Bachoon Mein Dehydration - Myths About Parenthood - Bachon Ki Parwarish Aur Ghalat Nazriat

بچوں میں ڈی ہائیڈریشن - بچوں کی پرورش اور غلط نظریات

پیر 19 جولائی 2021

Bachoon Mein Dehydration
جب جسم میں پانی کی مقدار تشویش ناک حد تک کم ہو جائے۔اس کیفیت کو ڈی ہائیڈریشن Dehydration کہتے ہیں۔چھوٹے بچوں کے جسم میں تقریباً 75 فیصد پانی ہوتا ہے۔جوان ہوتے ہوتے ان کے جسم میں پانی کی یہ مقدار 60 فیصد تک رہ جاتی ہے۔عمومی ڈی ہائیڈریشن میں بچے کے جسم میں موجود پانی کا پانچ فیصد حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔اس سے زیادہ کی صورت میں دس فیصد اور سب سے زیادہ کی صورت میں پندرہ فیصد پانی ضائع ہو جاتا ہے۔

خوراک و دیگر مائعات کے ذریعے جسم میں پانی شامل ہوتا رہتا ہے۔پیشاب،تھوک اور پسینے وغیرہ کے ذریعے یہ پانی جسم سے خارج ہو کر اپنا توازن برقرار رکھتا ہے۔صحت مند بچے کی پیاس بھی صحت مندانہ ہوتی ہے لیکن اگر کسی وجہ سے بچہ مناسب مقدار میں پانی نہ پی سکے یا اس کے جسم سے پانی کی زیادہ مقدار خارج ہوتی رہے تو ایسی صورت میں وہ ڈی ہائیڈریشن میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

(جاری ہے)

یہ صورتحال اس وقت پیش آسکتی ہے جب بچے کو الٹیاں ہو رہی ہوں،اسے ڈائریا ہو گیا ہو یا پھر اس وقت جب بچے کو بہت تیز بخار ہو اور اس بخار کے سبب وہ پانی وغیرہ نہ پی سکے۔ڈی ہائیڈریشن چاہے شیر خوار بچے میں ہو یا بڑی عمر کے بچے میں ہو،فوری توجہ اور علاج ضروری ہے۔بچے میں ابتدائی طور پر ڈی ہائیڈریشن کا پتہ لگانا ذرا دشوار ہو جاتا ہے۔مندرجہ ذیل علامات پر دھیان دینا بہت ضروری ہے۔


علامات
بچہ کسی بھی قسم کا مشروب ٹھیک طرح نہ پی پائے۔
ڈائریا اور اس کے ساتھ ہونے والی الٹیاں۔
کئی گھنٹوں تک بچے کو پہنائی جانے والی نیپی کا خشک رہنا یعنی بہت دیر تک پیشاب کا نہ ہونا۔
پیشاب کی تھوڑی مقدار لیکن اس کی رنگت گہری ہو۔
بے چینی جو واضح طور پر محسوس ہو جائے۔
ڈی ہائیڈریشن زیادہ ہو جانے کی صورت میں مندرجہ ذیل علامات واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہیں۔


اگر بچے کی جلد کو دبانے پر اس کی جلد دوبارہ اپنی اصل حالت پر واپس آنے میں وقت لگے۔
آنکھوں کی پتلیاں ایک جگہ نہ ٹھہریں یعنی آنکھیں ڈوبتی ہوئی محسوس ہوں اور ان میں آنسو نہ ہوں۔
چہرہ اور ہونٹ خشک دکھائی دیں۔
شروع شروع میں بچہ پیاسا اور بے چین دکھائی دے۔لیکن بعد میں خاموش ہو جائے۔
کیا کرنا چاہیے
فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

ڈاکٹر کے تجویز کردہ مشروبات تیار کرتے ہوئے اس کے پیکٹ پر لکھی ہوئی ہدایات پر ضرور غور کریں اور احتیاط برتیں۔پانی ابال کر اور ٹھنڈا کرکے پلائیں۔شیر خوار بچوں کی مائیں اس بات کا خصوصی اہتمام کریں کہ وہ بچے کو تھوڑی تھوڑی دیر میں دودھ ضرور پلاتی رہا کریں۔اگر چھوٹا بچہ ڈی ہائیڈریشن میں مبتلا ہو گیا ہے تو ڈاکٹر کے تجویز کردہ Rehydration مشروبات بھی بچے کو چمچ یا سرنج کے ذریعے پلانے کا خصوصی اہتمام بھی ڈاکٹر کے مشورے سے کریں۔

ڈاکٹر کے آنے تک یا طبی امداد ملنے تک بچے کو موسمبی،سیب یا کسی اور رس دار پھل کا جوس دیا جا سکتا ہے یا پھر اُبالا ہوا ٹھنڈا پانی استعمال کراتی رہیں۔بچے کو ہر ایک آدھ گھنٹے بعد مشروبات پلا دیا کریں۔یاد رکھیں کہ ڈی ہائیڈریشن کی صورت میں اسے مشروبات کی زیادہ مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔
ضمنی دوائیں اور علاج
ڈی ہائیڈریشن کی صورت میں بچے کو فوری طور پر طبی امداد کی ضرورت پیش آتی ہے۔

لیکن اس سے پہلے ضمنی دوائیں بھی دے سکتی ہیں۔جیسے بچے کو فوری طور پر او۔آر۔ایس کا تیار شدہ مشروب پلایا جائے۔شیر خوار بچے کو دودھ پلانے کے وقفوں میں کمی کرکے فیڈنگ کے دورانیے کو بڑھا دیا جائے۔دو سال سے زائد عمر کے بچوں کو سکنجبین پلانے سے بھی ڈی ہائیڈریشن کی شدت میں کمی لائی جا سکتی ہے لیکن اس بات کا ہمیشہ خیال رکھیں کہ ضمنی دوائیں و علاج محض اس وقت تک کے لئے ہی موٴثر ہوتا ہے جب تک مرض کا باقاعدہ کسی مستند ڈاکٹر سے علاج نہ کروایا جائے۔لہٰذا اپنے گھر میں ایسی اشیاء کا ذخیرہ اور ان کے استعمال کے بارے میں معلومات ضرور رکھیے مگر اسے شافی علاج تصور کرکے ان پر انحصار ہر گز نہ کریں بلکہ ڈاکٹر تک پہنچنے کی جلد از جلد کوشش کریں۔
تاریخ اشاعت: 2021-07-19

Your Thoughts and Comments

Special Myths About Parenthood - Bachon Ki Parwarish Aur Ghalat Nazriat article for women, read "Bachoon Mein Dehydration" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.