Angoor

انگور

جمعہ مارچ

Angoor

گھروں کے دالانوں صحنوں اور بغلی باغوں میں انگور کا پودا بڑے شوق سے لگایا جاتا ہے لیکن عام شکایت یہ ہے کہ پودا تو بڑھ جاتا ہے مگر پھل نہیں لگتا اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ اس کی نگہداشت اور نشوونما کے دوران درست طریقہ استعمال نہیں کیا جاتا انگور مختلف قسم کی آب وہوا میں کامیاب ہوجاتا ہے اور گرم میدانی علاقوں سے لے کر پانچ چھ ہزار فٹ کی بلندی تک آگایا جاسکتا ہے لیکن پھول آنے سے پھل پکنے تک کے عرصے میں بارش ہوجائے تو پھل نہیں رہتا یا پھل پودے پر ہی گل سڑجاتا ہے میدانی علاقوں میں اس کی وہی اقسام کامیاب رہتی ہے جو بارش سے پہلے پہلے پک جائیں سرد اور خشک آب و ہوا انگور کو بے حد راس آتی ہے،
لوکاٹ:اس کے لیے اوسط درجے کی نمدار زرخیز زمین جس میں پانی پوری طرح جذب ہوسکے نہایت موزوںہے لوکاٹ کا پودا ہلکی ریتلی سیرا زمین پھولتا ہے تاہم پانی کے جذب ہونے اور اخراج کے لیے مناسب انتظام ہونا بے حد ضروری ہے لوسے لوکاٹ کے پھل کی نشوونما رک جاتی ہے،اس کے لیے پچیس سے چالیس انچ سالانہ بارش کی ضرورت ہے البتہ سخت گرمی اور سخت سردی نقصان دہ ہے دامن کوہ کے اضلاع اور پشاور ڈویژن لوکاٹ کی کاشت کے لیے موزوں ہے پہاڑی وادیوں میں بھی لوکاٹ کامیابی سے اُگائی جاسکتی ہے میدانی علاقوں میں لوکاٹ کی درمیانی اقسام کاشت کی جاتی ہے۔

(جاری ہے)


انار:یہ منطقہ حارہ اور اس سے ملحقہ خطے کا پھل ہے اور اعلیٰ قسم کا انار نسبتاً خشک علاقوں میں پیدا کیا جاسکتا ہے اس کا پودا زمین کی کم نمی کو برداشت کرسکتا ہے گرمیوں میں کثرت سے پانی کی ضرورت ہوتی ہے آب وہوا خشک ہو تو پھل کا چھلکا پھٹ جاتا ہے گھروں میں اس کا پودا خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے۔
پپیتا:یہ جلدی بڑھنے والا پودا ہے صحنوں ،باغوں اور لانوں میں بڑے شوق سے لگایا جاتا ہے اس کو مرطوب آب و ہوا کی ضرورت ہے لیکن کورا سردی اور ٹھنڈی ہوا اسے سخت نقصان پہنچاتی ہے کورا پڑنے سے پتے جل جاتے ہیں اور پودا پھل نہیں دیتا یہ پودا باغ کے اندرونی حصے میں یا کسی سایہ دار جگہ پر بھی لگایا جاسکتا ہے،
فالسہ:فالسے کا پودا بھی ان چند پھلدار پودوں میں شامل ہے جو ہر قسم کی زمین میں کامیاب ہوسکتا ہے اس کے پودے کے لیے باقاعدہ تھوڑی بہت کھاد فائدہ مند ثابت ہوتی ہے بیر کی طرح یہ بھی سخت جان پودا ہوتا ہے اور ہر قسم کی آب وہوا میں کامیابی سے پھلتا پھولتا ہے اس کے پودے کو شدت کی گرمی خشک ہوا اور معمولی کورے سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا البتہ سخت کورے میں اس کی اوپر والی نرم شاخیں سوکھ جاتی ہے اور موسم بہار میں نئی شاخیں سطح زمین کے قریب سے پھوٹ آتی ہے۔


بیر:یہ سخت جان پودا ہر قسم کی زمین میں کامیاب ہوتا ہے بلکہ جہاں دوسرے پھلدار پودے ناکام ہوں وہاں بیر کی اعلیٰ قسم کا پودا بخوبی نشوونما پاتا ہے البتہ اسے لگاتار کھاد دینے کی ضرورت ہوتی ہے،
کیلا:اس کے سبز چوڑے پتے اور سبزتنا ایک خوشنما منظر پیش کرتا ہے اس کی افزائش جڑوں سے نکلے ہوئے زیر بچوں سے ہوتی ہے جو بڑے پودے کے ساتھ ہوتے ہیں ان کو کسی تیز دھار آلے علیحدہ کرلیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ جڑیں ساتھ آسکیں پودوں کو فروری مارچ یا ستمبر اکتوبر میں دس دس فٹ کے فاصلے پرلگایا جاتا ہے اور ہفتے میں دو بار پانی لگایا جاتا ہے برسات میں پانی نہیں دینا چاہیے اگر پودے جھک جائیں تو انہیں سہارا دیں آج سے چند سال پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ پاکستان میں کیلے کی کاشت ممکن نہیں لیکن اب گرم علاقوں میں کیلے کی اعلیٰ اقسام کامیابی سے کاشت کی جارہی ہے جہاں کورا نہیں پڑتا اور وہ خطہ گرم لو سے بھی محفوظ رہتا ہے اس کے لیے گہری اور زرخیز زمین موزوں ہے کورے اور گرم لو سے بچانے کے لیے کیلے کا پودا باغ کے درمیانی حصے میں لگایا جاتا ہے کیلے کی کاشت کی کامیابی کا انحصار کھاد اور نباتاتی مادے کی مقدار پر ہے اسے ہر سال باقاعدگی سے کھاد دینے کی ضرورت ہوتی ہے،

تاریخ اشاعت: 2018-03-02

Your Thoughts and Comments

Special Gardening Tips And Tricks For Women article for women, read "Angoor" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.