بند کریں
خواتین مضامینبچوں کی پرورش اور غلط نظریاتباغبانہ رجحانات اور ایذا پسندی کی اصل وجہ

مزید بچوں کی پرورش اور غلط نظریات

- مزید مضامین
باغبانہ رجحانات اور ایذا پسندی کی اصل وجہ
والدین کا رویہ جابرانہ نہیں بلکہ مشفقانہ ہونا چاہیے انہیں بچوں کی جائز خواہشات کا احترام کرنا چاہیے اور انہیں پورا کر دینے میں خوشی محسوس کرنی چاہیے
باغبانہ رجحانات اور ایذا پسندی کی اصل وجہ
بعض والدین بڑی جاکمانہ بلکہ جابرانہ طبیعت رکھتے ہیں وہ بچے کا کہنا مان لینے میں اپنی سب کی توہین سمجھتے ہیں،والدین کا رویہ جابرانہ نہیں بلکہ مشفقانہ ہونا چاہیے انہیں بچوں کی جائز خواہشات کا احترام کرنا چاہیے اور انہیں پورا کر دینے میں خوشی محسوس کرنی چاہیے،بغاوت اور ایذا پسندی عام طور پر کسی محرمی کے رد عمل کے طور پر ظہورپذیر ہوتی ہیں نکتہ چینی اور والدین کی بیجا ضد بھی بعض اوقات بغاوت کا سبب بنتی ہیں۔بغاوت کی وجوہ میں سب سے اہم جسمانی اور ذہنی ایذاہے اگر بچے کو جسمانی یا ذہنی ایذا دی جائے گی توتقریباً وہ باغی ہوجائے گا اس لیے کہ تشدد اور جارحیت کا رد عمل بھی ان سے کچھ مختلف نہیں ہوتا سرکش،باغی اور تشدد پسند بچے کے لیے آپ گھر میں ایسے مشاغل متعین کرسکتے ہیں جن میں یہ زور آوری دکھا سکیں اور ان کی طبیعت کے اشتعال اور ابال کو نکاس کا راستہ ملے،مثلاً گھر میں باغبانی اور پھول بوٹوں کی آبیاری کے کام میں آپ اپنے ایسے بچے سے ہی مدد لیں،زمین کو کھودنا خاصا سخت کام ہیں،اس کو جب بچہ اس غرض سے کرتا ہے کہ وہ اس میں بیج بوئے گا اور خوش رنگ پھول بوٹے اگیں گے تو اس صورت میں اس سخت کام کے ساتھ ایک خوشگوار تصورت کی وابستگی اور کچھ حاصل ہونے کا احساس اسے مطمن و مسرور رکھتا ہے اس کے علاوہ یہ چیزیں اس کے جمالیاتی ذوق اور تعمیری جبلت کی تسکین کا بھی باعث بنتی ہیں۔گھر کے چھوٹے موٹے کامون میں بھی آپ اپنے بچوں سے کام لے سکتے ہیں،جلانے کی لکڑیاں اگر آپ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ اٹھا کر رکھنا ہیں تو اس کام میں اپنے اسی بچے سے مدد لیجیے۔پلنگوں کی ادوائن کسنا بھی اس کے سپرد ہونا چاہیے،پالتو جانوروں کے لیے دڑبے بناناٹھونک پیٹ کے چھوٹے چھوٹے کام۔معمولی گھریلو چیزوں کی مرمت یہ سب وہ کام ہیں جنہیں آپ اپنے سرکش بچے سے کرا کر اور بعد میں اس کی پیٹھ ٹھونک کر اور شاباش دے کر اسے نہ صرف مطمن و آسودہ خاطر کرسکتے ہیں بلکہ خود نمائی کے یہ موقعے بہم پہنچاکر غیر محسوسی طور پر اس کے لیے اصلاح اور بہتری کی طرف مائل ہونے کا ایک اچھا موقع فراہم کرسکتے ہیں۔
شرارت: عام طور پر بچوں کی شرارت مصیبت سمجھی جاتی ہیں اور گھر والے شریر بچوں کے ہاتھ تنگ رہتے ہیں شرارت بچوں میں ذہانت اور زندگی کا ثبوت ہے۔شریر بچوں کے چہروں پر ذہانت کی ایک مخصوص چمک اور رکاوٹ کا پرتو ہوتا ہے۔آنکھیں گہری اور چمک دار ہوتی ہیں اور عموماً سیماب وار اور بے قرار ہوتی ہیں،ایسے بچوں میں بجلی کی سی تڑپ اور چینے کی سی جھپک ہوتی ہیں غبی اور کند ذہن بچوں کے چہرے جذبات سے عادی اور آنکھیں خالی خالی ہوتی ہیں ان میں احساس کی فروانی بھی نہیں ہوتی شریر بچوں سے خائف یا بد دل ہونے کے بجائے ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ان کی ذہانت کو پھولنے پھلنے کا موقع دیں تاکہ بڑئے ہوکر وہ اس سے مفید مطلب لے سکیں،شریر بچوں کے لیے کھیل متعین کیجیے جن میں ذہانت استعمال ہوتی ہو۔انہیں پہیلیاں اور بجھارتیں بوجھنے کے علاوہ حساب کے چھوٹے چھوٹے مسئلے اور سوال حل کرنے کو دیجیے پھر دیکھیے ان کی ذہانت کے کیسے کیسے گوشے آپ کے سامنے آتے ہیں۔
ریڈیو ٹی وی اور سینما: ریڈیو اور ٹی وی کو تعلیمی مقاصد کے لیے بہت بہتر طریق پر استعمال کیا جاسکتاہے۔ٹی وی پر مخصوص لیکچر اور باقاعدہ قسم کے تعلیمی پروگرام ہونے چاہیں،ہمارے یہاں ریڈیو اور ٹی وی زیادہ تو تفریحی پروگرام پیش کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بچے اگر کسی تعلیمی پروگرام سے کچھ حاصل بھی کریں تو باقی تفریحی پروگرام دیکھنے میں بڑا وقت ضائع ہوجاتا ہے جس کا نہایت ناخوش گوار اثر ان کی تعلیم پر پڑتا ہے بعض سمجھدار گھرانوں میں والدین ٹی وی خریدنے سے محض اس لیے گریز کرتے ہیں کہ اس کے پروگراموں محو ہوکر بچے اپنی تعلیم سے بیگانہ ہوجاتے ہیں۔رات ہی کا وقت مطالعے کے لیے سکون کا وقت ہوتا ہے اور یہی ان پروگراموں کی نذر ہوجاتا ہے۔یہ ضرور ہے کہ ٹی وی سے بچے کی معلومات وسیع اور ذخیرہ الفاظ میں اضافہ ہوتا ہے لیکن اس کے نقصانات بھی اپنی جگہ ہیں۔صورت حال کو بہتر بنانے کا بہترین طریق یہ ہے کہ والدین میں سے ماں یا باپ ٹی وی اور ریڈیو کے روزانہ پروگرام اخبار میں دیکھ لیا کریں اور اس کے مطابق بچے کوٹی وی دیکھنے کی اجازت دی جائے۔صرف وہی پروگرام انہیں دیکھنے دیے جائیں جو تدریسی اہمیت کے حامل ہوں یا جن سے وہ کچھ حاصل کرسکیں۔ا سکے بعد یا تو ٹی وی بند کردیا جائے یا بچوں کو کمرے سے نکال کر اور ان کے مطالعے کے کمرے میں پہنچا کر دروازہ بند کردیا جائے تاکہ ویہ سکون سے اپنی کتابیں پڑھ سکیں ،سینما وغیرہ میں بھی بچوں کو ساتھ لے کر جانے سے گریز کرنا چاہیے آج کل جو مخرب اخلاق فلمیں بن رہی ہیں وہ بچوں کو سوائے بگاڑنے کے کوئی کارنامہ سر انجام نہیں دے سکتیں کبھی کبھار کوئی اچھی فلم بنتی ہے باپ کوچاہیے کہ وہ بچوں کو دکھانے سے پہلے فلم خود دیکھے اور صرف وہی فلم بچوں کو دکھائے جو انہیں کوئی اچھی بات سکھا سکے۔کنبے کے ساتھ دیکھی جانے والی فلمیں عام فلموں سے بہت مختلف ہونی چاہیں

(0) ووٹ وصول ہوئے