بند کریں
خواتین مضامینخوبصورتیبال

مزید خوبصورتی

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بال
حسین بننا بھی ایک فن ہے ، جسے جدید سائنسی تحقیق نے بڑا فروغ دیا ہے۔ حسین بننے کے اسرار و رموز سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ پلاسٹک سرجری فزیوتھراپی (Physiotherapy) اور اروماتھراپی (Aromatherapy) نے مختلف التوع ایسی ایسی ایجادات مارکیٹ میں لاکر رکھ دی ہے جن سے استفادہ کرتے ہوئے مختلف نوعیت کی جمالیاتی الجھنوں کو سلجھانے کا اب کوئی مسئلہ نہیں رہا۔
حسین بننا بھی ایک فن ہے ، جسے جدید سائنسی تحقیق نے بڑا فروغ دیا ہے۔ حسین بننے کے اسرار و رموز سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ پلاسٹک سرجری فزیوتھراپی (Physiotherapy) اور اروماتھراپی(Aromatherapy) نے مختلف التوع ایسی ایسی ایجادات مارکیٹ میں لاکر رکھ دی ہے جن سے استفادہ کرتے ہوئے مختلف نوعیت کی جمالیاتی الجھنوں کو سلجھانے کا اب کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ یہاں تک کہ اب کوئی بھی اس دنیا ہیں بدشکل و بدصورت نظر نہیں آسکتا بڑے بڑے شہروں کی فیشن ایبل آبادیوں عالی شان کمپلیکسوں اور بزنس سنٹروں میں بیوٹی سیلون بیوٹی کلینک اور بیوٹی پارلر دیکھنے میں آرہے ہیں جہاں بیوٹی تھراپسٹ اور ڈپلوما ہولڈر چہروں کو میکس فیکٹر کے گوناگوں رنگوں کی دھنک سے سجادیتی ہیں خوبصورت اور حسین بننے کے انمول طریقے اور فارمولے بناتی ہیں اور خوبصورتی برقرار رکھنے کی تکنیک بھی سکھاتی ہیں ۔ زمانہ قدیم سے زمانہ حاضر تک خواتین نے اپنے حسن و جمال کی آرائش و زیبائش کے کئی طریقے اپنائے اور ان میں طرح طرح کی جدتیں پیدا کیں ۔ اگر زمانہ قدیم کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا خواتین نے خود کو نمایاں کرنے کے لیے اس سے بہتر کوئی طریقہ خیال نہ کیا کہ وہ حسن و مستور کو دوبالا کرنے کے لیے بناؤ سنگار اور آرائش جہاں کے نت نئے طریقے ایجاد کریں۔
تاریخ بتاتی ہے جس زمانے میں کاسٹمیٹکس (Cosmetics) ایجاد نہیں ہوئی تھی خواتین اپنے چہرے کو سجانے کے لیے پھولوں ، پتوں ، اور پتھروں کو رگڑ کر دلکش و دلفریب رنگ حاصل کیا کرتی تھیں ۔ مثال کے طور پر حنا مہندی اور وسمہ وغیرہ ، وسمہ بالوں کو سیاہ کرنے کے لیے اور مہندی ہاتھ پاؤں سجانے کے لیے اور یہ دونوں چیزیں آج بھی اسی مقصد کے لیے مستعمل ہیں ۔ زمانہ قدیم میں عورتیں اپنے بالوں وغیرہ کو دلکش بنانے کے لیے طرح طرح کے پھول اور پرندوں کے پر سجالیا کرتی تھیں ۔ آج بھی افریقہ کے کئی ممالک میں بعض ایسے قبائل ہے جن کی خواتین خود کو سجانے کے لیے کئی انوکھے طریقے اختیار کرتی ہیں برصغیر پاک و ہند میں کبھی خواتین خود کو خوبصورت بنانے کے لیے اپنے جسم میں طرح طرح کے پھول بنایا کرتی تھی ۔ اور یہ طریقہ آج ہمارے اکثر دیہات میں رائج ہیں ۔ ایسے پھول یہ اپنی پسند کی کوئی بھی تصویر عام طور ہر ماتھے ، رخساروں ، ہونٹوں ، بازوؤں ، پنڈلیوں ، یا پھر ہاتھوں کی ہتھیلوں پر بنائی جاتی ہیں ۔ لیکن جوں جوں زمانہ ترقی کرتا جارہا ہے یہ طریقے بھی ختم ہوتا جارہے ہیں۔آج کے ترقی یافتہ جدید دور میں اب ضرورت نہیں رہی کہ خواتین اپنے بالوں رخساروں اور ہونٹوں کو خوبصورت بنانے کے لیے پھولوں اور پتوں کے رنگ کا سہارا لیں بلکہ اب تو کسی کا چہرہ بال ہاتھ پاؤں نامناسب ہوں تو میک اپ سے انہیں مناسب بنایا جاسکتا ہے ۔ بیوٹی کلینک اسی مقصد کے حل کے لیے معروض وجود میں آئے ہیں ۔ جب کہ اکثر و بیشتر خواتین اپنا میک اپ اپنے گھروں میں خود کرتی ہیں ۔آرائش جہاں کے یہ فارمولے اور طریقے جو یہاں پیش کیے جارہے ہیں اپنا میک اپ کرنے والی خواتین کو میک اپ گائیڈ کا کام دیں گے۔ ان کی رہنمائی میں وہ آرائش جہاں کے قدرتی اور غیر قدرتی اگاہی حاصل کرسکیں گی ۔ ابتدا سر کے بالوں سے ہورہیہے اور پھر جسم کے مختلف حصوں کو بنانے سنوارنے کے طریقوں پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ سلسلہ پیروں پر ختم ہوگا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے