Dilkhush Khushboo Dar Jharia

دلکش خوشبو دار جھاڑیاں

Dilkhush Khushboo Dar Jharia

جھاڑیوں گھروں اور باغوں کو سجاتی ہیں اور ایک دلکش منظر پیش کرتی ہیں جھاڑی اور درخت میں فرق یہ ہے کہ درخت کا ایک تنا ہوتا ہے جھاڑی کے کئی تنے ہوتے ہیں اور قد میں درخت سے چھوٹی ہوتی ہے پاکستان میں دلکش اور خوبصورت جھاڑیوں کی کئی ایک اقسام پائی جاتی ہیں جنہیں گھروں میں گنجائش کے مطابق سجایا جاسکتا ہے جھاڑیوں کی مشہور اقسام یہ ہیں:
رات کی رانی:یہ ایک ایسا سدا بہار اور تیزی سے پھلنے پھولنے والی جھاڑی ہے اور اپنے چھوٹے چھوٹے سفید پھولوں کی مست کردینے والی خوشبو کے باعث بہت مشہور ہیں اس کا قد 5 سے 7 فٹ تک ہوتا ہے اس پر گرمیوں اور خزاں میں پھول آتے ہیں اور گچھوں کی شکل میں کھلتے ہیں رات کی رانی گملوں اور کیاریوں میں قلموںکے ذریعے لگائی جاتی ہیں۔


مروا:برصغیر پاک و ہند میں مروا کی جھاڑیاں اپنے پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو کی وجہ سے بہت مشہور ہیں اور اس کا ذکر اردو ہند شاعری میں بھی ملتا ہے مروا کا پودا دس فٹ تک اونچا ہوتا ہے اور سدا بہار ہوتا ہے اس کے پتے گہرے سبز رنگ کے ہوتے ہیں اور اپنی خوشنمائی کی بدولت فوراً پہنچائے جاتے ہیں اس پر پھول برسات کے دنوں میں کھلتے ہیں اوران کی خوشبو سے ہوائیں بھی معطر ہوجاتی ہیں اس کو مختلف خوبصورت نمونوں میں تراشا جاتا ہے اس کی افزائش بیچ سے ہوتی ہیں اس کے برصغیر کوئی بھی باغ مکمل نہیں سمجھا جاتا۔

(جاری ہے)


بار سنگار:اس جھاڑی کا پودا سخت جان اور روئیں دار پتوں والا ہوتا ہے اس کے سفید پھولوں میں زردانے ہوتے ہیں جو رات کو نکلتے ہیں اور صبح سویرے گرجاتے ہیں ان کی سست کردینے والی خوشبو دور دور تک پھیل جاتی ہیں بارشوں میں اس کی افزائش قلم یا بیچ سے کی جاتی ہیں بارسنگار کا پودا آسانی سے اُگایا جاسکتا ہے۔
چھوٹی گل مہر:اس جھاڑی پر سرخی مائل پھول بکثرت اُگتے ہیں۔


سرخ‘بندے:یہ خوشنما اور سدا بہار گھنے پتوں والا پودا ہے اسے سڑکوں اور روشوں پر آرائش کے لیے لگایا جاتا ہے اور اس کی شاخیں تراش کر اسے مختلف صورتوں میں ڈھالا جاسکتا ہے اس پر لمبوترے پھول آتے ہیں جو نارنجی اور مالٹا رنگ کے ہوتے ہیں۔
پلیو میریا:یہ اپنے خوشبو دار پھولوں مضبوط تنے اور بڑے بڑے پتوں سے بہت مشہور قسم کی جھاڑی ہے اس کی ان گنت اقسام ہیں اس کی ایک قسم مندر درخت یا یگوڈا درخت کے نام سے مشہور ہے جس کے پتے جھڑتے رہتے ہیں لیکن کوئی بھی شاخ پھولوں کے بغیر نہیں ہوتی۔


چنبیلی:یہ پاکستان کا قومی پھول ہیں اور اس کے پودے پر سردیوں میں سست کردینے والے پھول آتے ہیں عورتوں میں چنبیلی بہت مقبول ہے عورتیں اس کے گجرے اور ہار بناتی ہیں اور جوڑوں میں سجاتی ہیں چنبیلی ایک سدا بہار جھاڑی نما پودا ہے۔
انڈیکا:یہ پودا آسانی سے بیچ اور قلم کے ذریعے اُگایا جاسکتا ہے اس کا قد چھ سے دس فٹ تک اونچا ہوتا ہے اس پر مئی سے اگست تک سیدھی قطاروں میں سفید گلابی اور دوسرے کئی رنگوں کے پھول کھلتے ہیں اسے باڑوں اور نباتاتی باڑوں کے لیے موزوں قرار دیا گیا ہے۔


کرنجوا:
باڑ اور حد بندی کے لیے اس کی جھاڑیاں مفید رہتی ہے
کاٹن ایسٹر:سفید پھولوں والی اس جھاڑی کو گھنے پتے لگتے ہیں۔
زرد’ بندے:اس کا اصلی وطن اسٹریلیا ہے یہ ایک خوشنما سدا بہار جھاڑی ہے جسے چھوٹا درخت بھی کہتے ہیں یہ دیواروں اور باڑوں کو پھاند کر نکل جاتی ہے اور اسے بیل کے طور پر بھی لگایا جاسکتا ہے اس کا قد نو فٹ تک ہوتا ہے اور شروع ہی میں اسے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے اس پر زرد رنگ کے پھول کھلتے ہیں جو جون سے اگست تک کھلتے ہیں۔

تاریخ اشاعت: 2018-03-17

Your Thoughts and Comments

Special Baghbani article for women, read " Dilkhush Khushboo Dar Jharia" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.