بند کریں
خواتین مضامینعظیم مائیںعزیز النساء بیگم

مزید عظیم مائیں

-
عزیز النساء بیگم
عزیز النساء بیگم انیسویں صدی کے مسلم مصلح سرسید احمد خان کی والدہ تھیں۔ آپ کے والدہ نواب دبیرالدولہ امین الملک خواجہ فرید الدین احمد بہادر شاہ کے دربار میں معززرکن تھے۔

عزیز النساء بیگم
(والدہ سرسید احمد خان)
عزیز النساء بیگم انیسویں صدی کے مسلم مصلح سرسید احمد خان کی والدہ تھیں۔ آپ کے والدہ نواب دبیرالدولہ امین الملک خواجہ فرید الدین احمد بہادر شاہ کے دربار میں معززرکن تھے۔ عزیزالنساء کے شوہر کا نام مر تقی تھا۔ آپ زیادہ تعلیم نہ حاصل کر سکی تھیں۔ صرف قرآن پاک اور فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھنے کا موقع ملا تھا لیکن آپ نہایت ذہین ،روشن دماغ، سلیقہ شعار، دانشمند ، رحمدل ،بااخلاق اور نیک سیرت خاتون تھیں۔ سر سید کو ابتدائی تعلیم آپ نے گھر پر ہی دی۔ آپ ادب آداب کے معاملے میں نہایت سخت تھیں۔ سرسید ایک بار سرسید جب گیارہ بارہ برس کے تھے تو کسی بات پر انہوں نے ایک نوکر کو تھپر ماردیا۔ اس بات پر سر سید کو سخت سزا ملی اور تین دن گھر سے باہر خالہ کے گھر چھپے رہنے کے بعد نوکر س معافی مانگنے پر خلاصی ملی۔
جب عزیز النساء کے بچے جوان ہو گئے تب بھی آپ اپنی اولاد کی تریبت سے غافل نہ رہیں۔ آپ ان کی ہر ممکن اصلاح کرتیں اور کارآمد نصیحتیں کرتی رہتیں۔ ایک بار سر سید کے ایک دوست نے ناراض ہو کر سر سید کے گھر آنا جانا چھوڑ دیا۔اس پر عزیز النساء بیگم نے سر سید کو کہا کہ اگروہ نہیں آتا تو تم اس کے گھر جاتے رہو۔ ایک بار کسی پر سر سید نے احسان کیا اور اس نے اس کا بدلہ بدی سے دیا۔ پھر سر سید کو اس کے خلاف ثبوت مل گئے۔ سر سید نے اس کو عدالت سے سزا دلانے کا ارادہ کیا تو ان کی والدہ نے منع کر دیا اور اس کو معاف کرنے اور معاملہ اللہ پر چھوڑنے کے لئے کہا۔
آپ نہایت ذہین خاتون تھیں ۔ جب آپ کے والد نے وزارت سے استعفیٰ دیا تومہاراجہ رنجیت سنگھ نے انہیں اپنی ملازمت میں لینے کا پیغام دیا اور سفر خرچ کے لئے تیس ہزار کی خطیر رقم بھی بھیجی۔ سب نے اس پیشکش کو قبول کرلینے کا مشورہ دیا سزائے عزیز النساء کے ۔ عزیز النساء نے کہا کہ ہم انگریزی کی عملداری میں رہتے ہیں اور آپ رنجیت سنگھ کی نوکری کریں گے جانے کل کیا حالات بنیں، آپ کا نوکری کرنا مناسب نہیں۔ ویسے بھی آپ عمر رسیدہ ہوگئے ہیں۔ آپ کے والد پر ان باتوں کااثر ہوا اور انہوں نے رنجیت سنگھ کی نوکری سے معذرت کرلی ۔
آپ بہت رحم دل تھیں۔ اپنے مکان کا ایک حصہ آپ نے غریب اور لاوارث خواتین کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ وہاں پر رہنے والی ایک بوڑھی عورت زیبن بیمار ہوئی توا س کو ایک بار اپنے حصے کی قیمتی معجون کھلا دی۔ ان کو شاہ مورث دہلوی سے بڑی عقیدت تھی۔ آپ صرف اللہ پر ہی بھروسہ کرتی تھیں اور توہمات سے دور تھیں۔ 1857 کی جنگ آزادی میں آپ کو کافی سختی بھگتنا پڑی۔ آپ نے کئی دن تک محض ایک خاتون کی معیت میں بھوکے پیاسے ایک کوٹھری میں وقت گزارا۔ آخر کئی دنوں بعد سرسید آخر ان کو ڈاک گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔ اس دوران دہلی میں خواتین گھروں میں بھوک پیاس سے مرتی رہیں اور ان کا کوئی پرسانِ حال نہ تھا۔ سرسید اس کے بعد آپ کو میرٹھ لے گئے۔
میرٹھ جا کر عزیز النساء بیمار ہو گئیں۔ ان کی علالت کے دوران ملک کے مختلف مقامات پر موجود تمام بیٹے اور ان کی اولاد یں آپ کے پاس آگئیں۔ آپ سب سے ملیں اور پھر وصیت کر کے انتقال کر گئیں۔
آپ کی کئی نصیحتیں سر سید کو یاد تھیں اور وہ اکثر وبیشتر ان کو دہرایا کرتے تھے۔ آپ نے اپنی تربیت کی روشنی میں سرسید احمد کو جو راہ دکھلائی تھی وہ تمام عمر اس پر کار بند رہے اور اپنااور اپنے والدین کا نام پورے عالم اسلام میں روشن کیا۔

(1) ووٹ وصول ہوئے