Maa Ban Nay Se Pehlay Bhulaiyon Ki Ahmiyat

ماں بننے سے پہلے بھلائیوں کی اہمیت

Maa Ban Nay Se Pehlay Bhulaiyon Ki Ahmiyat

سوچ بہتر ہوتو اولاد پر بھی اثر پڑتا ہے
وہ ان نہایت پاکیزہ 9ماہ میں جب طبعی ناپاکی قریب سے بھی نہیں گزرتی،ایک ماں اپنی چاہت سے اپنے بچے کی عادات مرتب کر سکتی ہے۔اس تمام وقت میں سونے،جاگنے،اٹھنے بیٹھنے کا جیسا شیڈول ماں بناتی ہے وہ بچے کے لاشعور میں فیڈ ہو جاتا ہے ،اس کا Biological Clockماں کی گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ ٹک ٹک کرے گاماں کی پانچ نمازیں بچے کو پانچ وقتوں کے سجدوں کے لطف سے آشنا کریں گی اور ماں کی تلاوت بچے کو قرآن پاک کا عادی بنا سکتی ہے ۔


ماں ترجمے سے قرآن پڑھے گی تو مادری زبان سمجھنے والا بچہ قرآن کے لفظوں اور مفہوم سے آشنا ہونے لگے گا۔ماں کا تدبر بچے کو بھی سوچ بچار کا عادی بنائے گا۔اس 9ماہ میں ماں بچے کو ہمہ وقت گویا ٹیوشن پڑھا رہی ہوتی ہے ۔

(جاری ہے)

وہ رشتے ناطوں سے محبت کا درس دے یا نفرت کا یہ اس کی صوابدیدہے۔اسے خالق سے جوڑے ،خالق کے محبوب حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کا سبق پڑھنے یا مخلوق سے شفقت کا درس اپنے قول و فعل سے اس اپنی مٹی کے کھلونے میں گوندھ دے یہ سب کام وہ خاموشی سے کرتی جاتی ہے ۔


عام طور پر اس دورانئے کو بڑی بوڑھیاں احتیاطی معاملات تک ہی اہمیت دیتی ہیں اور اسے عام سا واقعہ قرار دیا جاتا ہے ۔ماں بننے کی نوید ملتے ہی اسپتالوں کے چکر لگنا شروع ہو جاتے ہیں ۔گھر کے کاموں میں خواتین کو رعایت ملنا شروع ہوجاتی ے ۔فولاد ،فولک ایسڈ اور کیلشےئم اضافی طور پر سیلپیمنٹس کی شکل میں دےئے جاتے ہیں لیکن اس خاتون کی ذہنی کیفیت روزانہ تبدیل ہوتی ہے کوئی اس نکتے پر غور نہیں کرتا۔


ان نو ماہ میں خواتین پر ذہنی دباؤ بھی بڑھتا ہے ۔
جسمانی تبدیلیاں بھی رونما ہوتی ہیں اور صورتحال تبدیل ہوتی جاتی ہے ۔مرد حضرات اسے سمجھنے کی کوشش کریں تو یہ خاندان بھر کے لئے دلچسپ دور ہوتا ہے ۔بیوی اپنے خاوند سے 9ماہ پہلے ماں بن جاتی ہے ۔شوہر باپ تب بنتا ہے جب بچہ اپنی گود میں لیتا ہے ۔ماں اس سے کہیں پہلے اپنے اندر دل کی دھڑکن کی طرح اولاد کو ہلتا جلتا محسوس کرنے لگتی ہے ۔


ہر گزرتے پل کے ساتھ بچے کی بڑھوتری اور ماں کی تربیت ہورہی ہوتی ہے ۔اس سارے عمل میں اچھے باپ بیوی سے لا تعلق نہیں رہتے یعنی صرف عورت ہی ماں بننے کی تیاری نہیں کرتی زوجین بحیثیت ایک اکائی بھی امید سے ،ہوسکتے ہیں ۔
2001ء میں سائنسدانوں نے ماں کے موڈ اور بچے کی بڑھوتری کے درمیان تعلق کی تصدیق کی ۔
معتدل اور پر امیدماؤں کی زچگی محفوظ اور بہترین نتائج کی حامل رہی جبکہ اداسی ،مایوسی اور ڈپریشن کی شکار ماؤں نے اس دورانئے میں مشکلات کا سامنا کیا۔


زچہ کی سوچ اور غذا ایسی اچھی ہونی چاہئے کہ بچے کی ذہنی اور روحانی بالیدگی خوب تر رہے ۔اس دوران صدقات کی کثرت ہوتو اچھا ہے۔یوں تو مسکراہٹ بھی صدقہ ہے اسے اپنے چہرے سے غائب نہیں ہونے دینا چاہئے۔
نئی مائیں اپنی عادات بدل ڈالیں
ان نو ماہ میں صاف سوچ ،پاکیزہ بدن ،بہترین کتابیں اور مخلص ساتھیوں سے میل ملاقات رکھیں ۔
تلاوت واذکار کی پابندی بھی مزاج پر اچھا اثر مرتب کرے گی۔

زچگی سے متعلق لٹریچر پڑھیں ضرور مگر جہاں کہیں الجھن محسوس کریں گائنا کولوجسٹ سے مشورہ ضرور کیاکریں ۔
اگر دوسری یاتیسری اولاد متوقع ہوتو پہلی اولاد کو وقت دینا نہ چھوڑدیں ۔رشتوں کی مہرومحبت اور الفت سے نبھائی جائیں ۔عزت وتکریم کرنے سے اپنی عزت بھی بڑھتی ہے ۔
شوہر کے ساتھ زندگی کا یہ دلچسپ ،انوکھااور بہترین تجربہ ضرور شےئر کریں ۔

اسے صرف درد اور تھکن کا حال مت سنائیں ۔اپنی صحت کا خیال رکھیں ۔رزق حلال کی کوشش جاری رکھیں اور اس بات کا اہتمام کریں کہ آپ دونوں کے جسم میں کوئی حرام لقمہ نہ داخل ہو،تا کہ بچے کے جسم کی کوئی ہڈی بوٹی ریشہ حرام سے تعمیر نہ ہو اور آپ کے پیارے کے لئے دوزخ کی آگ حرام ہو جائے۔لقمہ حلال اور صحت مند فرمانبردار اولاد راست اور متناسب ہیں ۔اسی طرح دین اور دنیا کی بھلائی ممکن ہے اور ایک دن جب بچہ تولد ہو گا پورے خاندان کے لئے یہ دن عید سے کم نہیں ہو گا۔
نئی ماؤں کے لئے دلی مبارکباد!

تاریخ اشاعت: 2019-01-18

Your Thoughts and Comments

Special Myths About Parenthood - Bachon Ki Parwarish Aur Ghalat Nazriat article for women, read "Maa Ban Nay Se Pehlay Bhulaiyon Ki Ahmiyat" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.