Nomolood Aur Ghizai Ehtiyat

نومولود اور غذائی احتیاط

ہفتہ اپریل

Nomolood  Aur Ghizai Ehtiyat
آج کل کے والدین کو اپنے بچوں کی پرورش کے سلسلے میں کل کے والد ین سے زیادہ پریشانیاں اور الجھنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آج دنیا بہت مختلف ہو گئی ہے والدین کی ذمہ داریوں میں اس لئے اضافہ ہو گیا ہے کہ بچہ باہرکے اثرات قبول کر رہا ہے اور اس کی سماجی‘نفسیاتی اور جسمانی صحت پر باہری ماحول کے اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔ بچے کے لئے اُس کاگھر سب سے محفوظ مقام ہونا چاہئے جہاں وہ پوری توانائی کے ساتھ اپنے آپ کو پروان چڑھاسکے۔

یہ مضمون،بچوں کی نگداہشت ان کی پرورش اور ان کی صحت کے تقریباہر پہلو کا جائزہ لینے کی غرض سے ترتیب دیا گیا ہے۔ اسے پڑھنے کے بعد آپ اپنے بچے کو زیادہ بہتر طور پرجان سکیں گی اور بچے کے متعلق ہرا لجھن کا جواب آپ کو اس مضمون میں مل جائے گا۔

(جاری ہے)


شیر خوار بچے: وہ بچے جو پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے ابھی ابھی جنم لیا ہے‘ جو اس دنیا میں آ ئے ہیں زندگی کی ابتداء عمر کے اس مرحلے سے ہوا کرتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کے بچے کل کے بچوں سے زیادہم محفوظ اور صحت مند ہوتے ہیں۔ میڈیکل سائنس کی ترقی نے بے شمار بیماریوں کو بچوں سے دور کر دیا ہے۔ اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ آج کا بچہ اپنی پہلی سالگرہ کل کے بچے سے زیادہ صحت مند انداز میں منایا کرتا ہے۔ لاتعداد بیماریاں قبل از پیدائش اور پیدائش کے فورا بعد کے ٹیکوں سے دور ہوگئی ہیں۔

بچوں کو صحت مند اور محفوظ رکھنے کے لئے بہت سی چیزوں اور بہت سے امکانات کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر۔
توجہ اور پیار بچوں کو جذباتی اور نفسیاتی طور پر صحت مند اور توانا رکھنے کے لئے بھر پور توجہ اور پیار کی بہت ضرورت ہوتی ہے اگر صرف ان کی غذائی یا جسمانی ضروریات پوری ہوتی رہیں اور ان کے ساتھ پیار اور محبت کا برتاؤ کیا جائے تو ان کی نشوونما کمزور ہو جاتی ہے۔

یہ بات واضح طور پر دیکھی گئی ہے کہ وہ بچے جنہیں ماوٴں کی بھر پور توجہ اور اہمیت حاصل رہتی ہے ان بچوں سے کہیں زیادہ صحت مند ہوتے ہیں جن کے پاس بدقسمتی سے پیار کی یہ نعمت نہیں ہوتی۔
پیار اور توجہ کیا چیز ہے بچوں کو ایک ایسی ہستی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جس سے وہ پیار کرسکیں اور جوان سے پیار کرے۔ ان پر توجہ دے جو اٹھتے روتے سوتے جاگتے ان کا خیال رکھے۔

عام طور پر ایسی ہستی ماں ہوا کرتی ہے اور اگر ماں نہ ہو تو ایسی توجہ باپ‘ دادا‘ نانا‘ نانی کوئی بھی دے سکتا ہے۔ اگر کسی بچے کو ایک سے زیادہ پیار کرنے والے مل جائیں۔ لیکن ماں باپ دادا‘دادی و غیرہ۔ تو یہ اس کی مزید خوش نصیبی ہو گی۔ اپنی زندگی کے ابتدائی یعنی پہلے سال میں بچہ ان ہی رشتوں اور ان ہی تعلقات میں زیادہ اپنائیت محسوس کیا کرتا ہے۔

ماں کے نقطہ نظر سے پیار اور توجہ ماں اوربچے کے درمیان وہ معاہدہ ہے جس کے تحت ایک عورت اپنی اولاد کی ہوکر رہ جاتی ہے۔ قدرت کا ایسا نظام ہے کہ ماں اپنے بچے کی پیدائش سے پہلے ہی اس کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ اسے بچے کی فکرستانے لگتی ہے کچھ مائیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ جو بچے کی پیدائش سے قبل پیدائش کے وقت سے ہی اپنے بچے سے پیار کا اظہار کر تی ہیں۔

انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کی کوکھ سے جس نے جنم لیا ہے وہ ان ہی کی اولا دے۔ لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ ماوٴں کو اپنے بچے پسند ہی نہیں آتے۔ وہ کچھ ہفتوں تک ان کی طرف توجہ ہی نہیں دیتیں۔ یہ سمجھ لیں کہ ان کی مامتا میں جوش ہی نہیں پیدا ہوتا۔ ایسے ٹھنڈے احساس کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ بچہ پیدا ہوتے ہی ماں سے دور کر دیا گیا ہو۔

وہ اتناکمزور ہو کہ اس کو انکیوبیٹر میں رکھا گیا ہو۔ ایسی صورت میں ماں کواسے سینے سے لگانے کا موقع نہ مل سکا ہو یا ماں کو خوف ہو کہیں اس کا بیٹا مر نہ جائے۔ ایسی صورت میں وہ اپنے آپ کو اس کی محبت میں زیادہ انوالو نہیں کرتی۔ لیکن یہ برف زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہتی۔ اچانک پگھل بھی جاتی ہے۔ ایسی ماں کے سامنے بچے کو کوئی حادثہ پیش آجائے تو اچانک اسے احساس ہوگا کہ ارے میں تو بچہ سے اس سے محبت کرتی آئی ہوں یہ میرا اپنا ہے۔

میری اپنی اولاد ہے۔ پیدائش سے پہلے یہ بالکل درست ہے کہ بچے کی پیدائش سے پہلے ماوٴں کو ہر قسم کی الجھنوں اور پریشانیوں سے دور رہنا چاہئے۔ ورنہ ان کے اثرات اس کی کوکھ میں پرورش پانے والے بچے پر رونما ہو سکتے ہیں۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ جو مائیں ڈپریشن کا شکار ہوکر بچے کو جنم دیتی ہیں ان کے بچے جسمانی اور ذہنی طور پر کمزور ہوا کرتے ہیں۔

اس ڈپریشن کی بھی کئی وجوہات ہوا کرتی ہیں۔۔ سب سے پہلے تو اولاد کو جنم دینے کا خوف۔ نہ جانے کیا ہو گا۔ کس طرح ہو گانارمل ہوگا یا آپریشن کے ذریعے ہوگا خود بچی کیسا ہوگا؟ وغیرہ وغیر اس قسم کی بہت سی الجھنیں ماوٴں کو پریشان کرتی رہتی ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ڈپریشن سے نجات کے لئے کسی ماہر کی خدمات حاصل کی جائیں۔ جو آرام اورتسلی کے ساتھ نئی نئی ماں بننے والیوں کو سمجھا سکے۔

انہیں حوصلہ دے سکے۔ حاملہ خواتین اگر حالیہ دنوں میں ماں بنے والی خواتین سے بھی ملتی رہیں تو یہ ملاقات ان پر خوشگوار اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ ماں بن جانے والی خواتین - اپنے تجربے کی بنیاد پر خوفزدہ حاملہ خواتین کو خوف سے نجات دلا سکتی ہیں۔ ضرورت صرف توازن کی ہوتی ہے۔ اگر زندگی کے معمولات کو سلیقے کے ساتھ متوازن کرلیا جائے تو بڑی حد تک ڈپریشن سے نجات مل جاتی ہے۔

جیسے صحیح وقت پر مناسب آرام ( بہت سی خواتین ڈپریشن کی وجہ سے بھی تھکن کا شکار ہو جاتی ہیں) مناسب غذا ہلکی اور مناسب ورزشیں وغیرہ۔ ان معمولات کو اپنانے کے لئے اور سلیقے سے عمل کرنے کا مشورہ کوئی تجربہ کار خاتون ہی دے سکتی ہے۔ جو یہ بتائے گی کہ ُاسے یہ کرنا ہے اور یہ نہیں کرنا۔ اس دوران ذہن میں بے شمارمنفی خیالات بھی آتے رہتے ہیں۔ ان منفی خیالات کوبھی دور کر نے کی ضرورت ہے۔

ڈپریشن کو ختم کرنے کے لئے مختلف ذرائع اور طریقہ علاج ہیں۔ جیسے ہارمونی ٹریمنٹ ‘نفسیاتی نشستیں’‘ مختلف قسم کی دوائیں وغیرہ۔ (اعصاب کو پرسکون کرنے والی جو عام طور پر بازار میں دستیاب ہیں۔ لیکن ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر انہیں ہرگز استعمال نہیں کرنا چاہئے) ڈپریشن کا شکار ہونے والی بہت سی خواتین بچے کو دودھ پلانے کے خیال سے خوفزدہ رہتی ہیں۔

اچھا معالج مشورہ دینے والا انہیں اس وہم سے نجات دلا سکتا ہے۔ بچوں کے کے ساتھ پیش آنے والے آدھے سے زیادہ حادثات گھر ہی پر ہوا کرتے ہیں۔ دو سال کی عمر اس میں ایسے حادثات کا خطرہ بہت شدید ہو جا تا ہے۔ویسے تو بچہ 9 مہینے کا ہوتے ہی خطرے کی سرحد میں داخل ہو جاتا ہے۔ یعنی جب وہ چلنا پھرنا اور حرکت و کرنا شروع کرتا ہے۔ ابتداء میں آپ کے بچے کو بہت دیکھ بھال اور حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے۔

ویسے تو آپ کی نگرانی اسے حادثات سے محفوظ رکھ سکتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی حفاظتی سامان کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ تاکہ وہ مکمل طور پر محفوظ رہ سکے۔ یہ سامان کچن‘ ڈرائنگ روم وغیرہ میں کام آتے ہیں۔ اس قسم کے سامان بازار میں مل جاتے ہیں۔ ابتدائی چندمہینے حفاظتی سامان مندرجہ ذیل اشیاء پرمشتمل ہوتے ہیں۔ نہلانے کے وقت کے لئے ایک ایساباتھ سیٹ جو سلپ نہ کر سکے۔

محفوظ کاٹ (Cot) یعنی پنگوڑا جس میں بچے کو رکھا جا سکے محفوظ پش چئیرایک اونچی کرسی۔ پش چئیر ایسی ہونی چا ہے جس میں بچہ با آسانی لیٹ سکے اور جسے لاک لگا کر محفوظ کیا جا سکے اور اس بات کا اطمینان کر لیا جائے کہ اس کی سیٹ خود بخو و بند تو نہیں ہو جاتی۔ اس کی بر یک بالکل درست حالت میں ہو۔ اوپر ایسی چھتری ہونی چاہئے جس سے بچہ دھوپ کی براہ راست تمازت سے محفوظ رہ سکے۔

کچھ اس قسم کی احتیاط ہائی چئیر اور کارسیفٹی بیلٹ وغیرہ لیتے ہوئے اختیار کرنی چاہئے
ماں کا دودھ بچے کی نشوونما کے لئے ماں کے دودھ سے بہتر اور کوئی چیز ہو ہی نہیں سکتی۔ اس سلسلے میں کسی معذرت یا جواز کی گنجائش نہیں ہے۔ سب سے سستا محفوظ صحت مند اور فوری طور پر دستیاب صرف یہی دودھ ہوتا ہے جو بچے کے لئے ہر قسم کی اور بھر پور توانائی مہیا کر دیتا ہے۔

کم ازکم 4 سے 6 ماہ تک توبچے کے لئے اس دودھ کا کوئی نعم البدل ہی نہیں ہے۔ اگر بچہ بیمار بھی ہواس وقت بھی اسے دودھ پلانا ترک نہ کریں۔ قدرت نے ماں کے دودھ میں وہ ساری خوبیاں شامل کر دی ہیں جو بچے کی نشوونما اور اس کی زندگی کے لئے بہت ضروری ہیں۔ اس میں بے پناہ پروٹین اور منرل وغیرہ ہوا کرتا ہے۔ چکنائی وغیرہ بہت کم ہوتی ہے۔ غرضیکہ ماں کا دودھ بچے کے لئے ہر لحاظ سے انتہائی مفید ہے۔

قدرت نے اتنے بہترین اور نپے تلے تناسب سے ماں کے دودھ کو بنایا ہے کہ وہ بچے کی بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ اس کی غذائی ضروریات پوری کرتا رہے اور ابتدا ہی میں اس کو اس کی بھاری غذا نہ مل جائے جس کو وہ برداشت نہ کر سکے۔ بہر حال ماں کے دودھ میں بچے کے لئے وٹامن اے ڈی اور ای وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ماں کا دودھ پینے والے بچوں میں قوت مدافعت بوتل سے دودھ پینے والوں سے زیادہ ہوا کرتی ہے۔

ان میں انفیکشن کے اثرات بھی کم ہوا کرتے ہیں۔ ان بچوں میں کھانسی دمہ اور سردی لگنے کے اثرات بھی کم ہوا کرتے ہیں اور جب ان بچوں کومختلف امراض کے ٹیکے بھی لگ جاتے ہیں تو ان کا حفاظتی سسٹم اور بھی مضبوط ہو جا تا ہے۔ ان کے علاوہ بچے کی ظاہری صحت پر بھی ماں کے دودھ کا بہت اثر ہوا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ بچے دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ سلم اور توانا ہوا کرتے ہیں۔

ماں کا دودھ بچوں کو الرجی وغیرہ کے اثرات سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اس کا نظام ہاضمہ تندرست رکھتا ہے بلکہ وقت سے پہلے پیدا ہونے والے انتہائی کمزور اور ناتواں بچے کے لئے بھی ماں کا دودھ بہترین غذائی حیثیت رکھتا ہے۔
خدشات دودھ پلانے والی ماوٴں کو بعض اوقات بچے کی طرف سے بہت سے خدشات بھی لاحق رہتے ہیں۔ جیسے کہ پتہ نہیں بچے کو پوری غذامل رہی ہے یا نہیں یا پھر ایسا تو نہیں کہ میرا دود ھ کم ہو اور بچے بھوکا رہ جاتا ہو! ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

اگر بچہ تندرست ہے اور پیشاب کھل کر آتا ہے تو پھر اس بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہی یہی ہے کہ بچہ اپنی ضرورت کے مطابق آپ سے اپنی غذا حاصل کررہا ہے۔ اگر آپ یہ سمجھتی ہیں کہ آپ کا بچہ بھوکا رہ جاتا ہے تو دودھ پلانے کی تعداد بڑھادیں۔ کبھی کبھی ماں کے نپلز تکلیف بھی دینے لگتے ہیں۔ ایسی صورت میں انہیں صاف ستھرا رکھیں اور خشکی سے سے بچائیں۔

کبھی بھی بچے کے منہ میں ایسا ا نفیکشن ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے ماں کے نپلز دکھنے لگتے ہیں۔ سینے میں سختی اور تکلیف کی صورت میں گرم پانی کاٹکور بھی مفید ثابت ہوا کرتا ہے۔ ماں کا دودھ کب بند کیا جائے جب بچے کو دودھ پلانے کا مرحلہ بخوبی انجام پارہا ہو اور ماں اور بچہ دونوں خوش ہوں اس وقت یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ کب ختم کیا جائے؟ چند ادارے اور ڈاکٹر ز یہ کہتے ہیں کہ ایک سال بعد دودھ پلانے کا سلسلہ ختم کردیا جائے۔

یونیسیف اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا مشورہ ہے کہ دو سال بعد (ہمارے یہاں بھی کم از کم دو سال کا تصور ہے)
بہر حال دیکھنا یہ چاہئے کہ ماں اوربچہ دونوں صحت مند اور خوشگوار انداز سے اس فریضہ کوانجام دے رہے ہیں اور دودھ کے ساتھ ساتھ بچے کو ٹھوں غذاوٴں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے اور سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے تو پھر جلدی دودھ چھڑانے کا کوئی جواز نہیں پیدا ہوتا۔

بلکہ بچے کی صحت اور اس کو مختلف انفیکشن کے اثرات سے بچانے کے لئے یہ بہترہے کہ دودھ پلانے کا دورانیہ طویل ہو۔ قدرت کا یہ بھی نظام ہے کہ جب بچے کو دودھ چھوڑنا ہوتا ہے تو وہ خود ہی ماں کا دو دھ قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے یا پھر دن بھر میں صرف ایک بار پیا کرتا ہے اور یہ بھی نظام ہے کہ بچہ جب تک دودھ پیتا رہتا ہے اس وقت تک دودھ پیدا ہوتا رہتا ہے۔

دودھ چھڑانے کا عمل یکخت بھی ہوسکتا ہے اور آہستہ آہستہ بھی ۔ آہستہ آہستہ میں فائدہ یہ ہے کہ جب وہ ماں کا دودھ نہ پی رہا ہو اس وقت اس کو دوسری غذاوٴں کے ذریعے آہستہ آہستہ بیلنس کیا جا سکتا ہے اور دوسری غذاؤں کا عادی بنایا جا سکتا ہے۔
بوتل کا دودھ یہ بات طے ہے کہ ماں کادودوھ بچے کے لیے سب سے بہتر اور مفید غذا ہے لیکن بعض مائیں مختلف وجوہات کی بناپربچے کو کوئی فیڈ نہیں کر پاتیں۔

ایسی صورت میں ان کے بچے بوتل کے دودھ پر گزاراکیا کرتے ہیں.
فائدے اور نقصانات بچوں کے لئے بازار میں ملنے والے فارمولا دودھ ماں کے دودھ کام نعم البدل تو نہیں ہوتے پھربھی وہ کسی نہ کسی حد تک بچے کی غذائی ضرورت کو پوری کردیتے ہیں۔ یہ دودھ چونکہ گائے کے دودھ سے تیار ہوتے ہیں اس لئے ان میں بھی غزائیت موجود ہوتی ہے۔اس دودھ میں سے سوڈیم اور پروٹین کی زائد مقدارنکال لی جاتی ہے تا کہ بچے کا جگر اور اس کا نظام ہاضمہ وغیرہ اس دودھ کو قبول کر سکے۔

سوکھا دودھ بچوں کے لئے مفید ہوتا ہے اور اسے استعمال کرنے کا مشورہ دیا جا تا ہے۔ڈبے کے دودھ کے علاوہ گائے کا خالص دودھ بھی بچوں کو پلایا جاتا ہے لیکن یہ دودھ ایک سال سے پہلے نہیں دینا چاہیے،اس سے پہلے بچے کا جسمانی نظام اس دودھ کو برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوتا.
تاریخ اشاعت: 2018-04-07

Your Thoughts and Comments

Special Myths About Parenthood - Bachon Ki Parwarish Aur Ghalat Nazriat article for women, read "Nomolood Aur Ghizai Ehtiyat" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.