بند کریں
خواتین مضامینبچوں کی پرورش اور غلط نظریاتماوٴں کے لیے بطور خاص

مزید بچوں کی پرورش اور غلط نظریات

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ماوٴں کے لیے بطور خاص
ٹین ایجرز، اور صحت سے لاپراہی۔۔۔ صحت مند غذا حاصل کرنے کا عمل دوسرے ایج گروپ سے زیادہ نو جوانوں کے لئے ضروری ہو کرتا ہے کیونکہ یہ غذا کے ذریعے اپنی صحت اور اس سے وابستہ مستقبل کو مضبوط بنا رہے ہوتے ہیں
لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیاں کھانے پینے میں زیادہ لاپرواہی کا مظاہرہ کیا کرتی ہیں حفظانِ صحت کے اصولوں کو نظر انداز کر کے بنائی گئی اشیائے خوددونوش کے استعمال سے صحت پہ تباہ کن اثرات مرتب ہوا کرتے ہیں
آپ نوجوانوں سے سوال کریں کہ ان کی بنیادی ترجیحات کیا کیا ہیں تو بہت کم ایسے ہوں گے جو صحت کا ذکر کریں گئے۔ صحت کے علاوہ دنیا بھر کی اور باتیں بتا سکتے ہیں یعنی انہیں یہ کرنا ہے، وہ تعلیم حاصل کرنی ہے۔ اس فیلڈ میں قدم جمانے ہیں اپنی فنی زندگی کو کاملیت کانمونہ بنانا ہے فلاں سے شادی کرنی ہے فلاں ملک کا ویزا لینا ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن صحت کا ذکر وہ گول کر جائیں گے جیسے ان کے نزدیک صحت کی کوئی اہمیت ہی نہ ہوا اوراس لاپرواہی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہر نوجوان اپنے آپ کو مکمل صحت مند خیال کیا کرتا ہے ہو سکتا ہے کہ وہ دانت یا سر دار کے لئے گولیاں استعمال کرلیتے ہوں لیکن ان کے خیال میں یہ چیزیں زنددہ خطر ناک نہیں ہوتیں بلکہ معمولی خرابیاں ہیں۔
صحت کی بنیاد تو بچپن ہی سے پڑجاتی ہے لیکن اسے توانائی نوجوانی میں ملا کرتی ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ نوجوانی میں وہ اپنی صحت کے بارے میں مکمل معلومات رکھتے ہوں اگر کسی نوجوان کی طبیعت خراب ہوجاتی ہے تو وہ فطری طور پر سب سے پہلے اپنے والدین ہی سے رجوع کرتا ہے۔ کیونکہ والدین کا اثر اس کی شخصیت پر گہرا ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ والدین جو مشورہ دے رہے ہیں وہ ٹھیک ہی ہوگا۔
والدین ہی کا رویہ اور ان کی شخصیت اس کی صحت پر اثر انداز ہواکرتی ہے۔ مثال کے طور پر ستر فیصدی امکان اس بات کا ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والے والدین کی اولاد بھی سگریٹ نوشی کیا کرتی ہے لیکن کیونکہ ان کے سامنے والدین کی مثال ہوتی ہے۔
لیکن صحت کی معلومات اور مشوروں کا ذریعہ صرف والدین ہی نہیں بنتے بلکہ بچہ اپنے ماحول اپنے دوستوں ، ٹی وی، اخبارات اور رسائل کے ذریعے بھی بہت کچھ اخذ کر لیتا ہے لیکن بنیادی محور والدین ہی ہوا کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کتنے فیصد والدین کو نوجوانوں کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل ہیں؟ وہ کیا جانتے ہیں؟ اور وہ کس اندازے کے مشورے دے سکتے ہیں؟
سروے یہ بتاتا ہے کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیاں کھانے پینے میں زیادہ لاپرواہی کا مظاہرہ کیا کرتی ہیں۔ اس کا ثبوت اسکول اور کالج کے باہر یا اندر چاٹ ، دہی بڑے، آلو چھولے اور اسی قسم کی چیزیں فروخت کرنے والوں کے گرد لڑکیوں کا ہجوم ہے۔ ان اشیاء کی تیاری چونکہ حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق نہیں ہوا کرتی شاید اسی لیے لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کو صحت کے حوالے سے زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کی صحت خراب ہوتی چلی جاتی ہے۔
اندازے کے مطابق نوجوان شوگر آمیز اشیاء کا زیادہ استعمال کیا کرتے ہیں اور جیسے جیسے وہ بڑے ہوتے جاتے ہیں، ویسے ویسے وہ دودھ کا استعمال کم کر دیتے ہیں۔ چائے، کافی یا ڈرنک پرزیادہ گزارا کرنے لگتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی خوراک میں زیادہ کیلوریز حاصل کرتے ہیں مگر صحت مند جسمانی سرگرمیوں سے دور رہنے کے نتیجے میں ان کا جسم خوراک سے حاصل کی گئی ان کیلوریز کو استعمال نہیں کر پاتا جو آہستہ آہستہ چربی کی صورت میں ان کے جسم میں ذخیرہ ہونا شروع ہو جاتا ہے 10-15 برس کی عمر کے بچے چکنائی والی اشیاء کا بہت استعمال کرتے ہیں ۔ لڑکیوں میں دودھ اور انڈے وغیرہ کی طرف سے رغبت ختم ہوجاتی ہے اور وہ کیلشیم کی کمی کا شکار ہو جاتی ہے۔
دوسری طرف لڑکیوں میں اپنے وزن کو کم کرنے کا رجحان بھی پیدا ہو گیا ہے ۔ ہرلڑکی سلم اور اسمارٹ نظر آنا چاہتی ہے اس لئے وہ ایسی غذائیں استعمال کرتی ہے جو ٹھوس اور توانائی سے بھر پور ہوں۔
اس لئے لڑکیاں سبزیوں، پھل اور جوس وغیرہ کا استعمال لڑکوں سے زیادہ کرنے لگی ہیں۔
مسائل کے مرکز
غذا اور صحت کے درمیان نوجوانوں کے لئے مسائل کے کئی مرکز (پوائنٹس) ہوتے ہیں۔
۰ وزن کو کم کرنے والی غذائیں بہت بھاری پڑ جاتی ہیں۔
جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ ہرلڑکی دبلی پتلی دکھائی دینے کے شوق میں مبتلا ہو گئی ہے اس لئے وہ یا تو فاقے کرنے لگتی ہے یا پھر صحت بخش غذاوٴں کا استعمال ترک کر دیتی ہے ۔ مثال کے طور پر موٹاپے سے بچنے کے لئے وہ آلو وروغنی اشیاء کا ستعمال چھوڑ دیتی ہے جس کی وجہ سے وہ ایک طرف تو چکنائی سے محفوظ رہتی ہے لیکن دوسری طرف وہ معدنیات اور ضروری وٹامنز کی کمی کا شکار بھی ہو جاتی ہے۔ اگر وہ موٹاپے سے بچنے کے لیے دودھ پینا بھی چھوڑ د ے تو اس کی ہڈیاں کمزور ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔
کیلشیم کی کمی
انسانی ڈھانچے کا زیادہ تر انحصار کیلشیم پر ہوا کرتا ہے یہ کیلشیم دودھ کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ لڑکے تو کسی حد تک دودھ پی بھی لیتے ہیں لیکن لڑکیاں دودھ کا استعمال ترک کر دیتی ہیں۔
انسانی ڈھانچے کو مضبوط اور توانا رکھنے کے لئے عمر کے دو ادوار ایسے ہوتے ہیں جب جسم کو کیلشیم کی ضرورت زیادہ شدید ہوتی ہے۔ ایک اُس وقت جب بچہ بہت چھوٹا ہوتا ہے تاکہ اس کی ہڈیوں کی بنیاد مضبوط ہو سکے اور دوسرے اُس کی جوانی میں۔
لہٰذا اس عمر میں کیلشیم سے بھر پور غذاوٴں کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ خالص دودھ کے علاوہ ڈیری سے تیار کردہ چیزیں بھی کیلشیم کے حصول کا بڑا ذریعہ ہوتی ہیں ۔اگر بچہ یا نوجوان دودھ کا استعمال نہ کرے تو اسے دوسری چیزوں کی طرف راغب کیا جاسکتا ہے۔
خون کی کمی
نوجوانوں میں خون کی کمی کی شکایت عام ہوتی ہے اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ انہیں اپنی غذا میں مناسب آئرن نہیں مل پاتا۔ لڑکیاں خاس طور پر اپنے ایام کی وجہ سے اس کا شکار ہوا کرتی ہیں۔دس میں سے پانچ لڑکیاں خون کی کمی کا شکار ہو ا کرتی ہیں۔ گوشت ، سبزیوں ،دلیہ وغیرہ کے ذریعے وہ آئرن حاصل کر کے اپنے جسم میں آئرن کی کمی کو دور کر رکے خون کی پیداوار میں اضافہ کر سکتی ہیں۔
کھانا یا ناشتہ گول کر جانا
اس کے لئے اس سے بہتر اصطلاح اور کیا ہو سکتی ہے کہ فیش میں یا جلد بازی میں بہت سے نوجوان ناشتہ یا لنچ وغیرہ چھوڑ دیتے ہیں۔خاص طور پر لڑکیاں اور جب انہیں بھوک لگتی ہے تو اسنیکس وغیرہ کھا کر بھوک کو مٹانے کو کوشش کرتی ہیں۔ خوراک بڑھانے کا عمل
صحت مند غذا حاصل کرنے کا عمل دوسرے ایج گروپ سے زیادہ نوجوانوں کے لئے ضروری ہوا کرتا ہے کیونکہ یہ غذا کے ذریعے اپنی صحت اور اس سے وابستہ مستقبل کو مضبوط بنا رہے ہوتے ہیں۔
نوجوانوں کو ہر قسم کی غذا استعمال کرنی چاہیے۔ وہ تمام چیزیں جن میں صحت مند اجزا پوری مقدار میں موجود ہوں۔ ہر قسم کا اناج، دلیہ ، تازی سبزیاں ، وتازے پھل، انڈے ، دودھ ،دہی ،پنیر ، غرضیکہ وہ سب کچھ جن میں معدنیات، آئرن ، وٹامن اور کیلشیم وغیرہ موجود ہوں۔ نوجوانوں کو اپنے وزن کو بڑھانے اور برقرار رکھنے کے لئے زیادہ اور صحت مند کھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن وہ زیادہ چکنائی اور شوگر سے پرہیز بھی کریں اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کھانے سے بیزاری محسوس نہ کریں بلکہ کھاتے ہوئے انجوائے کریں۔
والدین کو بھی چاہیے کہ وہ نوجوانوں کوقوت بخش چیزیں کھانے پر آمادہ کریں۔ انہیں احساس دلائیں کہ گھر میں جو کچھ پک رہا ہے وہ باہر کے کھانوں سے بہت اچھا ہے ۔ اگر ہو سکے تو کھانا بناتے ہوئے نو جوانوں کو بھی شامل کر لیا کریں یا کم از کم ان کی پسند او ران کی فرمائش معلوم کر لیں۔ اس طرح وہ اپنی فرمائش کے کھانے خود ہی کھانے لگیں گے۔
ورزش اور کھیل کود
آج کل کے بچوں کی طرز زندگی کی سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ انہوں نے کھیل کود اور ورزش کا شوق بہت کم کر دیا ہے۔ اس آرام طلبی کی بہت سی وجوہات ہیں ۔ ایک زمانہ تھا کہ بچے دور دراز کے اسکولوں میں بھی پیدل جایا کرتے تھے اب والدین گاڑیوں میں لے جایا کرتے ہیں موٹر سائیکلوں پر لے جاتے ہیں۔ قریب کے اسکول کا بچہ بھی کم از کم اسکول وین پر تو ضرور جایا کرتا ہے۔ پیدل چلنے کی عادت ہی ختم ہوتی جارہی ہے۔
کچھ عرصہ پہلے تک اسکولوں میں اسپورٹس کو خاص اہمیت حاصل ہوا کرتی تھی لیکن اب وہ اہمیت بھی بہت کم ہو گئی ہے۔ اسکولوں میں وزرش اور پی ٹی وغیرہ کا رواج کم ہوتا جا رہاہے۔ بہت کم بچے ان میں حصہ لیتے ہیں۔
آج کل طرح طرح کے حادثات بھی رونما ہونے لگے ہیں۔ اس لئے والدین حفاظتی نقطہ نظر سے بھی بچوں کو کھیل کود کی کم ہی اجازت دیا کرتے ہیں۔ بہرحال وجوہات چاہے جو بھی ہوں ، حقیقت تویہ ہے کہ آج کے بچے ورزش اور کھیل کود میں دلچسپی کم ہی لیا کرتے ہیں اور اس عدم دلچسپی کے نقصانات یقینا ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
ورزش کے فائدے
باقاعدہ ورزش صحت مند رہنے کا سب سے بہتر اور موثر ذریعہ ہے۔ ورزش سے جسم پر چکنائی جمع نہیں ہوتی اور ہڈیاں مضبوط ہو جاتی ہے۔ ورزشوں سے نہ صرف پھیپڑوں اور دل کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے بلکہ عضلات بھی مضبوط ہو جاتے ہیں۔ جسم کے جوڑ بہتر طور پر حرکت کرتے ہیں اور ایک پر سکون نیند بھی حاصل ہو جاتی ہے۔
ورزش سے بھوک کھل کر لگتی ہے۔ بیماری کا خطرہ کم ہو تا ہے اور بچہ چست و چالاک ہو جاتا ہے۔ دیکھنے سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس بچے میں توانائی موجود ہے ورزش سے بچوں میں خود اعتمادی پیداہوتی ہے۔ وہ ہر وقت الرٹ رہتا ہے ۔
ہمارے یہاں اسیے کلب پائے جاتے ہیں جہان بچوں کو کھیل کود سیکھائے جاتے ہیں ۔ جیسے کرکٹ اور فٹ بال وغیرہ ۔ اگر کلب نہ بھی ہوں تو بھی بچے آپ کو گلیوں میں کھیلتے ہوئے دکھائی دے جائیں گئے۔ بہت سے بچے جاگنگ کیا کرتے ہیں بہت سے ہیلتھ کلب جایا کرتے ہیں اور یہ سب مشغلے بچوں کے لئے مفید ہیں۔ صحت مند ماحول میں ان کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔
کھیل کود میں حصہ نہ لینے والے بچوں کی ورزئش
بہت سے بچوں کو کھیل کود کا کوئی شوق نہیں ہوتا ۔ وہ یاتو مقابلوں میں حصہ لینے سے کتراتے ہیں یا پھر ان کا مزاج ہی اس قسم کا ہوتا ہے۔ یہ والدین کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ ایسے بچوں کو چست اور چالاک رکھنے کے لئے کیا کریں ، اُنہیں کس طرح مضبوط بنائیں کہ وہ آگے چل کر صحت مند نوجوان بن سکیں۔ ایسے بچوں کے لئے ایسے کھیل درکار ہیں جن میں انہیں کسی سے مقابلہ نہ کرنا پڑے۔
لڑکیوں کو ایکسر سائز کی ہوم ویڈیولاکر دیں، تاکہ وہ بندکمرے میں ویڈیو دیکھ کر ورزشیں کرتی رہیں،جمناسٹک وغیرہ بھی سیکھ سکتی ہیں۔ لڑکے بھی یہ کر سکتے ہیں ۔ سب سے بہتر ورزش تیراکی ہو ا کرتی ہے۔ اگر موقع ہو اور حالات اجازت دیں تو بچوں کو تیراکی کے کلب لے جائیں۔ جہاں وہ خود ہی تیراکی کرتے رہیں گے اور کسی سے انہیں مقابلہ وغیرہ نہیں کرنا پڑے گا۔
آپ ایسے بچوں کو اپنے ساتھ ہفتے میں دو تین بار جاگنگ یا واک کے لئے بھی لے جا سکتے ہیں۔ کم ازکم ایک میل کی واک مناسب رہے گی۔ سائیکل چلانا بھی ایک اچھی ورزش ہے۔ یہ ایسی ورزش ہیں جو بچہ اپنے طور یعنی انفرادی طورپر کر سکتا ہے اوراسے گروپ وغیرہ کی ضرورت ہوا کرتی۔

(4) ووٹ وصول ہوئے