Hazrat Youhana Alaiha Al Salam

حضرت یوحانہ علیہا السلام

Hazrat Youhana Alaiha Al Salam

حضرت یوحانہ علیہا السلام
والدہ حضرت موسیٰ علیہ السلام
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ حضرت یوحانہ علیہا السلام ایک عظیم خاتون تھیں جن کی جانب اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی تھی۔ اب یہ وحی یا الہام کی کون سی قسم تھی یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ۔ قرآن پاک کی سورہ طہٰ میں اس بات کا ذکر موجود ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ پر اللہ تعالیٰ نے الہام کیا تھا۔

آپ کے شوہر اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد کا نام عمران تھا۔ آ پ نہایت دیندار اور پرہیز گار خاتون تھیں۔جس دور میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت کی وقت قریب آیا، اس وقت مصر پر فرعون کی حکومت تھی جو کہ نہایت ظالم بادشاہ اور خدائی کا جھوٹا دعوے دار تھا۔ اس وقت خدا کے نام لیوا اس کے محکوم تھے۔

(جاری ہے)

ایک بار اس نے خواب میں دیکھا کہ بیت المقدس کی جانب سے ایک آگ بھڑکی جو مصر کے ہر قبطی کے گھر میں گھس گئی لیکن بنی اسرائیل کے مکانات اس سے محفوظ رہے۔

یاد رہے کہ مصر کے قدیم باشندے قبطی کہلاتے ہیں۔اس خواب کی تعبیریوں کی گئی کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا شخص پیدا ہوگا جس کے ہاتھوں فرعون کی سلطنت برباد ہو جائے گی۔ فرعون کے دل پر اس کے کفر کی بناء پر مہر لگ چکی تھی چناچہ اس نے ہدایت پانے کے بجائے ہدایت کا راستہ روکنے کی کوشش کی ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کمزور بندوں کے ہاتھوں ہی طاقتور کافروں کا تختہ الٹنا تھا۔

اس بات کی خبر اللہ تعالیٰ نے فرعون کو کر دی کہ وہ اللہ کی مشیت بدل سکتا ہے تو بدل لے۔ یقینا ایسا کوئی نہیں کر سکتا اور نہ ہی فرعون کر سکا۔
اس نے اپنی سلطنت میں ہر سُو احکامات جاری کرا دئیے کہ بنی اسرائیل کے بچوں کی سرکاری طور پر دیکھ بھال کی جائے۔ اگر ان کی لڑکی پیدا ہو تو ان کو کچھ نہ کہا جائے اور اگر لڑکا پیدا ہو تو اسے قتل کردا جائے۔

اس طرح بنی اسرائیل کے ہزاروں بچے قتل کر دیئے گئے۔ ان حالات میں حضرت موسی علیہ السلام دنیا میں تشریف لائے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے توا ن کی والدہ کو بھی اس بات کا اندیشہ تھا کہ فرعون ان کے بیٹے کو بھی قتل کرا دے گا۔ اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو الہام کیا۔ سورہ طہٰ میں ارشادِ پاک ہے :
”اور ہم نے تم پر اور ایک پھر بڑا احسان کیا ہے جب ہم نے تیرں ماں کو وہ الہام کیا جو کیا جانا تھا کہ تواس صندوق میں بند کر کے دریا میں ڈال دے تو دریا اسے کنارے سے لاڈالے گا اور میرا اور خود اس کا دشمن اسے لے لے گا اور میں نے اپنی طرف سے خاص محبت تجھ پر ڈال دی تاکہ پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے جبکہ تیری بہن چل رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ اگر تم کہو تو میں بتادوں جو اس کی نگہبانی کرے، اس تدبیر سے ہم نے تجھے تیری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور غمگین نہ ہوں۔


مندرجہ بالا بیان کردہ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کی والدہ کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت فرمائی کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پیدا ہوتے ہی قتل سے بچانے کا سامان کریں۔ حافظ ابن کثیر تفسیر کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو وحی کی گئی کہ وہ ایک صندوق بنا لیں اور بچے کو دودھ پلا کر اس میں لٹا کر دریائے نیل میں اس صندوق کو چھوڑ آئیں تاکہ فرعون کے ہر کار سے اس بچے کو نہ پاسکیں۔

یہ دیکھ کر وہ کلیجہ تھام کر رہ گئیں اور اس قدرغم کای کہ صبر ناممکن تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو مضبوط کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن جو اس وقت نو عمر تھیں صنڈوق کو پانی میں بہتا دیکھ کر اس کے پیچھے پیچھے چلتی رہی۔ صندوق پانی میں بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس سے گزرا تو وہاں رہنے والے غلاموں کنیزوں نے تجس میں آکر اس صندوق کو اٹھالیا اور صندوق کو حضرت آسیہ زوجہ فرعون کی پیش کیا ۔

حضرت آسیہ نے صندوق میں اتنے پیارے بچے کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا۔ جب فرعون کے اس بات کی خبر ہوئی کہ اس کے محل میں ایک پانی میں بہتا ہوا بچہ آیا ہے تو اس کو خیال آیا کہ یہ وہی بچہ نہ ہو جو کہ بعد میں میری سلطنت کا تختہ الٹے گا۔اس بناء پر اس نے اس بچے کے قتل کا ارادہ کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو باز رکھا۔ حضرت آسیہ علیہا السلام نے بھی اس کے اس عمل کی مخالفت کی۔


حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب محل میں دودھ پلانے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے کسی بھی آیا اور دایہ کا دودھ نہ پیا۔ اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن بھی قریب تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس بچے کی پرورش کی خاطر معاوضہ دیا جائے تو اس کے لئے ایک گھرانہ موجود ہے اور استفسار کرنے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا پتا بتا دیا۔ چنانچہ جب بچے کو والدہ کے سپرد کیا گیا تو بچے نے فوراََ ہی ان کا دودھ پینا شروع کر دیا۔

یوں ممتا کو قرار بھی آیا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حفاظت بھی فرمائی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو اپنے ہی بچے کو دودھ پانے کا فرعون کی جانب سے معاوضہ بھی ملتا رہا۔
ایک حدیث مبارکہ میں آیا کہ جو شخص اپنے کام کو کرے اور نیک نیتی سے کرے تو اس کی مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی ہے کہ اپنے ہی بچے کو دودھ پلائے اور اجرت بھی لے۔


حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ ایک نہایت عظیم ،بہادر ، حوصلہ مند اور نیک خاتون تھیں، جنہوں نے اپنے دل پر پتھر رکھ کر اپنے بیٹھے کو دریا کی لہروں کے سپرد کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی رحمتوں کی برسات اس طرح سے کی کہ بعد میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کے ہاں ہی لایا گیا اور انہوں نے ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دودھ پلایا۔ تاریخ عالم میں ایسی کوئی ااور مثال ڈھونڈے سے بھی نہیں ملے گی۔

تاریخ اشاعت: 2015-05-08

Your Thoughts and Comments

Special Azeem Maain article for women, read "Hazrat Youhana Alaiha Al Salam" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.