Bachoon Ki Samaji Sehat

بچوں کی سماجی صحت

منگل فروری

Bachoon Ki Samaji Sehat
عمر کی دوسری دہائی میں یوں محسوس ہوتاہے کہ جیسے بچوں کا رویہ اچانک ہی بدل گیا ہے ۔تبدیلی کا یہ عمل عموماً چودہ پندرہ برس کی عمر میں ہوتاہے۔بچے والدین سے دور دور رہنے لگتے ہیں اور دوستوں میں ان کا دل زیادہ لگتاہے۔وہ اپنے ساتھیوں کے درمیان بلا تکان گفتگو کرتے ہیں۔ماں یا باپ کے سامنے آکر جیسے بولنا ہی بھول جاتے ہیں۔ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ یہ تبدیلی دور بلوغت کے آغاز کی ایک علامت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گیارہ برس سے قبل بچے اپنی ہر بات والدین سے کہنا چاہتے ہیں۔ اس وقت والدین ہی ان کی پہلی ترجیح ہوتے ہیں۔جوں جوں وقت گزرتاہے ان کی ترجیحات بدلتی جاتی ہیں۔ان کی پہلی ترجیح دوست ہوتے ہیں ان کے بعد ممکنہ طور پر استاد اور سب سے آخر میں والدین ہو جاتے ہیں۔

(جاری ہے)


کولمبیا میڈیکل سینٹر(نیو پارک)سے وابستہ ڈاکٹر کنڈائس ارکسن کہتی ہیں۔

دور بلوغت میں بچہ اپنا اظہار چاہتا ہے۔اگر گھر کا ماحول ”کہنے“کے لئے ساز گار ہو۔اسے کسی خوف کے بغیر اپنی باتیں کہنے کی فضا میسر ہو تو بچہ گھر یا والدین سے دور نہیں ہو گا۔عمر کے اس حصے میں نت نئی تبدیلیوں سے دو چار ہونے والے لڑکے اور لڑکیاں اپنے مسائل کے حل کے لئے رہنمائی چاہتے ہیں۔وہ اپنے مسائل پر تبادلہ خیال کے طلب گار ہوتے ہیں اگر انہیں والدین کا مثبت رویہ ملے تو وہ انہی کو دوست بنالیں گے اس عمر کے اپنے جیسے مسائل اور سوچ رکھنے والے ہم عمر دوستوں سے رجوع نہیں کریں گے۔


دور بلوغت میں بچے والدین سے اس وقت دور بھاگتے ہیں جب وہ انہیں نصیحت کرنے لگیں۔عمر کے اس حصے میں روک ٹوک یا کسی بھی قسم کی نصیحت بچے عموماً پسند نہیں کرتے۔انہیں اس عمر میں محتسب کے بجائے مشیر اور رہنماکی ضرورت ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے والدین کا کردار ایک مشیر (کنسلٹنٹ)کی طرح ہونا چاہیے۔ایک کاروباری مشیر معاملات کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیتا ہے نہ ہی وہ حتمی فیصلہ سناتاہے۔

وہ پوری توجہ سے سنتاہے اورمسائل کے حل کے لئے امکانات کے انتخاب میں رہنمائی فراہم کرتاہے۔
جب بچہ کوئی ”حماقت“کر بیٹھے تو اس پر نصیحتوں کی بوچھار مناسب نہیں۔غلطی کرنے والے بچے کو اپنی حماقت کا اندازہ لگانے کا موقع فراہم کیا جائے تاکہ وہ خود ہی کسی نتیجے پر پہنچے۔نوعمری میں بچوں کی نگرانی ضروری ہے مگر اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ انہیں اس نگرانی کا احساس نہ ہو۔

ماہرین کے نزدیک گھر کا ماحول اس انداز سے ہو کہ بچوں کو”پرائیوسی“کا احساس بھی رہے۔گھرکا کوئی گوشہ ایسا ضروری ہونا چاہیے جو انہیں اپنی ملکیت محسوس ہو۔وہ اس جگہ رہنا پسند کریں۔یہ گوشہ گھر سے منسلک مگر نسبتاً الگ تھلگ ہو جہاں وہ رہ سکیں،کھیل سکیں،یا دوستوں کے ساتھ وقت گزار سکیں۔
یہ صورت حال اس لحاظ سے مفید ہے کہ بچے گھر میں رہتے ہیں ،کسی اندیشے کے بغیر محفل جما سکتے ہیں اور یہ کہ ان کی مصروفیات پر نگاہ بھی رکھی جا سکتی ہے ۔

بچے اور والدین کے درمیان ربط کے لئے ضروری ہے کہ والدین وہ انداز اپنائیں جو بچوں کو ان کی باتیں سننے پر آمادہ کرے اور وہ ان سے اپنی باتیں کہنے میں جھجھک محسوس نہ کریں۔بہت سی باتیں تحریری صورت میں زیادہ موثر ہوتی ہیں۔خصوصاًوہ باتیں جو والدین اپنے بچوں سے کہنا دشوار سمجھتے ہیں۔لکھی بات زیادہ موٴثر ہو سکتی ہے کہ اس میں موٴثر دلائل دیے جا سکتے ہیں۔

پھر یہ فیصلہ کرنے میں بھی آسانی ہو تی ہے کہ واقعتاکیا کہنا چاہتے ہیں تحریر بار بار پڑھی جاتی ہے۔اس پر زیادہ بہتر انداز سے غور کیا جاتاہے بہت سے موضوعات پر بچوں کا علم سر سری یا ان کے حلقہ احباب کی کچی پکی معلومات کا حاصل ہوتاہے۔
بچوں کو پر اعتماد اور مضبوط دیکھنے کے طلب گار کئی والدین بھی(خصوصاً لڑکیوں)کو اس دور کی بنیادی اور لازمی معلومات فراہم نہیں کرتے ہیں۔

دور بلوغت میں آنے والی ہنگامہ خیز تبدیلیاں بچوں کو بھٹکا سکتی ہیں۔انہیں بھٹکنے سے محفوظ رکھنے کے لئے تحریر (یا اس حوالے سے کسی مضمون یا کتاب)کی مدد لی جا سکتی ہے۔بہت سی صورتوں میں بچوں کو صرف اور صرف ہمدردانہ رویے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ان کی اداسی یا دکھ کا ازالہ پوچھ گچھ یا جرح سے نہیں ہو سکتا۔یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں کہ کب ایسا کیا جائے تاہم جب بچہ کندھے پر سر رکھ کر رونے میں سکون محسوس کرے تو اسے رونے دیں۔

اس سے کچھ مت پوچھیں۔اس کے دل کا غبار چھٹ جانے دیں۔
دور بلوغت سے گزرنے والوں کے لئے اس دور کی باتیں بھولی بسری یادیں بن جاتی ہیں۔اس اعتبار سے ماہرین”بڑوں“کے لئے بھی رہنمائی ضروری خیال کرتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دور بلوغت سے گزرنے والے بچوں کی تربیت اور پرورش خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔عمر کے اس حصے میں بچے کو ایک سمجھدار اور ذہین فرد کی رہنمائی درکارہوتی ہے۔ان کے قریب ایسا فرد ضروری ہے جو وقت پڑنے پر ان کی مدد کر سکے۔ماں یا باپ یہ کردار زیادہ اچھی طرح ادا کر سکتے ہیں۔دور بلوغت بچے کی آئندہ زندگی پر دور رس اثرات مرتب کرتاہے۔اس دور میں بچے بہت سی تبدیلیوں سے گزر کر بہت کچھ سیکھ کر ایک نئی شخصیت میں ڈھلتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2020-02-04

Your Thoughts and Comments

Special Myths About Parenthood - Bachon Ki Parwarish Aur Ghalat Nazriat article for women, read "Bachoon Ki Samaji Sehat" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.