے ہوئے پنڈال میں داخل ہونا چاہا۔پنڈت نہرو کی قیادت میں رضا کاروں نے ان کو روکنے کی کوشش کی اور اسی کشمکش میں نہرو نے بیگم حسرت کو نادانستاََ دھکا دیا تو بیگم حسرت نے پنڈت نہرو کے تھپڑ جڑ دیا۔ اس پر پنڈت نہرو نے خود ان سے معافی مانگی۔
بیگم حسرت او مولانا حسرت کا ساتھ اڑتیس برس کا تھا۔ انہوں نے علمی و قلمی میدان میں بھی ان کا بھر پور ساتھ دیا۔ مولانا حسرت نے عہد کیا کہ وہ ہمیشہ سودیشی چیزیں استعمال کریں گئے تو بیگم نے اس معاملے میں بھی پیچھے ہٹنا گوارا نہ کیا۔ وہ اپنے ہاتھ سے بنے ہوئے سوت کے کپڑے پہنتی رہیں۔ وہ چہرے کا پردہ نہ کرتی تھیں لیکن بقیہ تمام جسم اور سرکوخوب ڈھانپ کر رکھتیں۔ ان کو شاید ہی کسی نے چوڑیاں اور زیور پہنے دیکھا ہو۔
مولانا جب جیل جاتے تو ان کی عدم موجودگی میں رسالے، کتابوں ،پریس اور سٹور کا کام خود سنبھالتیں۔ کئی بار ان کے گھر کے حالات اس حد تک خراب ہوئے کہ اجرت پر لوگوں کے کپڑے سی کر اور کاغذ کے لفافے بنا کر روزی کماتیں۔ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلاتیں۔ کوئی ان کو دینا بھی چاہتا تو وہ نہ لیتیں۔ ایک بار اہل پونا نے ان کو مالی امداد کی پیشکش کی تو آپ نے انکار کر دیا اور کہا کہ آپ مولانا کی کتابیں خرید لیں لیکن وہ امداد قبول نہ کریں گئی۔ 1925 میں ان کی صحت خراب رہنے لگی۔ 1933 سے 1936 تک انہوں نے مولانا کے ساتھ حج کئے۔ سفر کے دوران کے خطوط کا مجموعہ سفر عراق کے نام سے شائع ہوا۔ آخر سفر حج کے بعد ان کو ریڑھ کی ہڈی کا کینسر ہو گیا جو کہ جان لیوا ثابت ہوا اور انہوں نے 18 اپریل 1937 کو وفات پائی۔
سیدہ نشاط النساء سے مولانا حسرت کی بیٹی نعیمہ بیگم پیدا ہوئیں۔ آپ نے زندگی کے ہر میدان میں اپنے شوہر کا ساتھ دے کر خود کو حقیقی معنوں میں ان کی شریک حیات ثابت کیا۔

(1) ووٹ وصول ہوئے