Mausaam Sarma Main Bachchon Ki Sehat - Myths About Parenthood - Bachon Ki Parwarish Aur Ghalat Nazriat

موسم سرما میں بچوں کی صحت - بچوں کی پرورش اور غلط نظریات

جمعہ جنوری

Mausaam Sarma Main Bachchon Ki Sehat
سردیوں کا موسم بچوں کی صحت پر دیگر موسموں کے مقابلے میں زیادہ اثر انداز ہوتا ہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ بچوں میں قوت مدافعت قدرے کم ہوتی ہے۔سردیوں میں نزلہ،زکام،کھانسی اور بخار جلد ہی ان پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔سردیوں میں ناک بند ہونا،الرجی،خارش اور نمونیا جیسے امراض میں شدت آجاتی ہے۔اس مضمون میں کچھ احتیاطی تدابیر بتائی جا رہی ہیں جنہیں اپنا کر مائیں بچوں کو سردی سے محفوظ اور صحت مند رکھ سکتی ہیں۔

سردیوں کا موسم اکثر بچوں کے لئے خاصی زحمت کا باعث بن جاتا ہے۔نزلہ ،زکام،گلے کی خراش، نمونیہ،بخار وغیرہ اس موسم میں عام ہوتے ہیں۔ان سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کر لی جائیں تو بچے بیمار ہونے سے محفوظ رہیں گے۔
نوزائیدہ بچے موسمی سختی برداشت نہیں کر پاتے اور ماحول اور آب و ہوا کی تبدیلی سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

چھوٹے بچے موسم کے نتائج سے بے پرواہ ہو کر کھیل کود میں مگن رہتے ہیں۔

بچے تو بچے ہیں،وہ کیوں کر موسم اور اس کے لئے احتیاطوں کو سمجھ سکتے ہیں․․․․؟یہ کام تو ہے ہی سراسر ان کی ماؤں کا کہ انہیں احتیاط کرائیں۔ مائیں اگر سرد موسم کے شروع ہوتے ہی بچوں کو مناسب گرم کپڑے پہنائیں۔انہیں پانی میں کھیلنے سے دور رکھیں۔ٹھنڈے پانی سے ہاتھ منہ دھونے اور نہانے سے روکیں۔چاکلیٹ،غیر معیاری ٹافیوں اور مٹھائیوں سے دور رکھیں تو بچے سینے کی جکڑن،سانس کی تکلیف،نزلے، گلے کی خرابی یا گلے کے غدود میں سوجن کے مرض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔


سردی کے موسم میں نوزائیدہ بچوں کے پاؤں،سینے اور خاص طور پر سر کو گرم رہنا چاہیے۔شیر خوار اور کم از کم پانچ برس تک کے بچوں کے سر اور سینے کو ڈھانپ کر رکھیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پانچ برس سے بڑے بچوں کو گرم کپڑے نہ پہنائے جائیں،اور ان کو سرد ہوا کے جھونکوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے بلکہ احتیاط سب کے لئے ضروری ہے۔ماہرین طب کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کی چالیس فیصد حرارت سر اور چہرے کے راستے جسم میں داخل ہوتی ہے۔

اس لئے محتاط رہیں۔موسم کی سختی کے سبب بچوں کے سر پر اونی ٹوپی اور پاؤں میں موزے پہنانے کے ساتھ ساتھ سینہ بند یا کوئی ہاف سوئٹر کپڑوں کے اندر پہنائیں۔ ہائی نیک سوئٹر پہننا بھی مفید رہے گا،گرم کپڑے پہناتے وقت موسم کی شدت کا درست اندازہ کریں اور اس ہی حساب سے کپڑے پہنائیں۔ایسا نہ ہو کہ موسم کی شدت سے زیادہ بھاری کپڑے پہنا دیے جائیں،جس سے بچہ گھبرا جائے۔


پانی کی بے احتیاطی سے عام طور پر بچوں کی قوت مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے اور وہ نزلے زکام اور نمونیے میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ نمونیہ ہونے سے پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں،جس کی وجہ سے پسلیاں چلنے لگتی ہیں۔تیز بخار ہو جاتا ہے اور بچہ سانس لینے میں دقت محسوس کرتا ہے۔بہتر ہے کہ بچوں کو پہلے ہی نمونیے سے بچاؤ کے ٹیکے لگوا لیں۔ماہرین اطفال کے مطاق جب بچہ کراہنا شروع کرے تو والدین کو چاہیے کہ فوری توجہ دیں اور ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔

سانس لینے میں سیٹی کی آواز نکلنا،پسلی چلنا،بچے کا نڈھال ہونا،بخار، نزلہ اور کھانسی کے ساتھ جھٹکے لگنا شدید نمونیے کی علامات ہیں۔بچوں کو سرسوں یا زیتون کے تیل کی مالش کرکے دھوپ میں لٹائیں یا بٹھائیں۔مناسب احتیاط اور تدابیر اختیار کرکے بچوں کو سردی کے امراض اور تکلیف سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔بچے کے سینے کو ٹھنڈ لگ جانے کی صورت میں روئی گرم کرکے سینکیں،سینے پر ڈاکٹر کے مشورے سے بام مالش کریں۔
تاریخ اشاعت: 2021-01-15

Your Thoughts and Comments

Special Myths About Parenthood - Bachon Ki Parwarish Aur Ghalat Nazriat article for women, read "Mausaam Sarma Main Bachchon Ki Sehat" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.