Bachoon Ko Zabardasti Khana Na Khilain

بچوں کو زبردستی کھانا نہ کھلائیں․․․

جمعرات مئی

Bachoon Ko Zabardasti Khana Na Khilain
اکثرماؤں کو یہ شکایت رہتی ہے کہ ان کا بچہ کچھ نہیں کھاتا۔اسے زبردستی کھلانا پڑتا ہے ۔بچہ دن بدن کمزور ہوتا جارہا ہے ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کیا کریں کہ بچہ کھانے کی جانب راغب ہو جائے!
کئی والدین یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے بچے کے ہر عمل کو جانتے اور سمجھتے ہیں حالانکہ اکثر ایسا نہیں ہوتا ۔بچہ والدین کے ذہن سے نہیں سوچتا،والدین کو بچہ بن کر اس کے مسائل سمجھنے کی کوشش کرنا چاہیے۔

عموماً ایسا ہوتا ہے کہ بچے کھانا کھانے سے دور بھاگتے ہیں یا پھر بہت کم خوراک کھاتے ہیں ایسے میں والدین بچوں کو زبردستی کھلانے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ بچوں کی صحت کے لیے مضر بھی ہو سکتا ہے ۔بچہ ذہنی طور پر کھانے کے لیے تیار نہیں ہوتا لہٰذا اس کا نظام ہاضمہ بھی درست طریقے سے کام نہیں کررہا ہوتا،ایسے میں جو بھی خوراک دی جائے گی اس کا صحت پر منفی اثر ہو سکتا ہے ۔

(جاری ہے)


اگر بچے کھانے میں پریشان کرتے ہیں تو ان کے لیے نت نئی ڈشز تیار کریں یعنی کھانوں میں یکسانیت نہ ہو ۔کھانا نا صرف مزیدار ہو بلکہ غذائیت سے بھر پور بھی ہوتا کہ بچے کو جس تناسب اور مقدار میں غذائیت کی ضرورت ہے وہ اسے ملتی رہے ۔اگر بچہ ایک بار میں مناسب مقدار میں غذا نہیں لے رہا تو اسے ہلکے پھلکے غذائیت سے بھرپور Snacksکھلائیں ۔مثلاً سینڈوچز ،بچوں کے پسندیدہ اسنیکس ،جن میں مرغی ،مچھلی یا گوشت استعمال ہو سکتا ہے ۔

ان سے بچے کو پروٹین اور توانائی حاصل ہوتی ہے ۔اس کے علاوہ دودھ اور دودھ سے بنی ہوئی اشیاء بھی مفید ہیں ۔دودھ میں کیلشیم ہوتا ہے جو ناصرف دانتوں اور ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے بلکہ مجموعی طور پر بھی صحت کے لیے ضروری اور لازمی ہے ۔ایسے کھانوں کو بچوں کی خوراک کا حصہ بنالیں جن میں Ironبھی شامل ہو۔مثلاً ہری سبزیاں ،پھلیاں اور سلاد وغیرہ ۔

وٹامنز بھی بچوں کی صحت کے لیے ضروری ہیں ۔ویسے تو تمام وٹامنز صحت کے لیے مفید ہوتے ہیں مگر وٹامن سی زیادہ اہم اس لیے ہے کہ یہ خوراک سے فولاد کے حصول کویقینی بناتے ہیں ۔وٹامن سی کے حصول کا بہترین ذریعہ سنگترایا اس کا رس ہو سکتا ہے ۔خشک میوہ جات بھی بچوں کے لیے مفید ہیں ۔میوہ جات آئرن کے حصول کا ذریعہ ہیں۔
ماں کو چاہیے کہ وہ کھانے کے دوران بچے کو کہانی یا اور کوئی دلچسپ بات سناتی رہے اس طرح بچہ متوجہ ہو کر کھائے گا ۔

اکثر مائیں چھوٹے بچوں کی خوراک کا شیڈول تبدیل نہیں کرتیں ۔ہفتے بھر بچے کو دلیہ کھلاتی رہتی ہیں لہٰذا بچہ تنگ آکردلیہ کھانے سے انکار کر دیتا ہے تو وہ زبردستی کھلانے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اکثر مائیں تو بچے کو لٹا کر زبردستی منہ کھول کے چمچ سے اس کے حلق میں انڈیلتی ہیں بچہ چیختا چلاتا ہے مگر ان پر اثر نہیں ہوتا۔ضروری ہے کہ بچے کے لیے روز نہیں تو تیسرے دن خوراک ضرور تبدیل کرلی جائے،خوراک بدلنے سے مراد نرم اور زود ہضم کے بجائے سخت ثقیل چیزیں نہیں بلکہ دلیے کو دودھ ،سوجی ،کیلا ،ساگودانہ کی کھیر،سوپ وغیرہ سے بدل دیں۔


ماں نے بچے کی خوراک کا وقت متعین کیا ہوتا ہے جو کسی حدتک صحیح ہے مگر بچہ اگر درمیان میں بسکٹ مانگ لے یافیڈر کے دوگھونٹ پینا چاہے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ بچے کے جسم میں جب گلوکوز کی کمی ہوتو وہ کچھ نہ کچھ طلب کرتاہے لیکن کئی مائیں اس بات کو نہیں سمجھتیں ۔ان کے خیال میں بچہ پیٹ بھر کر کھاچکا اس لیے اب اسے اور کھانے کی کیا ضرورت ہے․․․․؟
یاد رکھیں بچہ صرف بھوک محسوس کرنے پر ہی نہیں مانگتا بلکہ اگر وہ خود کو غیر محفوظ تصور کرے یا ماں کی توجہ حاصل کرنا چاہے تو کسی اور طریقے سے کامیاب نہ ہونے پر دودھ مانگے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس وقت ماں اس کو گود میں لے کر یا پاس لٹا کر دودھ پلائے گی،بچہ بے وقت بھوک صرف اس صورت میں محسوس کرے گا جب خوراک اسے دوپہر میں یا صبح دی وہ اسے تسلی بخش طریقے سے نہیں کھا سکا یا اس خوراک میں متوازن غذاکا خیال نہیں رکھا گیا۔

اس کے علاوہ کوئی مزیدار چیز دیکھ کر یا ماں یا کسی مہمان کو دیکھ کر بھی اس میں بھوک کا احساس پیدا ہو سکتا ہے ۔
جن گھرانوں میں ماں ملازمت کرتی ہے وہاں اکثر اوقات آیا کو بچے کے لیے مقررکردیا جاتا ہے ۔بچہ ماں کی شفقت اور پیار بھرا چہرہ اپنے اردگرد نہیں دیکھتا تو اکیلے پن کا احساس اسے گھیر لیتا ہے ۔ایسے میں بچہ کی بھوک کم ہوجاتی ہے اور وہ کھانے کی طرف راغب نہیں ہوتا یا بہت تھوڑا کھاتا ہے ۔

بعض اوقات آیا اسے اپنے لیے مصیبت سمجھتی ہے اور جھڑک دیتی ہے جس سے بچہ اور بگڑ جاتا ہے ۔
بچے کے کئی نفسیاتی مسائل مثلاً ضد ،چڑ چڑا پن،بے جارونا ،توڑ پھوڑ کرنا وغیرہ بے اعتدال خوراک کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ۔بچے کی خوراک اگر غذائیت سے بھر پور نہیں تو بچہ بے چین ہو کر روئے گا چیزیں ادھر ادھر پھینکے گا۔بچہ کھانے کے وقت بے جاضد کریں تو بجائے ڈانٹنے کے بچے کی ضد کی وجہ معلوم کریں ،ہو سکتا ہے کہ وہ ماں کے ہاتھ سے کھانا ،چاہتا ہو یا ڈائٹنگ ٹیبل کے بجاے فرش یا قالین پر بیٹھ کر کھانا چاہتا ہو یا کہیں درد محسوس کر لیا ہو مگر بتانہ پارہا ہویا ڈائٹنگ ٹیبل پر بیٹھے کسی شخص سے خوفزدہ ہو یا اجنبیت محسوس کر رہا ہو۔
تاریخ اشاعت: 2019-05-09

Your Thoughts and Comments

Special Myths About Parenthood - Bachon Ki Parwarish Aur Ghalat Nazriat article for women, read "Bachoon Ko Zabardasti Khana Na Khilain" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.