Bachoon Ki Sehat Ka Khayal Rakhain - Myths About Parenthood - Bachon Ki Parwarish Aur Ghalat Nazriat

بچوں کی صحت کا خیال رکھیں - بچوں کی پرورش اور غلط نظریات

پیر اگست

Bachoon Ki Sehat Ka Khayal Rakhain
ہر ماں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کے بچے تندرست و توانا رہیں۔اس امر کو یقینی بنانے کے لئے ماں کوشش بھی کرتی ہے پھر بھی بعض اوقات اس سے ایسی غلطیاں سر زد ہو جاتی ہیں جو بچے کی بیماری کی شکل میں سامنے آتی ہیں۔ان غلطیوں اور بے پروائیوں پر قابو پا لیا جائے تو بچوں کی صحت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔بچوں میں پیٹ کی بیماریاں بہت عام ہیں۔

پیٹ کی کئی بیماریاں بچوں میں بغیر ابلا ہوا پانی پینے سے ہوتی ہیں۔آج کل فیڈر کا استعمال زیادہ ہو رہا ہے۔ذراسی بے پروائی دودھ کی اس بوتل کو جراثیم کا گھر بنا دیتی ہے۔یہ جراثیم بچے کے پیٹ تک پہنچ کر اسے کئی امراض میں مبتلا کر دیتے ہیں۔دوا وقتی طور پر بچے کا پیٹ ٹھیک کر سکتی ہے لیکن اس کا اصل علاج بوتل کی ٹھیک طرح صفائی ہے۔

(جاری ہے)


جن بچوں کے پیٹ خراب رہتے ہیں وہ عموماً چڑچڑے اور روتے زیادہ ہیں۔

کئی مائیں بچوں کو چپ کرانے کے لئے ان کے منہ میں نپل دے دیتی ہیں جس سے مزید جراثیم ان کے پیٹ میں داخل ہو سکتے ہیں۔بعض خواتین کچن میں کام کرتے ہوئے خاص طو پر سبزی اور گوشت کاٹنے کے بعد ہاتھ نہیں دھوتیں۔ان آلودہ ہاتھوں سے وہ بچوں کو کھانا کھلاتی ہیں تو مختلف بیکٹیریا اور وائرس بچوں کے نظام ہضم میں سرائیت کر جاتے ہیں۔یہ بہت ضروری ہے کہ والدین اور وہ تمام لوگ جن کا رابطہ بچوں کے ساتھ ہے وہ بار بارہاتھ دھوئیں۔

اس کے بعد اگلا مرحلہ آتا ہے گھر کی صفائی کا۔گھروں میں دبیز قالین رکھنے سے گریز کرنا چاہیے۔اگر رکھیں تو اس کی مکمل صفائی کا خیال رکھیں کیونکہ یہ قالین آگے چل کر بچوں میں الرجی اور سانس کی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ باتھ روم میں پائے جانے والے کاکروچ بھی خطر ناک ہوتے ہیں۔ان کے تھوک میں ایسا مادہ پایا جاتا ہے جو سانس کی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔

بچوں کے نزدیک سگریٹ پینے سے گریز کرنا چاہیے۔بچوں کی سانس کی گزر گاہیں بہت تنگ ہوتی ہیں۔سگریٹ کے دھویں سے انہیں نقصان پہنچتا ہے۔ایسے بچوں کو آگے چل کر دمہ ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔بچوں کے کھلونوں کے انتخاب میں بھی احتیاط برتنی چاہیے بعض اوقات روئی بھرے ہوئے کھلونے (بھالو وغیرہ)سے بھی بچوں کو الرجی ہو جاتی ہے۔جس کے نتیجے میں بچوں کو چھینکیں آنے لگتی ہیں۔

بچوں والے گھروں میں جانور پالنے کا شوق بھی بہت زیادہ فروغ پا رہا ہے۔اکثر بچے ان جانوروں کو گود میں اٹھائے اٹھائے پھرتے ہیں۔خیال رہے کہ مرغی،چوزوں اور پرندوں کے پروں اور بلی اور کتوں کے جسم پر پائے جانے والے روئیں سے بچوں کو الرجی ہو سکتی ہے۔گھر میں جانور پالنے کے شوقین افراد کو چاہیے کہ وہ ان جانوروں کی Vaccination کروائیں۔اگر کسی بچے کو بلی یا کتا کاٹ لے تو بچے کو فوراً ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔


کئی مائیں بچپن میں ہی اپنی بچیوں کے کان چھیدا دیتی ہیں۔وہ آلات جن سے یہ کان چھیدے جاتے ہیں بعض اوقات بیماریاں پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں۔بعض مرتبہ بچے دوران سرجری مثلاً ختنہ وغیرہ کے دوران گندے اوزار استعمال کرنے کی وجہ سے انفیکشن میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔اگر آلات جراحی مکمل طور پر صاف نہ ہوں تو وہ مزید بیماریاں پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔

بچوں کے دانتوں کے علاج کے دوران بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ڈاکٹر جراثیم سے پاک آلات استعمال کرے۔
والدین کو بچوں کی Vaccination مکمل کروانی چاہیے۔کوئی متعدی بیماری اگر شہر میں پھیلے تو بچے کو اس سے بچاؤ کے ٹیکے ضرور لگوانے چاہیں۔سکول جانے والے بچے بیماریوں کی زد میں زیادہ آتے ہیں۔اگر بچے کو نزلہ و زکام ہوتو اسے رومال دے کر سکول بھیجیں اسے تربیت دیں کہ وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر کھانسے تاکہ انفیکشن دوسرے بچوں تک نہ پہنچے۔

اگر والدین کو معلوم ہو جائے کہ ان کے بچے کو کوئی متعدی بیماری ہو گئی ہے تو بہتر یہ ہے کہ اسے سکول نہ بھیجیں بعض والدین چکن پاکس اور میزلز میں ایک یا دو دن کے بعد بچوں کو سکول بھیج دیتے ہیں کہ پڑھائی کا حرج نہ ہو۔ایسے بچے سکول جاکر مزید چار یا پانچ بچوں کا حرج کروا دیتے ہیں۔اگر والدین ہسپتال جائیں یا کسی بیمار کی عیادت کے لئے ان کے گھر جائیں تو چھوٹے بچوں کو ساتھ لے کر نہ جائیں۔سکول جانے والے بچوں میں صحت کا شعور پیدا کرنے کی کوشش کریں۔والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے سامنے پان اور چھالیہ کھانے سے گریز کریں۔
تاریخ اشاعت: 2020-08-31

Your Thoughts and Comments

Special Myths About Parenthood - Bachon Ki Parwarish Aur Ghalat Nazriat article for women, read "Bachoon Ki Sehat Ka Khayal Rakhain" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.