Bachon Ko Bimariyon Se Bachayen - Myths About Parenthood - Bachon Ki Parwarish Aur Ghalat Nazriat

بچوں کو بیماریوں سے بچائیں - بچوں کی پرورش اور غلط نظریات

پیر 25 اکتوبر 2021

Bachon Ko Bimariyon Se Bachayen
راشدہ عفت میموریل
ہر ماں کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے بچے تندرست و توانا رہیں۔وہ ہر طرح کی کوشش بھی کرتی ہے پھر بھی بعض اوقات اس سے ایسی غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں جو بچے کی بیماری کی شکل میں سامنے آتی ہیں۔اگر ان غلطیوں اور بے پروائیوں پر قابو پا لیا جائے تو بچوں کی صحت کی حفاظت مزید اچھی طرح کی جا سکتی ہے۔بچوں میں پیٹ کی بیماریاں بہت عام ہیں۔

جن سے ہر سال ہزاروں بچوں کی اموات بھی ہوتی ہے۔پیٹ کی کئی بیماریاں صاف پانی نہ ملنے سے ہوتی ہیں۔
آج کل فیڈر کا استعمال بہت بڑھتا جا رہا ہے۔ذرا سی بے پروائی دودھ کی اس بوتل کو جراثیم کا گھر بناتی ہے۔یہ جراثیم بچے کے پیٹ تک جاتے ہیں جو کہ کئی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔دوا وقتی طور پر بچے کا پیٹ ٹھیک کر سکتی ہے لیکن اس کا اصل علاج ناصاف بوتل سے چھٹکارا ہے۔

(جاری ہے)

جن بچوں کے پیٹ خراب رہتے ہیں وہ عموماً چڑچڑے بھی ہوتے ہیں۔روتے بھی زیادہ ہیں۔کئی مائیں اپنے بچوں کو چپ کرانے کے لئے ان کے منہ میں نپل ڈال دیتی ہیں جس سے مزید جراثیم ان کے پیٹ میں داخل ہو جاتے ہیں۔
بعض خواتین کچن میں کام کرتے ہوئے خاص طور پر سبزی اور گوشت کاٹنے کے بعد اپنے ہاتھ نہیں دھوتیں۔ان آلودہ ہاتھوں سے وہ بچوں کو کھانا کھلاتی ہیں تو مختلف بیکٹیریا اور وائرس بچوں کے نظام ہضم میں سرائیت کر جاتے ہیں۔

یہ بہت ضروری ہے کہ والدین اور وہ تمام لوگ جن کا رابطہ بچوں کے ساتھ ہے وہ کئی مرتبہ اپنے ہاتھ دھوئیں اور بچے کے ہاتھ بھی دھلوا لیں۔
اس کے بعد اگلا مرحلہ آتا ہے گھر کی صفائی کا۔گھروں میں دبیز قالین بچھانے سے گریز کرنا چاہیے یا اگر بچھائیں تو اس کی مکمل صفائی کریں کیونکہ یہ قالین آگے چل کر بچوں میں الرجی اور سانس کی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔


باتھ روم میں پائے جانے والے کاکروچ بھی بچوں کی صحت کے لئے خطرناک ہوتے ہیں۔ان کے تھوک میں ایسا مادہ پایا جاتا ہے جو سانس کی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔
بچوں کے قریب سگریٹ پینے سے گریز کرنا چاہیے۔بچوں کی سانس کی گزر گاہیں بہت تنگ ہوتی ہیں۔سگریٹ کے دھویں سے انہیں نقصان پہنچتا ہے۔
بچوں کے کھلونوں کے انتخاب میں بھی احتیاط برتنی چاہیے۔

بعض اوقات روئی بھرے ہوئے کھلونے (بھالو وغیرہ) سے بھی بچوں کو الرجی ہو جاتی ہے۔جس کے نتیجے میں بچوں کو چھینکیں آنے لگتی ہیں۔
بچوں والے گھروں میں جانور پالنے کا رواج بھی بہت زیادہ فروغ پا رہا ہے۔اکثر بچے ان جانوروں کو گود میں اُٹھائے پھرتے ہیں۔یاد رہے کہ مرغی،چوزوں اور پرندوں کے پروں اور جانوروں کے جسم کی روؤں سے بچوں کو الرجی ہو سکتی ہے۔

گھر میں جانور پالنے کے شوقین افراد کو چاہیے کہ وہ ان جانوروں کی باقاعدگی سے Vaccination کروائیں۔
آج کل کئی مائیں بچپن میں ہی اپنی بچیوں کے کان چھیدا دیتی ہیں۔وہ آلات جن سے یہ کان چھیدے جاتے ہیں بعض اوقات بیماریاں پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں۔بعض اوقات بچے دوران سرجری مثلاً ختنہ وغیرہ کے دوران گندے اوزار استعمال کرنے کی وجہ سے انفیکشن میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

اگر آلات جراحی مکمل طور پر صاف نہ ہوں تو وہ مزید بیماریاں پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔
بچوں کے دانتوں کے علاج کے دوران بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ڈاکٹر کے آلات جراثیم سے پاک ہوں۔
مائیں اگر اپنے بچوں کو گھر سے لنچ دے کر سکول بھیجیں تو وہ کئی مسائل سے چھٹکارا پا سکتی ہیں۔سکولوں میں زیادہ تر ایک ہی ورائٹی کی چیزیں دستیاب ہوتی ہیں۔

مثلاً فرنچ فرائس،سموسے،سینڈوچ وغیرہ جس کے تازہ ہونے اور معیاری ہونے کی بعض اوقات سکول کی انتظامیہ بھی ضمانت نہیں دے سکتی۔
والدین کو اپنے بچوں کی Vaccination مکمل کروانی چاہیے۔کوئی متعددی بیماری اگر شہر میں پھیلے تو اپنے بچے کو اس سے بچاؤ کے ٹیکے ضرور لگوانے چاہئیں۔سکول جانے والے بچے بیماریوں کی زد میں زیادہ آتے ہیں۔اگر آپ کے بچے کو نزلہ و زکام ہو تو اسے رومال دے کر سکول بھیجیں۔

اسے تربیت دیں کہ وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر کھانسے تاکہ انفیکشن دوسرے بچوں تک نہ پہنچے۔اگر والدین کو معلوم ہو جائے کہ ان کے بچے کو کوئی متعدی بیماری ہو گئی ہے تو بہتر یہ ہے کہ اسے چند روز سکول نہ بھیجیں۔ایک بچے سے وہ بیماری دوسرے بچوں میں پھیل سکتی ہے۔
بعض والدین چکن پاکس وغیرہ میں ایک یا دو دن کے بعد بچوں کو سکول بھیج دیتے ہیں کہ پڑھائی کا حرج نہ ہو اور وہ بچے سکول جا کر مزید چار یا پانچ بچوں کا حرج کروا دیتے ہیں۔

ہمارے ملک میں بیمار بچے کو صحت مند بچوں سے الگ رکھنے کا تصور عام نہیں ہے۔اس لئے بیماریاں ان کے دوسرے بہن بھائیوں میں بھی باآسانی پہنچ جاتی ہیں۔
اگر والدین ہسپتال جائیں یا کسی بیمار کی عیادت کے لئے جائیں تو چھوٹے بچوں کو ساتھ لے کر نہ جائیں۔
سکول جانے والے بچوں میں صحت کا شعور پیدا کرنے کی کوشش کریں۔بچوں کو بازار میں ملنے والی غیر معیاری چیزیں کھانے سے روک دینا ہی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

بچوں کو وجہ بھی بتائیں کہ آپ انہیں کئی چیزیں کھانے پینے سے کیوں روک رہے ہیں۔اس سلسلے میں کہانیوں کی کتابوں سے مدد لی جا سکتی ہے۔
بچوں کو معیاری چیزیں کھلائیں اور چھوٹی چھوٹی باتیں بتائیں مثلاً بازار میں دستیاب رنگ برنگی Ice Candies میں سکرین ہوتی ہے۔ جس سے گلا خراب ہوتا ہے۔اس کے برعکس آئس کریم دودھ سے بنتی ہے اور غذائیت بھی فراہم کرتی ہے۔والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے سامنے پان اور چھالیہ کھانے سے گریز کریں کیونکہ اس طرح یہ بُری لت بچوں کو بھی لگ سکتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2021-10-25

Your Thoughts and Comments

Special Myths About Parenthood - Bachon Ki Parwarish Aur Ghalat Nazriat article for women, read "Bachon Ko Bimariyon Se Bachayen" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.