Parvarish Bache Ko Puraitmad Banaye

پرورش بچے کو پُر اعتماد بنائیے․․․

جمعہ جون

Parvarish Bache Ko Puraitmad Banaye
بچوں کی اچھی تربیت کے ثمرات ہمیں مختلف صورتوں میں نظر آتے ہیں ۔مثلاً:
پر اعتماد ہوتے ہیں۔
ایسے بچے اچھے اخلاق وکردار کے مالک ہوتے ہیں۔
ان کی ذہانت اور معلومات قابل توجہ ہوتی ہے۔
جسمانی اور ذہنی طور پر صحت مند ہوتے ہیں۔
خوش گوار تعلقات با آسانی قائم کر لیتے ہیں۔
ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے ہیں۔


اس کے برعکس بچوں کی تربیت میں لا پرواہی،مختلف مسائل پیدا کرتی ہے مثلاً:
تعلیمی اور صحت مند سرگرمیوں سے دور بھاگتے ہیں۔
غصہ،بد تمیزی اور دیگر برائیوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔
ناکامی اور شکوہ شکایت میں زندگی بسر کرتے ہیں۔
احساس کمتری میں مبتلا ہوتے ہیں۔
ایسے کئی بچے نشے کے عادی بن جاتے ہیں۔

(جاری ہے)


بچوں کی تربیت میں عدم دلچسپی کی وجہ سے ہم اپنے معاشرے کا حال دیکھ سکتے ہیں۔

مجموعی طور پر زندگی کے کسی بھی شعبہ میں قابل فخر مقام حاصل نہیں کر سکے،دنیا کی ترقی میں کوئی قابل ذکر مثال نہیں پیش کر سکے۔ٹریفک قوانین سے لے کر تحقیق کی دنیا تک،بجلی کے کنڈے سے لے کر کام چوری تک ہر میدان میں ہمارا کردار کسی وضاحت کا محتاج نہیں۔انفرادی طور پر اگر کچھ مثالیں قائم کی ہیں تو ان کی بھی حالت بقول ایک دانش وراحمد جاوید:
”اگر ہم نے مغرب کو چار آنے دےئے ہیں تو چار لاکھ لئے ہیں۔


ایک وسیع خلیج ہے ،جسے عبور کرنے کے لئے بہت محنت کی ضرورت ہے ،خاص طور پر بچوں کی پرورش پر۔ہماری حالت تو نظروں کے سامنے ہے لیکن مغرب کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟
آئیے!غور کرتے ہیں۔
1940کی دہائی میں امریکہ میں والدین اپنے بچوں کے رویوں کی وجہ سے پریشان تھے۔اس وقت کے بچے والدین اور اساتذہ کے سامنے چیونگم چباتے،شور کرتے،کلاس میں بھاگ دوڑ کرتے ،یونیفارم کے قوائد وضوابط کا خیال نہیں رکھتے،فضول گفتگو کرتے۔


مغربی معاشرہ بچوں کی تربیت اور نشونما کے لئے فکر مند تھا۔اسی لئے وہاں تحقیقات ہوئیں،کتابیں لکھی گئیں،تربیتی پروگرامز منعقد کئے گئے۔ان سب کو ششوں کے نتیجے میں ایک نئے معاشرے نے جنم لیا۔لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ ان تمام کوششوں کے باوجود معاشرہ بد سے بد تر حالت میں چلا گیا۔اب وہاں تشدد ہوتا ہے ،زیادتی ہوتی ہے،نشہ ہوتا ہے ،خود کشیاں ہوتی ہیں اور یہ سب اسکولوں میں بھی ہوتاہے۔


یوایس پبلک ہیلتھ سروس کے مطابق 1980سے 1999تک بچوں کے خود کشی کے رجحان میں 200فیصد اضافہ ہوا ہے۔2009کے اعداد وشمار کے مطابق 10سے 24سال کے بچوں میں اموات کی تیسری بڑی وجہ خود کشی ہے۔سینٹر فارڈزیزکنٹرول اینڈ پر یوینشن کی 2016کی رپورٹ کے مطابق 10سے 34سال کی عمر کے افراد میں موت کی دوسری بڑی وجہ خود کشی بن گئی ہے۔ان تحقیقات کی تفصیلات لرزہ خیز ہیں۔


ایک طرف تو نظام کی خوبیوں نے انہیں دنیا کی سپر پاور بنا دیا ہے ،دوسری طرف بچوں کی غلط پرورش نے سنجیدہ مسائل کھڑے کر دےئے۔
دیکھیے․․․․!کوئی شخص راتوں رات خود کشی پر آمادہ نہیں ہوتا۔اس کی ابتدا خوف اور بے چینی سے ہوتی ہے۔اس کے بعد جھنجلاہٹ،غصہ ،اداسی مایوسی،تنہائی وغیرہ جیسے احساسات سے گزرنے کے بعد جب کوئی شخص منفی احساسات کی انتہا پر پہنچ جاتا ہے،تب خود کشی کرتا ہے ۔

سوچیں ،جہاں بچوں اور جوانوں کی موت خود کشی کی وجہ سے ہورہی ہو،وہاں دیگر افراد کی دماغی حالت کیسی ہوگی؟
بچوں سے متعلق تحقیقات اور تربیت کے میدان میں اتنی محنت کے باوجود وہاں ایسی صورت حال کیوں پیدا ہوئی؟
ایسا اس لئے ہوا کہ انہوں نے کسی حد تک معاشی اور سماجی مسائل کا حل تو ڈھونڈلیا مگر اس پر عمل نہیں کر سکے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ساری توجہ بیماری کی تشخیص میں صرف کردی اور علاج کو یکسر نظر انداز کر دیا۔

یہاں میں صرف ایک مثال پیش کرتا ہوں۔چند برس قبل تحقیقات کے نتیجے میں تجویز پیش کی گئی کہ بچوں کے ساتھ وقت گزارا جائے اور ان پر توجہ دی جائے۔اگر ایسا نہیں کیا گیا تو بچے کو بہت سی نفسیاتی پیچیدگیوں کا سامنا ہو گا مگر صورت حال یہ ہے کہ وہاں ہر بچہ اوسطاً سات گھنٹے ٹی وی دیکھتا ہے ۔ان سات گھنٹوں میں صرف پندرہ منٹ والدین بچوں کے ساتھ ہوتے ہیں ۔

دو سے پانچ سال کے بچے ہفتے میں 32گھنٹے ٹی وی یا ویڈیو گیمز وغیرہ کی اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں ۔یہ صرف ایک مثال ہے ،اس جیسی بے شمار باتیں ہیں جن کا خیال نہیں رکھا جاتا۔
ایم آر کوپ مےئرM.R Copmeyerمتعدد کتابوں کے مصنف ہیں،وہ امریکہ کے امیر ترین لوگوں میں شمار کئے جاتے ہیں ،کامیاب بزنس مین ہیں،آٹھ کارپور یشنوں کے صدر اور 102کمپنیوں کے مشیر ہیں ۔

دنیا میں ان کی رائے کی کافی اہمیت ہے۔وہ اپنی کتاب:
کامیابی حاضر ہے (Help is Here)میں بچوں کی تربیت کے متعلق لکھتے ہیں،
”مغرب کے مقابلے میں مشرق میں آج بھی بچوں کی تربیت پر خاص توجہ دی جاتی ہے ۔ہم نے ”شخصی آزادی“کے نظرےئے سے کام لے کر اپنی نسل کو خراب کر دیا ہے ۔یہ پر ابلم نسل (Problem Generation)اپنے لئے،اپنے والدین کے لئے اور معاشرے کے لئے ایک بہت اہم مسئلہ بن چکی ہے ۔

دوسرے تو کیا،ان کے والدین اور اساتذہ بھی ان سے خوف زدہ رہتے ہیں۔“
زندگی ایسی ہی ہے ۔اس کے ایک دو نہیں ،متعدد پہلو ہیں۔جس حصے کی ”پرورش“کریں گے،اس میں نکھار آجائے گا۔جسے نظر انداز کریں گے،اس میں زوال شروع ہو جائے گا۔یعنی جس تناسب سے توجہ،اسی تناسب سے پھل اور جس تناسب سے لاپرواہی ،اسی تناسب سے عذاب۔
ڈاکٹر سید جعفر احمد سیاسب،تاریخ اور تحقیق کے پروفیسر ہیں۔

پی ایچ ڈی ڈگری انہوں نے برطانیہ سے حاصل کی،آپ کراچی یونیورسٹی میں پاکستان اسٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر ہیں۔ اپنی خدمات کی وجہ سے سوشل سائنسز کے شعبہ میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔طویل عرصہ برطانیہ میں گزارنے کے بعد ڈاکٹر جعفر اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ولایت میں اگر کچھ خوبیاں نظر آتی ہیں تو اس کا ایک ہی سبب ہے اور وہ یہ کہ وہاں اخلاقی تربیت اور قانون کی اہمیت پرائمری تعلیم کے دوران سکھادی جاتی ہے۔

پروفیسر سید جعفر احمد مزید کہتے ہیں:
”معاشرے کی اصلاح کے سوتے آئین کی کتابوں سے نہیں،ہمارے گھروں سے پھوٹتے ہیں۔“
کچھ معاملات میں ہم مغرب سے بہتر ہیں اور بہت سارے معاملات میں وہ ہم سے بہتر سہی مگر مجموعی طور پر بچوں کی تربیت کے لئے ساری دنیا فکر مند ہے ۔ایسی صورت میں بحیثیت والدین ہماری ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ہمیں بچوں کی تربیت کے لئے مستعدہونا پڑے گا۔

مستعدہونے کے لئے بہت بڑے بڑے کام کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ جو کام کر رہے ہیں ان میں چھوٹی چھوٹی مثبت تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ایسی تبدیلیاں بچوں کے ساتھ ساتھ والدین ،اساتذہ اورپورے معاشرے کے لئے ٹھنڈی ہوا کاجھونکا ہوں۔
یہ کتاب ایک کوشش ہے اپنی اولاد کی بہتر پرورش کی،انہیں کامیاب،خوشحال اور شکر گزاربنانے کی۔اپنے بچوں سے محبت کا اس سے بہتر اظہار نہیں ہو سکتا کہ ان کی اچھی تربیت کی جائے۔
تاریخ اشاعت: 2019-06-14

Your Thoughts and Comments

Special Myths About Parenthood - Bachon Ki Parwarish Aur Ghalat Nazriat article for women, read "Parvarish Bache Ko Puraitmad Banaye" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.