Thanda Mosaam Aa Giya

ٹھنڈا موسم آگیا

منگل فروری

Thanda Mosaam Aa Giya
بچے کسے اچھے نہیں لگتے،گھرکی رونق بچوں کے دم سے ہی ہوتی ہے۔بچوں کی زندگی کا ابتدائی زمانہ کس قدر دلچسپ ہوا کرتا ہے،اس سے سب والدین اچھی طرح واقف ہوں گے۔بچے کی ہر ہر ادا دل کو بھاتی ہے،اسی طرح اس کی چھوٹی سی تکلیف پر بھی دن رات کا آرام وسکون ختم ہو جاتاہے۔ویسے تو ہر موسم میں بچوں کی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے،کیونکہ موسم کے اُتار چڑھاؤ بچوں پر بہت جلدی اثر انداز ہوتے ہیں۔

تاہم سردیوں کا موسم بچوں کی صحت پر زیادہ اثر انداز ہوتاہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ بچوں میں قوت مدافعت قدرے کم ہوتی ہے۔سردیوں میں نزلہ،زکام ،کھانسی اور بخار میں بچے جلد مبتلا ہو سکتے ہیں۔سردیوں میں ناک بند ہونا،الرجی ،خارش اور نمونیا جیسے امراض میں شدت آجاتی ہے۔زیادہ ٹھنڈک کی وجہ سے ناک،کان،حلق،ٹانگوں اور پسلیوں کی تکلیف میں بھی اضافہ ہو جاتاہے۔

(جاری ہے)

نوزائیدہ بچے موسم کی سختی کو برداشت نہیں کر پاتے،لہٰذا والدین کو چاہیے کہ وہ موسم سرما کے آنے سے پہلے ہی بچوں کی غذا میں ایسی چیزیں شامل کرنا شروع کر دیں کہ جو انہیں تقویت دیں۔ایسی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں،جن کے سبب بیماریوں کی روک تھام ممکن ہو سکے۔نزلہ بخار کی شدت کی وجہ سے نمونیا ہو سکتاہے۔
چھوٹے بچوں کے پاؤں،سر اور سینے کو خاص طور پر گرم کپڑوں سے ڈھانپ کر رکھنا چاہیے۔

بڑے بچوں کو بھی اسی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کہ انہیں مناسب گرم کپڑے پہنائے جائیں۔انھیں ٹھنڈے پانی کے استعمال سے دور رکھا جائے ،بازار کی غیر معیاری اشیاء سے دور رکھا جائے کیونکہ اس سے گلے اور سینے میں انفیکشن ہو سکتاہے۔کوشش کریں کہ شروع ہی سے ایسی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں کہ اینٹی بائیو ٹک دینے کی نوبت ہی نہ آئے کیونکہ زیادہ اینٹی بائیوٹک دوائیں بچوں کی قوت مدافعت کو کمزور کر دیتی ہیں،جس سے بیماریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

شہد اور نیم گرم پانی ملا کر پینے سے انسان سردی کے اثرات سے محفوظ رہ سکتاہے۔بچوں کو سوتے وقت شہد دینا انہیں کئی تکالیف سے محفوظ رکھتاہے ۔سردیوں میں کھجوروں کا استعمال سردی کے منفی اثرات کو کم کرنے میں مفید ہے۔یوں تو ہر موسم میں ہی بچوں کی مالش کرنی چاہیے،لیکن موسم سرما میں بچوں کی جلد کو اضافی توجہ اور زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔

نیم گرم پانی سے غسل کرنے کے بعد سرسوں کے تیل سے بچوں کی مالش کی جائے ،یہ مالش ان کی جلد کو قوت بخشے گی۔
جلد جسم کا حساس ترین حصہ ہے اور بچوں کی جلد تو بہت ہی نرم ونازک ہوتی ہے ،اسی لئے شروع سے اس کی حفاظت کریں۔بچپن سے ہی ان باتوں پر توجہ دینے کے نتیجے میں بچے صحت کے مختلف مسائل میں مبتلا ہونے سے محفوظ رہیں گے۔بچوں کی مالش کم از کم پانچ سال کی عمر تک جاری رکھیں۔

جو مائیں بچوں کو دودھ پلاتی ہیں،انہیں خود بھی بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔لہٰذا وہ سردیوں میں ٹھنڈے پانی ،ٹھنڈے مشروبات اور ٹھنڈی چیزوں سے پرہیز کریں۔مائیں خود بھی گرم کپڑے پہنیں اور خشک میوہ جات کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔ ماں تندرست رہے گی تو بچہ بھی تندرست رہے گا۔
سردیوں میں اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ بچے کا بستر زیادہ دیر گیلانہ رہے،ورنہ وہ بیمار پڑ سکتاہے ۔

اس کے لئے ضروری ہے کہ بچے کی نیند کے دوران اس کا ڈائپر دیکھتی رہیں،اگر وہ گیلا ہو گیا ہوتو اسے تبدیل کر دیں۔سرد ہواؤں اور جاڑوں میں فقط تھوڑی سی احتیاطی تدابیر کے ذریعے ہر ماں اپنے بچے کوبیمار ہونے سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔بچے کے دانتوں کو خراب ہونے سے محفوظ رکھنے کا ایک طریقہ بچے کو رات کے وقت بستر پر یا پھر چُپ کروانے کے لئے بوتل کے استعمال سے گریز کرنا ہے۔

بچے کو رات کے وقت بوتل میں دودھ دینا بچے کے آنے والے دانتوں کے لئے نقصان کا سبب بن سکتاہے۔اگر بچے کو رات کے وقت بوتل کی عادت ہو گئی ہوتو اس کو دودھ کی بجائے صاف پانی سے بھریں۔
غسل اور موئسچرائزنگ
بچے کو غسل دینے کے بعد فوراً باہر لے کر نہیں جائیں۔غسل کے بعد بچے کے پورے جسم پر موئسچرائزر کا استعمال کریں، تاکہ بچے کے جسم میں نمی کی کمی نہ ہو۔

سر سے پاؤں تک لوشن کا استعمال کریں۔
گرم لباس
سرد موسم میں بچے کو گرم ملبوسات پہنانا چاہیے،مگر یہ اس قدر گرم نہ ہوں کہ پسینہ آنے لگے۔بے بی جلد کی مناسبت سے نرم،گرم ملبوسات صحیح رہتے ہیں،کیونکہ سرد موسم میں بچے کی جلد اور بھی نرم ہو جاتی ہے۔اگر بچے کی جلد موسم سے متاثر ہو کر سرخ اور پھٹی نظر آنے لگی ہے تو ڈاکٹر کے مشورے سے ایسی پروڈکٹس استعمال کریں جس میں وٹامن اے اور ڈی موجود ہوں یا ایسی پروڈکٹس استعمال کریں جو خصوصی طور پر بچوں کے لئے بنائی جاتی ہیں یہ پروڈکٹس لوشن کریم یا مرہم کی شکل میں مارکیٹ میں آسانی سے مل جاتی ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2020-02-11

Your Thoughts and Comments

Special Myths About Parenthood - Bachon Ki Parwarish Aur Ghalat Nazriat article for women, read "Thanda Mosaam Aa Giya" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.