بند کریں
خواتین مضامینعظیم مائیںمٹھی بائی

مزید عظیم مائیں

-
مٹھی بائی
مٹھی بائی، بابائے قوم بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی والدہ محترمہ تھیں۔

مٹھی بائی
مٹھی بائی، بابائے قوم بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی والدہ محترمہ تھیں۔ آپ کی تربیت کا اثر تھا کہ قائداعظم نے بڑے ہوکر دنیا کی تاریخ کا دھارا بدل دیا اور مسلمانوں کے علیحدہ وطن کے تصور کو عملی جامہ پہنا کر پاکستان کی صورت میں پوری دنیا کے سامنے لاکھڑا کیا۔
آپ کا اسم گرامی شیریں بی بی تھا۔ جناح پونجا کے ساتھ ان کی شادی 1874 کے لگ بھگ کا ٹھیاواڑ کے جنوبی علاقے جنود کے نزدیک ایک گاوٴں دھافہ میں سر انجام پائی ۔ شیریں بی بی کا تعلق اسی گاوں سے تھا۔
آپ دراز قد، گوری چٹی اور خوبصورت خاتون تھیں۔ جب جناح پونجا آپ کو بیاہ کر گھر لائے تو سسرال والوں نے آپ کی خوبصورتی، خوش مزاجی، اور سلیقہ شعاری کو دیکھ کر انہیں پیار سے ”میٹھی بائی“ کا لقب دیا۔ سگھڑ ، خوش مزاج اور خوبصورت لڑکیوں کو اس گھر میں میٹھی کہا جاتا تھا۔ اتفاق سے یہ لقب ان کے حقیقی نام شیریں کا ہم معنی بھی تھا، چنانچہ سارے گھرانے میں ان کی یہی عرفیت مشہور ہو گئی اور کثرت استعمال سے ”میٹھی “ مختصر ہوکر ”مٹھی“بن گیا اور ان کا مستقبل نام ٹھہرا۔
شادی کے چند ماہ بعد پونجا جناح مٹھی بائی کو لے کر اپنا الگ کاروبار منظم کرنے کی غرض سے کراچی منتقل ہو گئے۔ کراچی میں انہوں نے کھارادر کی نیونہام روڈ پر ایک مکان کرائے پر حاصل کیا۔ چونکہ یہ علاقہ اس دور میں کاروباری مرکز کی حیثیت رکھتا تھا چنانچہ یہیں سے پونچا جناح نے ” جناح پونجا اینڈ کمپنی“ کے نام سے اپنا کاروبار شروع کیا اور تو چند ہی دنوں بعد چل نکلا۔
25 دسمبر1876 کو نیونہام روڈ کے اس گھر میں مٹھی بائی نے ایک بیٹے کو جنم دیا جسے آگے چل کر بابائے قوم لقب حاصل کرنا تھا۔ پہلوٹھی کے اس بچے کا نام خاندانی روایات کے مطابق بچے کے ماموں قاسم موسیٰ نے محمد علی رکھا۔ جناح پونجا کے گھرانے میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی بچے کا خالص اسلامی نام تجویز کیا گیا ہو۔
مٹھی بائی کے اصرار پر قائداعظم کی رسم عقیقہ جنود میں واقع حسن پیرکی درگاہ پر ادا کی گئی۔ یہ بھی پہلا مقوقع تھا کہ اس خاندان میں خالص اسلامی انداز میں کسی بچے کی رسم عقیقہ اداکی گئی ہو ورنہ اس سے پہلے ہندوانہ طریقے سے چھٹی کی رسم اداکی جاتی تھی ۔ ہندووٴں کا عقیدہ ہے کہ بچے کی پیدائش کے چھٹے روز اس کے پاس ” چھٹی“ نام کی ایک دیوی آتی ہے جو بچے کی تقدیر قلمبند کر جاتی ہے۔ گویا ان کے نزدیک یہ دیوی کاتب تقدیر کی حیثیت رکھتی ہے۔ چنانچہ اس روز بچے کے نزدیک ایک خوبصورت رنگین قلم کے ساتھ زعفران کی بھی ہوئی روشنائی اور ایک چوپڑی یعنی بہی رکھ دی جا تی تھی کہ بچے کی تقدیر بہت اچھی اور خوش رنگ لکھی جائے۔ ہندووٴں کی دیکھا دیکھی مسلمانوں نے بھی رسم کو اختیار کر لیا تھا۔
مٹھی بائی کے ہاں بعد میں سات اور بچوں نے جنم لیا۔ ان میں تین بیٹے احمد علی ، بندے علی اور بچو تھے جبکہ بیٹیوں کے نام مریم، رحمت ، فاطمہ اور شیریں بائی رکھے گئے۔ مٹھی بائی اپنے سب بچوں کو عزیز رکھتی تھیں لیکن پہلوٹھی کی اولاد ہونے کے سبب محمد علی جناح کو زیادہ توجہ حاصل ہوتی تھی۔ مٹھی بائی اکثر کہا کرتیں کہ میرا یہ بیٹا بڑا ہو کہ بہت نام پیدا کرے گا اور کوئی نہ کوئی کارنامہ انجام دے گا۔ اگرچہ اکثر مائیں اپنے اپنے بچوں کی نسبت ایسی باتیں کہاکرتیں ہیں لیکن مٹھی بائی کے یقین کا سبب یہ تھا کہ کسی ماہر نجوم یادست شناس نے قائداعظم کے بچپن میں ہی ان کی والدہ کو بتایا تھا کہ ان کی گود میں پرورش پانے والا بچہ عام بچوں کا سا نہیں ہو گا بلکہ یہ بڑا ہو کر ایک عظیم شخصیت بنے گا اورہندوستان کا بے تاج بادشاہ کہلائے گا۔ یہ پیش گوئی مٹھی بائی اور ان کے شوہر کے دل پر نقش ہو چکی تھی۔
اگرچہ قائداعظم اپنی ابتدائی زندگی میں لکھائی پڑھائی کی طرف زیادہ راغب نہ تھے اور دیگر سرگرمیوں میں ان کا زیادہ جی لگتا تھا اس کے باوجود مٹھی بائی نے اپنے یقین کا دامن نہ چھوڑاور مسلسل اسی تیقن کا اظہار کرتی رہیں کہ میرا محمد علی ایک نہ ایک روز بہت بڑا آدمی بنے گا۔شاید ان کے اسی یقین کا اثر تھا کہ جو محمد علی کی روح تک اتر گیا اور بعد ازاں انہوں نے تاریخ میں اپنے لئے ایک ناقابل تسخیر مقام حاصل کیا۔
قائداعظم کو اپنی والدہ کے زیرسایہ بہت زیادہ وقت گزارنے کا موقع نہ ملا۔ پندرہ برس کی عمر میں جب وہ اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان روانہ ہوئے تو واپسی پر انہیں پیاری والدہ کی صورت دیکھنا نصیب نہ ہوئی۔ 1895 میں انہوں نے بار ایٹ لاء کا امتحان پاس کیا اور اسی سال ان کی والدہ کی زندگی کا چراغ گل ہوگیا۔ انگستان جانے سے پہلے مٹھی بائی نے اپنے بیٹے سے یہ الوادعی الفاظ کہے تھے:
”میرے بیٹے ! میں تیری جدائی برداشت نہیں کر سکتی لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ سفر تمہیں بڑا آدمی بنانے میں مدد کرے گا۔ میں اپنی سار ی زندگی یہی ایک خواب دیکھتی رہی ہوں۔
”محمد علی الوادع ! خدا تمہاری حفاظت کرے گا۔ انشاء اللہ میری خواہش ضرور پوری ہوگی۔ تم یقینا ایک بڑے آدمی بنو گے اور میں تم پر فخر کروں گی۔“
سوچا جا سکتا ہے کہ قائداعظم پر اپنی والدہ کے ان آخری الفاظ کا کیا اثر ہوا ہوگا۔ اس کا ثبوت تلاش کرنے کے لئے ہمیں کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان اس کی زندہ شہادت بنا ہماری نگاہوں کے سامنے موجود ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے