بند کریں
خواتین مضامینبچوں کی پرورش اور غلط نظریاتبچے کا طرز عمل اور اس کے پس پردہ کار فرما عناصر

مزید بچوں کی پرورش اور غلط نظریات

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بچے کا طرز عمل اور اس کے پس پردہ کار فرما عناصر
بچوں میں نافرمانی،جھوٹ،چوری،بغاوت اور دیگر ناپسندیدہ رجحانات کی کچھ وجود ضروری ہوتی ہیں بچوں کے ان مجرمانہ میلانات کی اگر وجہ معلوم کرلی جائیں تو ان کا سدباب اتنا مشکل نہیں
بچے کا طرز عمل اور اس کے پس پردہ کار فرما عناصر:
بچے فطرتاً مطیع ہوتے ہیں اور اپنے رویے میں اکثر اطاعت و فرماں برداری کا مظاہرہ کرتے ہیں،انہیں اگر نارمل اور بھرپور زندگی ملے تو ان کی عادت اور اطوار درست نہج سے انحراف نہیں کرتے۔بچوں میں نافرمانی،جھوٹ،چوری،بغاوت اور دیگر ناپسندیدہ رجحانات کی کچھ وجود ضروری ہوتی ہیں بچوں کے ان مجرمانہ میلانات کی اگر وجہ معلوم کرلی جائیں تو ان کا سدباب اتنا مشکل نہیں۔
منافقت اور جھوٹ: بچے فطرتاً سچے ہوتے ہیں اور سچائی کا پیغام لے کر آتے ہیں اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ کوئی بچہ پیدائشی طور پر جھوٹا ہوتاہے،بچے جھوٹ دراصل مجبوراً بولتے ہیں یہ مجبوری کبھی خارجی نوعیت کی ہوتی ہیں اور کبھی داخلی یعنی کبھی تو بچے اپنی مادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جھوٹ بولتے ہیں اور کبھی انہیں جھوٹ کا چسکا محض اس لیے پڑتا جاتا ہے کہ وہ اپنی اس حس کو تسکین دینا چاہتے ہیں جو ان کی خودی اور افادیت کو بلند کرتی ہیں دوسرے لفظوں میں یہ دوسرا گروہ ان بچوں کا گروہ ہیں جو کسی نہ کسی طرح احساس محرومی کا شکار ہیں۔وہ خواب جو حقیقت نہیں بن سکتے،تصور میں ان کے محل بنا کر اور دوسروں کو فریب دے کر وہ خود کو مطمن کرتے ہیں اس قسم کے بچے”گپی“بچوں کے گروہ میں آتے ہیں۔خارجی وجود کا جہاں تک تعلق ہے تو بچے کی ضروریات کو اس حد تک نہ بڑھنے دیجیے کہ ان کو پورا کرنے کے لیے اسے جھوٹ کا سہارا لینا پڑے چٹورین ایک بُری عادت ہیں عام طور پر بچے جھوٹ اس لیے بولتے ہیں کہ وہ گھر والوں سے پیسے لے کر بازار سے اپنی من بھاتی اشیا خرید کر کھاسکیں،موسم کے پھل،ٹافیاں، بسکٹ اور بچوں کی پسند کی دیگر چیزیں گھر میں ضرور رکھے اور ایک ضابطے کے تحت اور اعتدال کے ساتھ بچوں کو کھانے کے لیے دیجیے تاکہ ان کی نیت ڈانواڈول نہ ہو اور وہ باہر کی چیزوں پر المچائی ہوئی نظریں نہ ڈالیں،بچوں کی ضرورت اگر تشفی بخش طریق پر گھر میں پوری ہوجائیں تو وہ بازار سے خراب اورمضر صحت اشیا لے کر نہ کھائیں،چھٹی کے روز بچوں کو کوئی کسٹرڈ،فرنی،حلوہ پکوان یا ان کی پسند کی کوئی اور چیز گھر میں پکا کر کھائیے۔داخلی وجود کے سدباب کے لیے کوشش کیجیے کہ آپ اپنے بچے کو ایک بھرپور زندگی دے سکیں اور اس کی زندگی میں کسی قسم کاخلا نہ پیدا ہونے دیں،جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے بچے کو ماں باپ اور دیگر بزرگوں کا بھرپور پیار ملے تو وہ احساس محرومی کا شکار نہیں ہوتا۔احساس تحفظ اسے مطمن و مسرور رکھتا ہے بعض اوقات بچہ اس لیے بھی منافق،فریبی اور ریاکار ہوجاتا ہے جو اسے گھر کے کسی خاص فرد کی جانب جھکنے پر مجبور کرتی ہیں اب اگر والدین میں سے کوئی یہ چاہے کہ بچی اس فرد سے نہ ملے تو خواہ وہ والدین کے حکم سے کھل کر تو سرتابی نہ کرے لیکن چھپ کر اپنی خواہش کی تکمیل کے ذریعے ضرور سوچے گا اور پھر اگر یہ بھید کھل جائے تو اسے سوائے جھوٹ کا سہارا لینے کے کوئی چارہ نہ رہے گا اس صورت حال سے نمٹنے کا طریقہ یہی ہے کہ گھر کے تمام افراد اپنے اپنے تنازعات کو بچوں کے مفاذ پر قربان کردیں گھر کوشطرنج کی بساط نہ بننے دیں بلکہ اسے بچوں کے لیے ایک ایسی پناہ گاہ بنائیں جس میں اس کے لیے پیار سکون اور اپنائیت ہو۔بچے گھر میں ہونے والی ملمع ساز سے بھی اکثر اوقات منافقت کا سبق سیکھتے ہیں جس چیز سے ہم اپنے بچے کو بچانا چاہتے ہیں،ہمیں چاہیے کہ اس سے پہلے ہم خود اجتناب کریں۔
بچوں کے مختلف گروہ: بچوں کی شخصیت ان کے افعال و کردار اوران کے رویے کا جائزہ لیا جائے تو بچوں کے عموماً مندرجہ ذیل مختلف گروہ نظر آتے ہیں:
نارمل بچے: یہ معتدل مزاج بچوں کا گروہ ہے ان کی شخصیت کے خطوط بڑی صحت مند بنیادوں پر استوار ہوتے ہیں اور ان کے عادات و اطوار عام طور پر نارمل خطوط سے انحراف نہیں کرتے یہ بچے کبھی گھر اور معاشرتے کے لیے مسئلہ نہیں بنتے زندگی کے بارے میں ان کا رویہ بڑا دو ٹوک قسم کا ہوتا ہے نہ یہ بیجا کسی دبتے ہیں نہ اپنے حق سے زیادہ طلب کرتے ہیں ایسے بچوں میں کسی قسم کی پیچیدگی اور نفسیاتی مسائل کے پیدا ہونے کے امکان نہیں ہوتا۔
بزدل بچے: بزدل بچے عموماً کم گو،کم آمیز متین شرمیلے،صلح پسند اور نیک خو ہوتے ہیں یہ بچے عام طور پر دب جانے اور مار کھالینے میں عاقیت سمجھتے ہیں والدین اساتذہ کو ایسے بچوں کے زیادہ سے زیادہ قریب آکر انہیں پیار اور محبت دینی چاہیے تاکہ ان کا اعتماد بحال ہو اور وہ خوف زدہ نہ رہیں۔
تحمل پسند اور نازک طبع بچے: یہ بچے بڑے شاعرانہ دماغ کے مالک ہوتے ہیں اور ان کا جمالیاتی ذوق بھی عام نسبت زیادہ بلند ہوتاہے ان کی درست تربیت کے لیے یہ ضروری ہے کہ انہیں پھول،رنگ،تصوریریں اور پینٹنگ کا سامان مہیا کیاجائے تاکہ وہ اپنی فن کارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں اور ان کی صحیح خطوط پر نشوونما کرسکیں۔
باغی بچے: باغی بچے عموماً شریر ،لڑاکا اور آندھی طوفان مچانے والے بچے ہوتے ہیں اور ہر لحظہ گھر کے سکون کو درہم برہم کرنے کی فکر میں رہتے ہیں یہ بچے والدین کے لیے ایک مسئلہ ہوتے ہیں اور اپنی دھاندلی اور سرکشی کے باعث بزرگوں سے اپنی ہر جائز اور ناجائز بات منوالیتے ہیں گھر والے ان کی طوفانی طبیعت سے خائف رہتے ہیں کہ کہیں کسی بات پر مچل کر یہ گھر کا سکون برباد نہ کرڈالیں والدین اور گھر کے بزرگوں کو اس کمزوری کا سرکش بچے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں اور اپنی جارحیت کی بنا پر پورے گھر پر چھائے رہتے ہیں وہ نقصان کرنے،توڑنے پھورنے اور آدھم مچاتے ہیں اور سارا گھر ان سے عاجز رہتا ہے ایسے بچوں کے ساتھ ماں کو ٹھہرا ہو انرم اور متعدل رویہ رکھنا چاہیے نہ بہت زیادہ توجہ اور نہ بہت زیادہ بے توجہی،سختی اور جبر سے ایسے بچوں کی اصلاح نہیں کی جاسکتیں مار پیٹ کرکے آپ خود اپنا غصہ خواہ اُتار لیں لیکن بچے کے حق میں یہ چیز قطعی غیر مفید ہوتی ہیں اور ہرگز تعمیری و مثبت نتائج کی حامل نہیں ہوتی ایسے بچوں کے لیے مناسب اور موزوں تعمیری دل چسپیاں فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہیں تاکہ یہ مختلف کھیلوں اور مشاغل میں لگے رہیں اور خود کو اور گھر کو نقصان نہ پہنچائیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے