بند کریں
خواتین مضامینعظیم مائیںبی بی علیہ رحمتہ اللہ علیہا

مزید عظیم مائیں

پچھلے مضامین -
بی بی علیہ رحمتہ اللہ علیہا
بی بی علیہ رحمتہ اللہ علیہا دوسری صدی ہجری کے مشہور محدث امام اسماعیل بن علیہ کی والدہ تھیں۔

بی بی علیہ رحمتہ اللہ علیہا
بی بی علیہ رحمتہ اللہ علیہا دوسری صدی ہجری کے مشہور محدث امام اسماعیل بن علیہ کی والدہ تھیں۔ بی بی علیہ رحمتہ اللہ علیہا بصرہ میں بنوشیبان کی باندی تھیں۔ امام اسماعیل کے والد ابراہیم بن مقسم کوفہ میں کپڑے کے تاجر تھے۔ وہ کاروبار کے سلسلے میں مختلف شہروں کے چکر لگاتے۔ اکثر بصرہ بھی ان کا آنا جانا ہوتا، بصرہ میں انہوں نے بنوشیبان سے بی بی علیہ رحمتہ اللہ علیہا کو لے کر ان سے نکاح کر لیا۔
بی بی علیہ رحمتہ اللہ علیہا نہایت شریف الطبع، دانشمند اور عالمہ فاضلہ خاتون تھیں۔ حدیث و فقہ میں آپ کو ایسا کما ل حاصل تھاکہ بڑے علماء وفضلاء آپ کے پاس آکر علمی اور فقہی مسائل پر بحث کیا کرتے تھے۔ ان علماء میں علامہ خطیب بغدادی، علامہ صالح المسری اور بصرہ کے دیگر عالم شامل تھے۔
امام اسماعیل بی بی علیہ رحمتہ اللہ علیہا کے بطن سے 110 ہجری میں پیدا ہوئے۔ بی بی علیہ رحمتہ اللہ علیہا نے اپنے فرزند کی تربیت میں خوب دلچسپی لی اور ان کو بصرہ میں احادیث کے ماہر افراد کے پاس تعلیم کے لئے بھیجا۔ علامہ عبدالوارث جوادی بصرہ کے مشہور محدث تھے، ان کے پا س بھی آپ کے بیٹے امام اسماعیل کو لے گئے اور کہا کہ ان کے اپنے ساتھ رکھیں تا کہ ان میں آپ کی سی خوپیدا ہو۔
حضرت علیہ رحمتہ اللہ علیہا نے اپنے بیٹے پر جو محنت کی وہ رنگ لائی اور لوگ ان کے بیٹے کو ان کے باپ کے نا سے زیادہ ان کے نام سے جاننے لگے اور تاریخ میں تو ان کے بیٹے کے نا م کے ساتھ ان کا نام گویا محفوظ ہو کر رہ گیا۔
امام اسماعیل کے علاوہ ان کے ایک اور بیٹے ربعی بھی تھے۔ وہ بھی حدیث اور فقہ کے بڑے عالم بنے ۔ ان کو ماں کی نسبت سے ربعی بن علیہ کہا جاتا تھا۔ اس خاندان میں صدیوں تک فقہاء و محدیثن پیدا ہوتے رہے۔ اس طرح ایک ماں کی دی ہوئی تربیت کے رنگ نے ایک پورے خاندان کا وقار ہمیشہ کے لئے سربلند کر دیا۔

(1) ووٹ وصول ہوئے