بند کریں
خواتین مضامینبچوں کی پرورش اور غلط نظریاتبچے کے اصلاحی طریقے

مزید بچوں کی پرورش اور غلط نظریات

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بچے کے اصلاحی طریقے
آج کل بچوں کی اصلاح کا جو طریق رائج ہے،وہ جسمانی سزا کا ہے،بچے کی کسی غلطی پر اسے سزا دی جاتی ہیں،تاکہ وہ آئندہ اس غلطی کا اعادہ نہ کرے جسمانی سزا کی بنیاد اصل میں خوف کی نفسیات پر ہے
بچے کے اصلاحی طریقے:
بچہ ماحول سرشت اور موروثی خصوصیات پرمنحصرایک معصوم سی ہستی ہیں جو درست تربیت پر قوم کی مصلح اور لیڈر بھی بن سکتی ہیں اور اس پر فقدان پر معاشرے کے لیے ایک خطرہ ایک مسئلہ بھی،گھروں میں اور سکول کے ماحول میں آج کل بچوں کی اصلاح کا جو طریق رائج ہے،وہ جسمانی سزا کا ہے،بچے کی کسی غلطی پر اسے سزا دی جاتی ہیں،تاکہ وہ آئندہ اس غلطی کا اعادہ نہ کرے جسمانی سزا کی بنیاد اصل میں خوف کی نفسیات پر ہے یعنی یہ خیال کہ تکلیف کے ڈر سے بچہ غلط کام سے رک جائے گا لیکن یہ تصور آج کل کچھ درست ثابت نہیں ہورہا بلکہ دیکھا یہ گیاہے کہ جسمانی سے سزا سے بچہ کچھ اور بھی باغی اور سرکش ہوجاتے ہیں جسمانی سزا بچے کے لیے بدترین سزا ہے،ماں یا استاد بچے کو یہ سزا دے کر نہ صرف ان کے پھولوں سے نازک جسموں پر ایذا دیتے اور پامال کرتے ہیں بلکہ خود اپنی عاجزی اور مجبوری کا بھی کھلے بندوں اعلان کرتے ہیں کہ وہ بچے میں نیک و بد کی امتیازی حس پیدا کرنے میں ناکا م رہے ہیں ا وربچے کوگستاخی کی اِن آخری حدود تک لے آئے ہیں جہاں اس کے نرم و نازک محسوسات کرخت اور منجمد ہوچکے ہیں۔بچے بھی اپنی ایک دنیا رکھتے ہیں،وہ خود کو اپنی دنیا کا ہیرو سمجھتے ہیں،انا اور عزت نفس کے تحفظ کا خیال انہیں بڑوں سے کچھ کم نہیں ہوتا جسمانی سزا سے ان میں مزید برہمی نے باکی اور بغاوت کے جذبات جڑ پکڑلیتے ہیں ہم چشموں اور ہم عمروں میں جب ان کی بے عزتی ہوتی ہیں تو وہ مشغل ہوتے ہیں اساتذہ اور والدین کو ان تمام باتوں کو دھیان میں رکھنا چاہیے اور بچوں کے لیے مثبت اور تعمیری دل چسپاں اور مشاغل فراہم کرکے صحت مند خطوط پر ان کی جبلتوں کی رہنمائی کرنی چاہیے تاکہ ان کے بیشتر جذبات کی تسکین ہوسکے اور وہ محرومی کا شکار نہ ہوں اس بات کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ بچوں میں منفی طریقہ فکر صرف اسی صورت میں پیدا ہوتا ہے جب وہ عدم تحفظ کے احساس اور محبت کی کمی کا شکار ہوں بچے عام طور پر ماحول کے مطابق ڈھل جائے اور اس سے ہم آہنگ ہونے کی پوری اہلیت رکھتے ہیں وہ عموماً حالات سے تعاون کرتے ہیں لہٰذا ان کے اور ان کے ماحول کے درمیان تصادم کے مواقع بہت کم ہوتے ہیں۔
بچے کی جذباتی نشوونما: بچے سے متعلق والدین ،استاد اور معاشرے کی جتنی بڑی ذمہ داریاں ہیں ان میں شاید سب سے اہم بچے کی جذباتی نشوونما ہے آج کل معاشرے میں جو اضطراب و انتشار ہے وہ سب عدم طمانیت ک باعث ہے۔اور یہ عدم طمانیت فرد کے معاشرے کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہونے کے باعث پیدا ہوتا ہے بچہ قوم کی امانت ہیں اس کی صحیح تربیت کرکے ہم ایک قوم کی تربیت کرتے ہیں کیونکہ یہی بچہ کل بڑا ہوکر معاشرے اور پھر قوم کی تشکیل کریں گے۔
اردگرد کے لوگوں سے بچوں کے روابط: بچے کا جن ہستیوں سے قریبی تعلق ہوتا ہے ان میں ماں باپ،دادا دادی،اور بہن بھائی شامل ہیں،ہمارے یہاں کے بیشتر گھرانوں میں مشترک خاندان کا رواج ہے اور ایسے گھرانوں میں دادا دادی ایک مخصوص حیثیت رکھتے ہیں بچے کی مذہبی تعلیم کی طرف ابتدا ہی سے توجہ دی جانی چاہیے اور دادا دادی کا یہ مقدس اور خوش گوار فرض ہونا چاہیے کہ وہ بچے کو ابتدائی عمر ہی سے دین و مذہب کے بنیادی اصول سمجھائیں،دینی تعلیم سے بے بہرہ و نا آشنا بچے خود اپنی ذات سے بھی بیگانہ رہتے ہیں اور عمر بھر خود کو غیر محفوظ سا تصور کرتے ہیں مذہب ہمیں پناہ کا احساس دیتا ہے مرکزیت کا تصور دیتا ہے اس لیے وہ بچے جن کو ابتدا میں دین و مذہب کی تعلیم دی جاتی ہیں عام طور پر بڑے ٹھوس کردار کے مالک ثابت ہوتے ہیں۔ماں باپ دادا دادی اور گھر کے دیگر لوگوں کی ہمیشہ یہ کوشش ہونی چاہیے کہ بچے کا ذہن جذباتی رسہ کشی کا شکار نہ ہو آپس میں اگر کبھی کوئی تلخی یا شکر رنجی ہوجائے تو باہمی تنازعات کا اثر بچوں پر نہ پڑنے دینا چاہیے بچوں میں احساس محرومی ہمیشہ پیار میں کمی کے باعث پیدا ہوتا ہے بچے کو بلا تخصیص ان تمام لوگوں کا پیار ملنا چاہیے جنہیں وہ چاہتا ہے یا جو اسے عزیز رکھتے ہیں تند بھاوج،ساس بہو اور دیورانی جٹھانی کے جھگڑوں کا بچوں تک نہیں پہنچنا چاہیے بزرگوں کا فرض ہے کہ گھر میں اتحاد و اتفاق کی فضا قائم رکھیں آپس کے نفاق کا بہت ناخوش گوار اثر بچوں پر پڑتا ہے،بڑے بھائی بہنوں کو بھی بچے کے ساتھ نرم اور پیار کا رویہ رکھنا چاہیے اور کسی معاملے میں اس کی حق تلفی نہ کرنی چاہیے ،بڑے بھائی بہنوں کو بچے کے لیے ہر معاملے میں رواداری اور فراخ دلی رکھنی چاہیے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے