بند کریں
خواتین مضامینعظیم بیویاںزوجہ حضرت ایوب علیہ السلام

مزید عظیم بیویاں

پچھلے مضامین -
زوجہ حضرت ایوب علیہ السلام
حضرت ایوب علیہ السلام کی زوجہ کی کہانی نسائی صبرو حوصلے اور وفاداری کی وہ داستان ہے جسے پڑھنے سے ہماری نگاہوں میں خواتین کی عزت ووقار دو چند ہو جاتا ہے۔
حضرت ایوب علیہ السلام کی زوجہ کی کہانی نسائی صبرو حوصلے اور وفاداری کی وہ داستان ہے جسے پڑھنے سے ہماری نگاہوں میں خواتین کی عزت ووقار دو چند ہو جاتا ہے۔
حضرت ایوب علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر نبی تھے۔ آپ نہایت شاندار زندگی گزارر ہے تھے۔ آپ کے پاس بے شمار نوکر چاکر، غلام ، اولاد، بیویاں ، لونڈیاں، جائیداد ، مال ومتاع اور اللہ کا دیا بہت کچھ تھا۔ آپ اللہ کی ان نعمتوں کا خوب شکر کیا کرتے تھے۔ایک روایت کے مطابق شیطان نے اللہ سے کہا کہ اگر ایوب کے پاس اتنی آسائشات نہ ہوتیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی اتنی عبادت نہ کرتا۔ اس پر ایوب علیہ السلام کی اطاعت وبندگی کی آزمائش کا سلسلہ شروع ہوا۔ آپ کی تمام دولت جائیداد ختم ہو گئی۔ اولاد، غلام، لونڈی ،مال ومتاع اور ایک کے سوا البقیہ تمام بیویوں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا۔ بات یہاں تک ہی محدود نہ رہی۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی صحت بھی جاتی رہی۔ آپ کو جذام کے مرض نے آگھیرا اور زبان کے سوا آپ کا تمام جسم مبارک اس مرض سے متاثر ہوا۔ حالت یہ ہو گئی کہ آس پاس کے لوگ آپ سے گھن کھانے لگے۔ آپ کو اپنی جائے سکونت تبدیل کرنا پڑی۔ شہر کے ظالم لوگوں نے آپ کو شہر سے باہر اس جگہ ڈال دیا جہاں وہ اپنا کوڑا کرکٹ پھینکا کرتے تھے۔
ان حالات میں آپ کی زوجہ محترمہ نے آپ کا ساتھ نہ چھوڑا۔ انہوں نے آپ کی خدمت کو اپنا مشن بنا لیا اور کبھی ایک ثانئے کے لئے بھی یہ خیال دل میں نہ لائیں کہ دوسرے لوگوں کی طرح آپ سے برابر تاوٴ کریں یا آپ سے گھن کھا کر آپ کو چھوڑ جائیں۔
ایک طویل عرصہ تک حضرت ایوب علیہ السلام اسی حالت میں رہے۔ ایک روایت کے مطابق تکالیف کا یہ سلسلہ اٹھارہ سال تک جاری رہا۔ آپ کے جسم کا تمام گوشت جھڑ گیا۔ صرف ہڈیاں اور چمڑا باقی رہا۔ آپ راکھ میں پڑے رہتے تھے۔ آپ کی زوجہ آپ کی تیمار داری کرتیں۔ آپ کی ضرورت کا ہر ممکن خیال رکھتیں اور اپنے الفاظ واعمال سے آپ کو حوصلہ دیتیں۔ انہوں نے آپ کی خدمت میں کوئی کمی نہ آنے دی۔ گھریلو اخراجات چلانے کے لئے آپ روزانہ شہرجاتیں اور وہاں لوگوں کے مختلف کام کاج کر کے بدلے میں ملنے والی اجرت سے اپنی اور اپنے شوہر کی ضروریات پوری کرنے کا سامان کرتیں۔
ایک بار آپ نے کسی گھر والوں کے لئے روٹیاں پکائیں۔ ان کا ایک بچہ سویا ہوا تھا انہوں نے اس بچے کے حصے کی روٹی آپ کو دے دی۔ آپ اس روٹی کو حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس لائیں۔ حضرت ایوب نے سوال کیا کہ کہاں سے لائی ہو اوریہ جان کر کہ یہ ایک سوئے ہوئے بچے کا حصہ ہے آپ نے روٹی واپس کر دی وہ بچہ کہیں جاگ کر روٹی کیلئے بے قرار نہ ہو۔ آپ روٹی لے کر واپس پہنچیں تو وہاں گھروالوں کی بکری نے ان کو زور سے ٹکر مار دی۔ آپ کے منہ سے نکل گیاکہ ایوب کتنے غلط خیال والے ہیں۔ آپ نے گھر میں جا کر دیکھا تو واقعی بچہ اٹھ گیا تھا اور اس نے گھر والوں کا ناک میں دام کر رکھا تھا۔اس پر آپ نے کہا کہ اللہ ایوب پر رحم کرے، انہوں نے صحیح فرمایا تھا اور میں اچھے موقع پر پہنچی۔
ایک دن آپ کام کی تلاش میں گھر سے نکلیں اور گھر گھر پھریں لیکن کوئی کام نہ ملا۔شام کو گھر پلٹنے لگیں تو حضرت ایوب علیہ السلام کی بھوک کاخیال آیا۔ آپ سے برداشت نہ ہوا اورآپ نے اپنے بالوں کو ایک الٹ کسی امیر لڑکی کو فروخت کر دی۔ اس لڑکی نے آپ کو کھانے پینے کا سامان دیا۔ حضرت ایوب علیہ السلام کے پوچھنے پر آپ نے کہا کہ میں نے ایک امیر کے گھر کام کیا تھا۔ اگلی مرتبہ بھی یہی ہوا تو آپ نے بالوں کی دسری لٹ بھی فروخت کر دی اور کھانا لے کر آئیں۔ چند مرتبہ اس طرح ہونے پر ایک روز حضرت ایوب علیہ السلام نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جب ان کی زوجہ یہ نہ بتا دیں کہ یہ کھانا وہ کہاں سے لاتی ہیں وہ کھانا نہیں کھائیں گئے۔ اس پرآپ کی زوجہ سے اپنے سر سے اپنی اوڑھنی اتاری تو حضرت ایوب علیہ السلام نے دیکھا کہ ان کے سر کے سارے بال کٹ چکے ہیں۔ اس وقت گھبراہٹ اور بے چینی میں آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔
”اے میرے رب! مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب سے زیادہ رحیم ہے۔“
ایک روایت میں ہے کہ آپ کی زوجہ آپ کو رفع حاجات کے لئے لے جایا کرتی تھیں کیونکہ بیماری کے سبب آپ خود رفع کرنے پر قادر نہ تھے۔ ایک بار آپ نے حاجب کے عالم میں اپنی زوجہ کو آواز دی۔ انہیں آنے میں دیر لگی اور حضرت ایوب علیہ السلام کی سخت تکلیف کا سامناکرنا پڑا۔ اس وقت آسمان سے ندا آئی کہ اے ایوب اپنی ایڑی زمین پر مارو اور وہاں سے جو پانی نکلے، اس کو پی لو اور اس سے نہا بھی لو۔ حکم الٰہی پر عمل کرتے ہی آپ کو شفا حاصل ہوئی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اسی وقت آپ کے لئے اللہ تعالیٰ نے جنت سے حلہ بھی بھیجا۔ آپ اس کو پہن کر بیٹھ گئے۔آپ کی بیگم تشریف لائیں تو آپ کو پہچان نہ سکیں۔ انہوں نے آپ کو کوئی اور شخص خیال کیا اور پوچھا کہ اے خدا کے بندے یہاں ایک بیمار آدمی تھے ۔تمہیں معلوم ہے ہو کہاں گئے ہیں۔کہیں ان کو بھیڑیئے نہ کھا گئے ہوں یا کتے نہ لے گئے ہوں۔ آپ نے فرمایا میں وہی بیمار ایوب ہوں تو ان کو کافی دیر تک یقین نہ آیا۔
شفا پانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو پہلے کاسا رنگ و روپ بھی بخش دیا اور مال وزر، اولاد اور احباب، غرض سب حالت پہلے کی سی ہو گئی ۔مصائب کے خاتمے پر آپ کی زوجہ نے بھی سکھ کا سانس لیا اور آزمائش میں ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا کرنے پر خداوند تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔
آپ بنی نوح انسان کی تاریخ کی عظیم ترین خاتون ہیں۔آپ نے وفا شعاری کی ایک مثال قائم کر دی اور ہر دکھ درد میں اپنے شوہر کے شانہ بشانہ رہیں۔ ان کا عمل اور اسوہ ہر دور کی خواتین کے لئے مشعل راہ ہے۔

(1) ووٹ وصول ہوئے