Bache Ki Taleemi Tarbiyat

بچے کی تعلیمی تربیت

بدھ مئی

Bache Ki Taleemi Tarbiyat
اکثر والدین اپنے بچوں کی کامیاب زندگی کے لیے اچھی تعلیم کو اہمیت دیتے ہیں ۔کچھ والدین سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے ڈھیر ساری دولت جمع کرلی تو پھر ان کی اولاد کا مستقبل محفوظ ہو جائے گا،لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔وراثت میں ملنے والی ڈھیر ساری دولت عموماً اولاد کو بگاڑنے کا سبب زیادہ بنتی ہے ،تاہم جو والدین بچوں کو اچھے اخلاق اور اعلیٰ تعلیم کی مضبوط بنیادیں فراہم کر دیتے ہیں ،ان کے بچے نہ صرف والدین کانام روشن کرتے ہیں بلکہ سکھ چین کی زندگی بسر کرتے ہیں۔


بچے کے اخلا ق کی تعمیر گھر کی تربیت کرتی ہے ۔والدین اچھی تربیت کے ذریعے بچوں میں کتابوں سے انسیت اور تعلیم سے محبت پیدا کر سکتے ہیں ۔یاد رکھیں کہ بچے کی تعلیم میں سب سے پہلا قدم اس کے اور کتابوں کے درمیان رشتہ پیدا کرنا ہوتاہے۔

(جاری ہے)


اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ بچے کو اسکول میں داخل کروانے کے بعد اور اس کے لیے ایک ٹیوٹر کا انتظام کرکے ان کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے ،لیکن ایسا نہیں ہے۔


آئیے!یہ جانتے ہیں کہ بچے کی درست خطوط پر تعلیم کے لیے والدین کس طرح کر دار ادا کر سکتے ہیں۔
بچہ اور کتاب
بچہ جب اس عمر کو پہنچ جائے کہ وہ چیزوں کو پہچاننے لگے،لیکن ابھی اس کی عمر اسکول جانے کی نہ ہوتو اس دور میں والدین بچے کے سامنے رنگین اور بڑی بڑی تصاویر والی کتابیں رکھیں ۔بچہ تجسس کے باعث ان کی ورق گردانی کرے گا اور تصویروں کو دلچسپی سے دیکھے گا۔

اس طرح بچے اور کتاب کے مابین وہ تعلق قائم ہونا شروع ہو گا جو اس کے مستقبل کو مضبوط بنیادیں فراہم کرے گا۔بچہ جب کچھ بڑا ہو جائے تو اسے کتاب میں لکھی ہوئی کہانیاں پڑھ کر سنائیں۔اس دوران بچے کے ساتھ بچہ بننے کے اصول پر یہ کام کریں ۔جب دیکھیں کہ بچہ کتاب میں تصاویر کے ساتھ لکھی ہوئی کہانیوں کو سننے میں دلچسپی لینے لگا ہے ،تب اسے سمجھائیں کہ وہ کتاب میں لکھی باتوں کو از خود پڑھنے کی کوشش کرے۔


یہ رویہ بچے اور کتاب کے درمیان ایسا رشتہ قائم کردے گا کہ وہ نہ صرف تعلیم کے حصول میں دلچسپی لے گا بلکہ نصابی اور غیر نصابی،دونوں کتابوں کو شوق سے پڑھے گا۔
بچہ اور اسکول
بچے کے اسکول میں داخلے کے بعد والدین یہ نہ سمجھیں کہ بس اب ہماری ذمہ داری ختم۔ دراصل اب والدین کی ذمہ داریوں کا دوسرا مرحلہ شروع ہو گا۔

ابتدائی جماعتوں میں بچے کو والدین اور اساتذہ کی طرف سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ جب بچے کے کورے دماغ کے صفحات پر ذخیرہ الفاظ جمع ہونے شروع ہوتے ہیں ۔اس دوران بچے کے ذخیرہ الفاظ میں اضافے اور ان الفاظ کی درست تلفظ کے ساتھ ادائی کے لیے بچے پر انفردی توجہ دینا ضروری ہے ۔لفظوں کے ہجے کروا کرا نہیں یا دداشت میں محفوظ رکھنے کے لیے بچے کو اپنی نگرانی میں پریکٹس کروائیں۔
اسے چند الفاظ بتائیں اور کہیں کہ اگر وہ ان کے درست ہجے کرلے گا تو اسے شاباشی کے ساتھ ساتھ انعام بھی ملے گا۔دوسرے دن بچے سے پوچھیں کہ کل ہم نے کن کن لفظوں کے ہجے کیے تھے․․․․․؟
تاریخ اشاعت: 2019-05-15

Your Thoughts and Comments

Special Myths About Parenthood - Bachon Ki Parwarish Aur Ghalat Nazriat article for women, read "Bache Ki Taleemi Tarbiyat" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.